کاشف رفیقکالملکھاری

سلطان سلیمان ، ابراہیم پاشا اور عمران خان : چنگی گل / کاشف رفیق

آہ جس سلطنت کو بچانے کے لیے میں اپنے مخلص دوستوں ،وزیروں ،مشیروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے حکم پر اپنے جلادوں سے مرواتا رہا آخر کار مجھے بھی وہ سب چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ تخت چھوڑنے کا ملال نہیں البتہ اپنوں کو اپنوں کی سازش کے تحت مروانے اور دور کرنے کا دکھ دل میں موجود ہے جیسے ساتھ لیے سلطنت چھوڑ رہا ہوں۔
یہ الفاظ سلطنت عثمانیہ کے دسویں بادشاہ سلطان سلیمان کے تھے.۔ سلطان سلیمان ترک علاقے تربازون میں 6 نومبر 1494 کو پیدا ہوئے سلیمان سلطنت عثمانیہ کے تخت پر 30 ستمبر 1520 سے 6 ستمبر 1566 تک چھیالیس سال حکمران رہے۔ سلطان سلیمان کے معتمد خاص ابراہیم وینش جنگ کے دوران بے سرو پا ہو گئے تقریباً 1514 کا قصہ ہے کہ سلطان بطور شہزادہ دریا کنارے جا رہے تھے کہ سْریلی بانسری کی آواز سنائی دی اور وہ بانسری بجانے والا لڑکا ابراہیم تھا سلیمان بانسری کے سننے کے شیدائی اور ابراہیم بانسری بجانے کا ماہر تھا اسی مشترکہ شوق کی بنیاد پر دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوگئے اور ابراہیم نے سلیمان کے کہنے پر اسلام قبول کرلیا۔سلطنت عثمانیہ کا تاج اپنے سر پر پہننے کے بعد ابراہیم پاشا سلطان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگا اور سب سے پہلے ابراہیم پاشا کو شاہی فالکنر بنا دیا گیا اْس کے بعد شاہی خواب گاہ کی سیکورٹی کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ ابراہیم پاشا کو سلطان سلیمان نے 1523 کو سلطنت کا وزیراعظم بنا دیا اوریوں ابراہیم پاشا تمام افواج کے کمانڈر انچیف بھی تعینات ہو گئے۔
سلطان سلیمان کے معتمد خاص ابراہیم پاشا کی شادی سلطان سلیمان کی بہن خدیجہ سلطان سے ہونے کے بعد دوستی رشتہ داری میں تبدیل ہوگئی تھی۔ ابراہیم پاشا اور سلطان سلیمان کی دوستی اور اعتماد کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کو خاصی وسعت ملی جس سے مخالفین کو خاصا دھچکا لگا اور یوں سازشوں نے بھی جنم لینا شروع کردیا۔لیکن سلطنت عثمانیہ کو نقصان نہیں پہنچا البتہ جس وقت محلاتی سازشوں نے جنم لیا اور سلطان سلیمان کی جانشینی کی لڑائی شروع ہوئی تو سلطان سلیمان کے اقتدار میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔سلطان سلیمان کی بیوی حْورم سلطان تھیں جو مشرف با اسلام ہوئیں حورم خوبصورت ہونے کیساتھ ساتھ شاطر دماغ بھی رکھتی تھیں حورم کی خواہش تھی کہ سلطان سلیمان کا جانشین اْس کا بیٹا ہو جبکہ ابراہیم پاشا سلطان سلیمان کے بڑے بیٹے مصطفے سلطان کو جانشین بنوانا چاہتا تھا یوں اندرونی طاقت کو حاصل کرنے کی لالچ نے حورم اور ابراہم پاشا کو آمنے سامنے کر دیا اور پھر حورم نے سلطان سلیمان کو مختلف طریقوں ، مخبروں اور حیلے بہانوں سے یہ باور کروایا کہ ابراہیم پاشا سلطان سلیمان کے خلاف بغاوت اور سازش کو پروان چڑھا رہا ہے اور مصطفے سلطان بھی اس سازش کا حصہ ہے۔
سلطان سلیمان ابراہیم پاشا سے بھی زیادہ حْورم سلطان پر اعتماد کرتاتھا آخر کار سازشی اور حْورم سلطان کامیاب ہوئے ایک روز سلطان سلیمان نے ابراہیم پاشا کو رات کے کھانے پر بلوایا اور شاہی خواب گاہ میں ہی رہنے کا کہا جس پر ابراہیم پاشا بہت خوش اور بادشاہ سلامت کے مشکور ہوئے لیکن ابراہیم پاشا کو معلوم نہیں تھا کہ وہ منطقی انجام کو پہنچنے جا رہے ہیں اْسی رات سلطان سلیمان کے جلادوں نے شاہی مہمان خانے میں داخل ہو کر ابراہیم پاشا کو ہلاک کردیا۔
یوں حْورم سلطان کی سازش کامیاب ہوگئی اور ابراہیم پاشا کو ترتالیس سال کی عمر میں 15 مارچ 1536 کو دنیا سے رخصت کردیا گیاسازشیوں نے دو بااعتماد دوست ،رشتے دار اور سلطنت چلانے کے
ماہرین کو ایک دوسرے سے ابدی طور پر جدا کردیا۔لیکن اس کے بعد سلطان سلیمان کی ہر روز سلطنت عثمانیہ پر گرفت کمزور سے کمزور ہوتی چلی گئی اور 6 ستمبر 1566 کو سلطان سلیمان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا سلطان سلیمان اکہتر سال کی عمر میں ہنگری میں لقمہ اجل بنے اوراُنکی 28 نومبر 1566کو سلیمانیہ مسجداستنبول میں تدفین کی گئی۔
سلطنت عثمانیہ کے دسویں بادشاہ سلطان سلیمان کی کہانی کو مد نظر رکھیے اور دورِ جدید کے مسلم حکمرانوں پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ کردار تبدیل ہوئے ہیں لیکن سوچ اور حالات تبدیل نہیں ہوئے۔اب عمران خان صاحب کی طرز حکمرانی کو ہی لے لیجیے جس شخص نے مشکل ترین وقت میں ثابت قدمی کیساتھ کندھا لگایا۔دھرنے سے لیکر پاناما کیس اور پھر احتجاجی تحریک تک ساتھ کھڑا رہا۔میڈیا سٹریٹیجی کمیٹی کا پلیٹ فام بنایا حکمرانوں اور پارٹی ترجمانوں کو دلائل اور حقائق فراہم کیے تاکہ پارٹی کا موثر دفاع کرسکیں ۔پارٹی کے سخت ترین فیصلوں کو بھی شائستگی کیساتھ میڈیا میں مینج کیا عسکری اور سیاسی معاملات پر تدبر اورتحمل کی پالیسی کو چلانے میں کردار ادا کیا پشتون تحفظ موومنٹ کے انتخابات میں پارٹی اور ریاست کا جھنڈا بلند کیا دن رات کی پروہ کیے بغیر پاکستان کے سلطان کیساتھ دل و جان سے نبھا کیا لیکن سازشی عناصر مسلسل ایسے مخلص دوست کے خلاف سازشیں تیار کرتے رہے یہاں تک کہ ایک اہم ترین ملاقات کو بہانہ بنا کر قیادت کے کان بھرے گئے اور یوں عمران خان ایک مخلص دوست سے دور کردئیے گئے لیکن شُکر یہ ہوا کہ یہ دوست عارضی طور پر دور ہوا کہیں ابدی طور پر ابراہیم پاشا نہیں بن گیا۔ عمران خان کو لگتا ہے کہ وہ جو سمجھتے ہیں وہی درست ہے لیکن بعض اوقات ایسا نہیں ہوتاکیونکہ جب سیاسی کھلاڑی عوام اور مشیرون سے دور ہوجائے اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف رائے زنی اور مخبروں کا گروہ لگا دے تو سمجھیں حالات پریشان کن بنا دئیے گئے ہیں ہر وقت قربت میں رہنے والوں نے ایوان کے سلطان کو یہ بتانا شروع کردیا ہے کہ آپ کے اپنے آپکے خلاف صف آرا ہیں جس پر انہیں مختلف لوگوں کی مخبریوں سے بھری کاغذی اور زبانی روداد بطور ثبوت پیش کی جا رہی ہو تو کوئی طاقت ور سے طاقت ور سلطان بھی ابراہیم پاشا جیسے دیرنیہ اور مخلص ساتھی پر اعتبار نہیں کرتا۔۔۔
لیکن کپتان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حورم سلطان نما مائنڈ سیٹ اقتدار کے محلات میں بڑی پلاننگ کیساتھ جنم لیتا ہے۔ضروری نہیں یہ خاتون ہی ہو بعض اوقات مردوں میں بھی حورم سلطان جیسا ذہن ہوسکتا ہے جو اپنا سکہ منوانے اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے کسی کی بھی قربانی کروا سکتے ہیں۔۔اور اگر کوئی اُن کا حکم بجالائے اور اُنکے کہے پر عمل کرے تو اُس سے مخلص ،ددرمند،ایماندار،ذہین اور اصول پرست کوئی نہیں ہوسکتا ۔اب رہی بات عمران خان کی تو انہیں سمجھنا چاہیے کہ بائیس سالہ جدوجہد کے نتیجے میں وزارت عظمٰی کی کرسی میسر آئی لیکن سترہ ماہ کے اندر انہیں سیاسی جدوجہد کرنیوالے لوگوں سے پلاننگ کیساتھ دور کردیا گیا،،جس نے عمران کو صحیح اور واضح رائے دی اُس کو افتخار درانی بنا دیاگیاتاکہ حورمی سوچوں کے حامل اشخاص کے اہداف میں رکاوٹ نہ ہول آخرکار اس تمام کا ملبہ مرکزی قیادت پر ہوگا نہ تو اس کا کوئی بیورکریٹ ذمہ دار ہوگا اور نہ ہی کوئی ٹیکنوکریٹ اس کی ذمہ داری لے گا اور اگر پاکستان کا سلطان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ اپنے ابراہیم پاشوں کو خود سے دور کرکے اپنے اقتدار کی کرسی کو مضبوط کررہا ہے تو یہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
خان صاحب کچھ لمحے کے لیے آگے دوڑنا بند کیجیے …ذرا رکیے …ایک لمحے کو سوچئیے یہ کون آپ سے آپکے ابراہیم پاشوں کو دور کررہا ہے؟یہ کون ہے جو آپ کو مخلص لوگوں کے خلاف سازش اور بغاوت کے راگ سنا سنا کر اکیلا کرہا ہے؟یہ کون حورمی سوچ لیے آپ کے اقتدار میں سوراخ کررہا ہے ویسے افتخار درانی کا جانا اقتدار کی کشتی میں پہلا سوراخ ہے یقین نہ آئے تو غور کیجیے!!مت سلطان بن کر اپنا پاشا قربان کیجیے!

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker