رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : جاتے ہوئے وہ خود کو یہیں چھوڑ گیا ہے ( کیف انصاری ۔۔ وفات چھبیس اگست 2009 ء )

سر پہ ہوں گی اے مرے بچے غموں کی گٹھڑیاں
اس طرح تجھ کو بلوغت کی سزا دی جائے گی
24دسمبر 1979ءکو کیف انصاری نے جب یہ شعر میری آٹو گراف بک میں تحریر کیا تو میں اس شعر کی معنویت سے نا آشنا تھا ۔ غموں کی گٹھڑیاں اگرچہ اس وقت میرے سر پر موجود تھیں مگر میں ان کا بوجھ محسوس نہیں کرتا تھا ۔ ویسے بھی وہ بے فکری اور لڑکپن کا زمانہ تھا ۔ میں اُن دنوں نویں جماعت کا طالبعلم تھا اور اپنی آٹو گراف بک کو شہر کے معروف شاعروں ، ادیبوں اور صحافیوں کے اشعار اور دستخطوں سے سجانا چاہتا تھا ۔ کیف انصاری اس زمانے میں روزنامہ آفتاب ملتان میں کام کرتے تھے اور روزانہ ان کا قطعہ اخبار کے ادارتی صفحے کی زینت بنتا تھا ۔ بعد کے برسوں میں جب مجھے بلوغت کی سزا دی گئی تو کیف صاحب کا یہ شعر اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ مجھ پر واضح ہو گیا ۔ کیف انصاری نے خود بھی غموں کی یہ گٹھڑیاں عمر بھر انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے سر پر اٹھائے رکھیں ۔ اس احتیاط کے ساتھ کہ کسی لمحے کسی پر اپنے دکھوں اور مشکلات کو آشکار نہ ہونے دیا ۔
26 اگست 2009ءکی صبح جب جمشید رضوانی نے فون پر مجھ سے کیف انصاری کے شعری مجموعوں کی تفصیل دریافت کی تو مجھے دعا اور سوال کیے بغیر معلوم ہوگیا کہ کیف انصاری اب اس دنیامیں نہیں رہے۔ وہ غموں کی گٹھڑیوں کے بوجھ سے آزاد ہو گئے ہیں ۔ ان کی علالت کی خبریں کئی روز سے اخبارات کی زینت بن رہی تھیں ۔وہ گلے کے سرطان کی وجہ سے ایک ماہ سے نشتر ہسپتال ملتان میں زیرعلاج تھے لیکن اخبارات میں خبریں شائع ہونے کے باوجود مجھ سمیت تمام قلمکار ان کی علالت سے”بے خبر“ تھے ۔ بس ایک پروفیسر عامر فہیم تھے جو ایک سعادت مند شاگرد کی طرح اپنے استاد کی دیکھ بھال میں مصروف تھے ۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی کسی پیارے کے ساتھ ہماری آخری ملاقات ہوتی ہے یا ہمیں کسی کے رخصت ہونے کی خبر ملتی ہے تو اسی لمحے ہمیں اس کے ساتھ ہونے والی پہلی ملاقات یاد آ جاتی ہے۔ بچھڑتے لمحات میں پہلی ملاقات کا نقش کیوں ذہن میں ابھرتا ہے ؟ شاید اس لئے کہ آخری ملاقات اور آخری لمحات میں ہم پہلی ملاقات کی خوشگوار یادوں سے اپنے دکھی دل کو آباد کرنا چاہتے ہیں ۔ یا شاید اس لیے کہ آخری ملاقات بھی پہلی ملاقات کا تسلسل ہوتی ہے۔ عموماً پہلی اور آخری ملاقات کے درمیانی وقت میں ماہ و سال کی گرد نے بہت سی چیزوں کو تبدیل کر دیا ہوتا ہے۔ حالات و واقعات تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں ۔ کسی سے ہم جوانی میں ملتے ہیں اور بچھڑتے وقت بڑھاپے یا ادھیڑ عمری کی دہلیز پر ہوتے ہیں ۔ کسی سے ہم ان حالات میں ملتے ہیں کہ وہ غربت ، بے روزگاری اور کسمپرسی کے عالم میں ہوتا ہے لیکن بچھڑتے لمحات میں وہ مسائل سے نکل چکا ہوتا ہے ، خوشحال ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ کیف انصاری صاحب کے ساتھ میری پہلی ملاقات جس ماحول میں ہوئی آخری بار بھی وہ اسی ماحول ، اسی کیفیت اور انہی مقامات میں ملے۔ کھچڑی بال ، شیو بڑھی ہوئی ، جیب کاغذوں سے بھری ہوئی اور ناک پر عینک -پہلی ملاقات میں وہ اخبار کے دفتر میں پروف ریڈنگ کرتے دکھائی دیئے ۔ آخری بار بھی وہ ڈیرہ غازی خان کے ایک مشاعرے میں ملے تو معلوم ہوا کہ اخبار کے دفتر سے ہی آ رہے ہیں ۔
کیف انصاری کا اصل نام خیر محمد تھا ۔ 1920ءمیں غلام محمد انصاری کے ہاں پیدا ہوئے جو ڈیرہ غازی خان کے معروف حکیم اور جراح تھے۔ 1946ءمیں شاعری شروع کی اور خیر محمد سے کیف انصاری بن گئے ابتدائی دور میں سرائیکی شعر کہے ، مزاحیہ شاعری بھی کی لیکن کچھ عرصہ بعد خود کو اردو غزل کی لیے وقف کر دیا ۔ ڈیرہ غازی خان میں اس دور میں شفقت کاظمی ، ندیم جعفری ، آغا اعجاز اکرم، رفیق خاور جسکانی اور نور محمد سائل ادبی محافل میں سرگرم تھے ۔ کیف انصاری نے بہت کم وقت میں اپنا مقام بنا لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد یوپی کے علاقے متھرا سے عامل متھراوی ہجرت کر کے ڈیرہ غازی خان آئے تو کیف انصاری ان کے شاگرد بن گئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیف انصاری کا نام برصغیر کے طول و عرض میں سنائی دینے لگا ۔ برصغیر پاک و ہند کے تمام اہم جرائد میں ان کا کلام شائع ہوتا اور ناقدین علم و ادب سے داد پاتا ۔ 1965ءمیں عبد الرحیم غوری نے ڈیرہ غازی خان سے ہفت روزہ ” غرب“ کا اجراءکیا تو کیف انصاری اس کے ساتھ منسلک ہو گئے ۔ وہ تن تنہا اس اخبار کو تیار کرتے ، خبریں لکھتے ، اداریہ بھی تحریر کرتے ، اخبار کی ترسیل بھی انہی کے ذمے تھی ۔ اس اخبار کے ساتھ ان کی وابستگی مرتے دم تک برقرار رہی ۔
شاعری ان کی پہلی اور آخری محبت تھی ۔ شعرو ادب کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ مثالی تھی ۔ انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن لفظوں کی صحت اور تلفظ کے حوالے سے ان کی رائے حتمی ہوتی تھی ۔ کیف انصاری نے تمام عمر غربت اور تنگدستی میں بسر کی لیکن کڑے حالات میں بھی کسی سے شکوہ کیا اور نہ کسی سے ہمدردی کا تقاضا کیا ۔ ایک انا پرست شاعر تھا جو زمانے کی بے رحمی کا شکار تو رہا مگر حرف شکایت کبھی لبوں پر نہ لایا ۔
راتوں کو جلیں شمعیں ، شمعوں میں قلو پطرہ
پھر ردِ عمل صبحیں ، صبحوں میں قلو پطرہ
گر وصل کی خواہش ہو ، خوابوں کی دعا مانگو
ہیں خواب لئے نیندیں ، نیندوں میں قلو پطرہ
یہ ان کا خوبصورت اسلوب تھا ، الفاظ کا درو بست ، نئے مضامین، منفرد آہنگ ان کی شاعری کا بنیادی وصف تھا ۔ وہ اپنے شعروں میں ایک منظر بناتے ، پیکر تخلیق کرتے تھے۔ چہروں کو تشکیل دیتے تھے اور یہ منظر اور پیکر اتنے خوبصورت ہوتے تھے کہ قاری کو ہمیشہ کے لیے اپنا اسیر کر لیتے تھے۔ اقبال ارشد نے کہا تھا :
تو اسے اپنی تمناؤں کا مرکز نہ بنا
چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اُتر جاتا ہے
چاند کو کیف انصاری نے بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ اقبال ارشد کے شعر کی طرح کیف انصاری کا ایک شعر بھی بہت مقبول ہوا ۔ بہت سے لوگوں کو شاعرکا نام تو شاید معلوم نہ ہو لیکن یہ شعر انہیں ضرور یاد ہو گا ۔
اس لئے بھی رات کو گھر سے نکل آتا ہوں میں
سردیوں کے چاند کو احساس تنہائی نہ ہو
سردیوں کی راتوں میں آوارہ گردی کے دوران صرف چاند ہی نہیں کیف انصاری کا یہ شعر بھی ہمیشہ میرا ہمسفر رہا اور اس شعر نے صرف چاند کو ہی نہیں خود مجھے بھی کبھی احساسِ تنہائی نہ ہونے دیا۔ وہ ایسے بہت سے اشعار کے خالق تھے ۔ آج ان کی یاد میں مضمون تحریر کرنے بیٹھا ہوں تو ان کا کوئی شعری مجموعہ میرے سامنے نہیں ۔ ” زنجیروں کا نوحہ “ اور ” کس نے دیکھا تیرا چہرہ “ کیف صاحب کے بس یہ دو شعری مجموعے شائع ہوئے اور ان مجموعوں کی مناسب انداز میں ترسیل بھی نہ ہو سکی ۔ بہت کم دوستوں کے پاس ان کے یہ مجموعے موجود ہوں گے لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کے بہت سے شعر ، بہت سی غزلیں ہمیشہ ازبر رہیں ۔ ایک اور شعر یاد آ رہا ہے ۔ شعر کا مضمون دیکھیں اور اسلوب دیکھیں ، کتنی خوبصورت بات انہوں نے کس سہولت کے ساتھ کہہ دی ۔ یہ شعر بھی سہلِ ممتنع کی خوبصورت مثال ہے ۔
جاتے ہوئے وہ خود کو یہیں چھوڑ گیا ہے
اس کو تو بچھڑنے کا سلیقہ بھی نہ آیا
وہ ایک درویش انسان تھے ۔ بس اپنی دنیا میں گم رہنے والے انسان ۔ مسلسل بے روزگاری اور تنگدستی نے عمر بھر ان کا ہاتھ تھامے رکھا ۔ وہ چاہتے تو ہاتھ چھڑا بھی سکتے تھے ۔ اپنے لیے آسودگی کا سامان بھی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے کبھی بھی اپنے لئے آسانی تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ ملتان اور گردو نواح میں ماضی میں بہت سے سرکاری مشاعرے ہوئے ، مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ڈیرہ غازی خان کے ایک مشاعرے کے سوا میں نے کبھی انہیں کسی ایسے مشاعرے میں دیکھا ہو ۔ ان کے شاگردوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے ۔ ان میں سے کئی اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہوئے مگر انہوں نے بھی پلٹ کر کبھی استاد کی طرف دیکھنا مناسب نہ سمجھا ۔ ایک دور میں محسن نقوی بھی کیف انصاری سے اصلاح لیتے رہے ۔ پھر ایک وہ زمانہ آیا کہ شاگرد نے استاد کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ محسن نقوی اور کیف انصاری کے درمیان ادبی محاذ آرائی ڈیرہ غازی خان میں ایک طویل عرصہ تک جاری رہی ۔ پھر سیز فائر ہو گیا ۔ محسن نقوی اور کیف انصاری دوبارہ ایک دوسرے سے ملنے لگے ۔ یہ محاذ آرائی ، یہ تنازعات یہ سب ادب کا حصہ ہوتا ہے جسے بعض لوگ انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں ۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے ۔ کیسا دور آ گیا ہے کہ اب تو شہر میں کوئی ڈھنگ کا لڑنے والا بھی باقی نہیں رہا ۔
غربت ، بیماری ، بے روزگاری اور خوبصورت شاعری – کیف انصاری کی یہ عمر بھر کی کمائی تھی ۔ وہ ایک بے کیف زندگی گزارنے کے بعد ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے ۔ انہی کا ایک شعر جو انہوں نے جانے کس کے لیے کہا ہو گا ، رہ رہ کے ہمیں یاد آ رہا ہے۔
جاتے ہوئے وہ خود کو یہیں چھوڑ گیا ہے
اس کو تو بچھڑنے کا سلیقہ بھی نہ آیا

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker