خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعود خان کا کالم : آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے

جب کوئی لکھنے والا کسی وقت پاکستان کے اداروں یا معاشرت کا تقابل مغربی ممالک کی معاشرت یا اداروں سے کرتا ہے تو ہمارے بہت سے قارئین اسے ذہنی غلام، عالمِ کفر سے متاثر اور افرنگ سے مرعوب قرار دے کر مطعون کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ انہوں نے فلاں بات ہم سے سیکھی، فلاں چیز ہم سے مستعار لی اور فلاں عادت ہم سے اپنائی۔ یہ سراسر ‘پدرم سلطان بود‘ والا معاملہ ہے۔ اصل بات یہ نہیں کہ ہم نے انہیں کیا سکھایا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آخر ہم نے اپنی میراث کیوں کھوئی؟ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کیوں نظر انداز کیے اور آخر ہم کب تک اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں گے کہ ہم کیا ہوتے تھے؟ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اب بھی اس بات پہ غور کرنے کو تیار نہیں کہ ہم نے اپنی اچھی عادات، اعلیٰ صفات اور درخشندہ روایات سے کیسے منہ موڑا، کس طرح اس سے روگردانی کی اور کس طرح ہم آسمان کی بلندیوں سے قعر مذلت میں آن گرے۔
مسئلہ احساس کمتری کا نہیں، احساس زیاں کا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، یہ جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔ آج اہل مغرب علم و فن میں جو ترقی کر رہے ہیں اس کی مثال دینا دراصل ان کی تقلید نہیں، بلکہ اپنی کھوئی ہوئی میراث کی جستجو ہے۔ مغرب سے مرعوبیت نہیں، بلکہ اپنی عظمتِ رفتہ کی طرف لوٹنے کی آرزو ہے اور بس۔
گزشتہ دنوں وقت کی پابندی کی عادت اپنانے کے حوالے سے لکھا جانے والا کالم دراصل ایک یاددہانی تھی۔ صرف کالم پڑھنے والوں کے لیے نہیں بلکہ شاید خود اپنے لیے بھی۔ میرے ایک عزیز دوست کی مانچسٹر کے قریبی قصبے اولڈھم میں دکان ہے۔ وہاں دکانوں کے کھلنے کے باقاعدہ اوقات کار ہیں اور ان کی پابندی کی جاتی ہے۔ اس پابندی پر عمل دراصل قانون کے سختی سے نفاذ کا نتیجہ ہے۔ وہاں کے وقت کے حساب سے صبح سویرے دکانیں کھلتی ہیں اور سرِ شام بند ہو جاتی ہیں۔ محلوں میں گنتی کے چند Convenience store ہوتے ہیں جن پر ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ سٹور دو قسم کے ہیں۔ کچھ سیون الیون ہوتے ہیں جو علی الصبح سات بجے کھلے ہیں اور رات گیارہ بجے بند ہوتے ہیں۔ دوسرے 24/7 ہوتے ہیں‘ جن سے مراد ایسے سٹورز ہیں جو ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ ڈائون ٹائون وغیرہ میں دکانیں دیر تک بھی کھلی رہتی ہیں مگر یہ مکمل کمرشل سڑکوں پر ہوتا ہے جیسے لندن میں ایجویئر روڈ یا آکسفورڈ سٹریٹ وغیرہ؛ تاہم رہائشی علاقوں میں اس قسم کی آزادی میسر نہیں۔
اولڈھم میں میرے دوست کی دکان جس ٹائون سنٹر میں ہے وہاں دکانوں کے اوقات کار صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہیں اور دو چار منٹ کی دیر سویر کے علاوہ اس سے انحراف ممکن نہیں۔ میرا دوست علیل ہوا تو اس نے دکان کھولنے کی ذمہ داری اپنے بھانجے کے سپرد کر دی جو اسی دکان میں اس کا معاون تھا اور روزانہ دکان کھلنے کے بعد آتا تھا۔ اسے جب دکان کھولنے کی ذمہ داری سونپی گئی تو تاکید کی گئی کہ دکان کو وقت پر کھولے۔ ایک آدھ دن تو اس نے اس تاکید پر عمل کیا؛ تاہم دو تین دن بعد روایتی سستی عود کر آئی اور دکان آدھ گھنٹہ، چالیس منٹ دیر سے کھولی۔ اگلے دو روز مزید یہی کچھ ہوا؛ چنانچہ چوتھے دن ٹائون سنٹر کی انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹس آ گیا کہ آپ گزشتہ تین دن سے مسلسل دکان تاخیر سے کھول رہے ہیں‘ ممکن ہے آپ کو کوئی مجبوری لاحق ہو جس کے لیے انتظامیہ آپ سے اس سلسلے میں اظہار ہمدردی کرتی ہے؛ تاہم ذاتی مسائل آپ کا پرائیویٹ معاملہ ہے جبکہ گاہکوں کی آسانی اور سہولت کو یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور ہم اس سلسلے میں آپ کو انتباہ کر رہے ہیں کہ آپ دکان کو ٹائون سنٹر کی جانب سے دیئے گئے اوقات کار کے مطابق کھولیں کیونکہ گاہکوں کو تاخیر سے دکان کھولنے کے باعث جو تکلیف ہو رہی ہے اس کی آپ کو ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آپ کل سے بروقت دکان کا کھلنا یقینی بنائیں بصورت دیگر آپ کی دکان کی الاٹمنٹ کینسل کر دی جائے گی۔ اس سارے خط کا ایک سطری لب لباب یہ تھا کہ دکان وقت پر کھولیں‘ گاہک آپ کے باپ کا نوکر نہیں کہ آپ کی دکان کھلنے کا انتظار کرتا رہے۔
ادھر عالم یہ ہے کہ دکانیں بارہ بجے کھلنا شروع ہوتی ہیں۔ کورونا کی پہلی لہر کے دوران تھوڑی بہت اچھی روٹین بنی تھی اور دکانیں بروقت بند ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ چاہیے تو تھا کہ یہ سلسلہ مستقل کر دیا جاتا اور دکانوں کے یہ اوقات کار عام حالات میں بھی اسی طرح لاگو رہتے جس طرح کورونا کی پہلی لہر کے دوران ان پر عملدرآمد کروایا گیا مگر اب دوسری لہر‘ جو پہلی سے بھی زیادہ شدت سے اثر انداز ہو رہی ہے‘ کے دوران بھی ہم اپنی اسی پرانی ڈگر پر آ چکے ہیں۔
وہی دن چڑھے دکان کھولنا اور رات گئے بند کرنا۔ دکانداروں کی اس سلسلے میں اپنی ہی منطق ہے اور اتنی احمقانہ کہ ہنستی آتی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ گاہک ہی دیر سے آتا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ گاہک دکان میں آ کر دکاندار پر احسان نہیں کرتا۔ وہ مجبوراً آتا ہے اور اسی وقت آئے گا جب دکان کھلی ہو گی۔ جب کوئی شریف آدمی دن کو دس بجے سنسان اور بند بازار سے ناکام و نامراد واپس جائے گا تو ظاہر ہے وہ پھر بارہ بجے کے بعد ہی بازار میں آئے گا کہ دکانیں تبھی کھلتی ہیں۔ اگر کسی نے اپنے بچے کا یونیفارم لینا ہے اور اسے علم ہے کل اس کے بچے کو بغیر وردی سکول میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، تو بھلے اسے صبح چھ بجے ہی دکان پر کیوں نہ جانا پڑے‘ وہ جائے گا۔ اگر میرا جوتا ٹوٹ گیا ہے تو میں اپنی مجبوری کے باعث دکان پر جائوں گا اور ہر حال میں دکان کے بند ہونے سے پہلے‘ خواہ وہ چار بجے ہی کیوں بند نہ ہوتی ہو‘ پہنچوں گا۔ اس ملک میں بہت کم لوگ ہیں جو شوقیہ دکان پر جاتے ہیں۔ ننانوے فیصد لوگ ضرورتوں کے مارے ہوتے ہیں اور مجبوراً بازار جاتے ہیں۔ اگر ہمیں پتا ہو کہ دکان نے نو بجے کھلنا ہے اور شام پانچ بجے بند ہو جانا ہے تو ہم اسی وقت کے دوران بازار جائیں گے‘ خواہ ہمیں اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ہاں! ان اوقات کو آپ جتنا کھینچتے جائیں گے ہم اسی قدر آرام طلبی سے کام لیتے جائیں گے۔ جب ہم شور شرابا کرکے اپنے سمسٹر کے پرچے چار چھ دن آگے کروا لیتے تھے تب جتنے دن ہمیں فالتو ملتے تھے ہم وہ گھومنے پھرنے میں ضائع کر دیتے تھے اور وہی آخری دن پڑھائی کرتے تھے جو ہمارا معمول تھا۔
شادیوں میں ون ڈش اور رات دس بجے تک فنکشن کا اختتام بھی اب خواب لگتا ہے۔ باٹا پور میں سری پائے کی دکان صبح منہ اندھیرے کھلتی تھی تو دکان کھلنے سے پہلے گاہکوں کی قطار وجود میں آ چکی ہوتی تھی۔ سب کو علم تھا کہ اگر دیر سے پہنچے تو خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔ سری پائے والے کو علم تھا کہ گاہک نے دکان کے اوقات کار کے مطابق آنا ہے نہ کہ اس نے گاہک کی سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے دن چڑھے مزے سے دکان کھولنی ہے۔ دوکاندار وقت پر دکان نہیں کھولتا۔ سرکاری ملازم وقت پر دفتر نہیں جاتا۔ لیڈر وقت پر جلسے میں نہیں آتا۔ مہمان وقت پر تقریب میں نہیں آتے۔ سامعین وقت پر ہال میں نہیں آتے۔ کاریگر وقت پر کام پر نہیں آتا۔ سارا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، اور حکومت (عمران خان کے حامی اس بات کو دل پر نہ لیں یہ رویہ صرف موجودہ حکومت کا نہیں، گزشتہ کئی عشروں سے یہی کچھ چل رہا ہے) دھنیا پی کر سو رہی ہے۔ ایسے موضوعات پر قلم اٹھائیں تو اعتراض کرنے اور طعنے مارنے والے اللہ جانے کہاں سے نمودار ہو جاتے ہیں؟
( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker