خالد مسعود خانکالملکھاری

کفایت شعاری کی مہم اور مولانا فضل الرحمن کا دھرنا۔۔خالد مسعودخان

دو روز قبل جیسے ہی ایک سی کلاس ٹیم نے دنیا میں پہلے نمبر کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کو تیسرے اور آخری میچ میں ہرا کر ”وائٹ واش‘‘ کا کارنامہ سر انجام دیا‘ کافی دیر سے اس شکست کی پیشین گوئی کرکے ایک طرف نہایت ہی تسلی سے بیٹھے ہوئے شاہ جی نے اطمینان بھرا فاتحانہ سانس بھرا اور کہنے لگے: لو جی! یہ قصہ تو ختم ہوا، اب دھرنے پر گفتگو کرتے ہیں۔ شیخ‘ جو ابھی اس شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکلا تھا‘ کہنے لگا: شاہ جی! آپ نہایت ظالم، کٹھور اور بے رحم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک ملک دشمن بھی ہیں۔ آپ کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست کے صدمے سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ آپ کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ آپ کو کتنی چھوٹی سی بات کی خوشی ہو رہی ہے؟ شاہ جی مسکرا کر کہنے لگے: عزیزم! ہوا ہی الٹی چل رہی ہے۔ سب کچھ غلط ہو رہا ہے۔ بینکوں سے سات ارب روپے لوگوں نے نکال کر اِدھر اُدھر کر دیئے ہیں۔ بے ایمان قوم ٹیکس دینے سے انکاری ہے۔ گرمیاں غیر متوقع طور پر لمبی ہو جانے کے باعث کپاس کی فصل کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ حالیہ بارشوں اور آندھیوں نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ کپاس اور مکئی کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اور کپتان کی حکومت میں باقی ہر چیز کے ساتھ ساتھ کرکٹ بھی تباہ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ٹی ٹونٹی انتہائی فاسٹ فارمیٹ کی کرکٹ ہے اور اس کو ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سست روی سے کارکردگی سر انجام دینے کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ مصباح الحق کے حوالے کر دیا گیا ہے۔


نہ اس حکومت میں کاہل کوئی کام کر رہے ہیں اور نہ ہی پھرتیاں دکھانے والے زیادہ دیر نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے شہزاد اکبر صاحب بڑی پھرتیاں دکھا رہے تھے اور لمبی لمبی چھوڑ رہے تھے اللہ جانے آج کل کدھر ہیں؟ کافی دن سے، بلکہ ایک بہت بڑے بزنس ٹائیکون کے ساتھ بریف کیس والی وڈیو کے سوشل میڈیا پر چلنے کے فوراً بعد سے ہی منصہ شہود سے غائب ہیں۔ انہوں نے کافی سارے لوگوں سے کرپشن کے پیسے نکلوانے تھے اور لمبی لمبی وصولیاں کرنی تھیں۔ اب نہ وہ وصولیاں نظر آ رہی ہیں اور نہ وہ خود کہیں دکھائی پڑ رہے ہیں۔ غضب خدا کا آخری ٹی ٹونٹی میچ میں وہ بندہ مین آف دی میچ قرار دیا گیا ہے جو پہلی بار انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی میچ کھیل رہا تھا۔ اللہ جب بے عزتی کرواتا ہے تو پھر وہاں سے کرواتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اب اہم مسئلہ یہ ہے کہ دھرنے کا کیا بنے گا؟


میں نے کہا: شاہ جی! آپ ہی کچھ روشنی ڈالیں کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ شاہ جی کہنے لگے: آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے حیرانی سے کہا: شاہ جی! میں کیا چاہ سکتا ہوں؟ میں بھلا چاہنے والا ہوتا ہی کون ہوں؟ اور آخری بات یہ کہ میرے چاہنے سے کیا ہو گا؟ شاہ جی کہنے لگے: میرا مطلب ہے آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے کیا سننا چاہتے ہیں؟ دھرنے کے حق میں یا دھرنے کے خلاف؟ مولانا فضل الرحمن کی حمایت میں یا عمران خان اینڈ کمپنی کی مدح سرائی؟ میں نے کہا: شاہ جی کچھ خوف خدا کریں‘ میرا مطلب ہے کہ آپ ایمانداری اور دیانتداری سے اپنی رائے دیں۔ اپنا تجزیہ بتائیں۔ حالات کا جائزہ لیں اور دلیل و منطق سے ہمیں کچھ سمجھائیں۔ حالات حاضرہ پر روشنی ڈالیں اور بے لاگ تبصرہ کریں۔


شاہ جی مجھے کہنے لگے: کیا آپ کو پاکستان میں صرف میں ہی ایک دیانتدار نظر آتا ہوں؟ میں نے کہا: شاہ جی اس میں مائنڈ کرنے کی کیا بات ہے؟ خدانخواستہ میں نے آپ کو بے ایمان یا بد دیانت تو نہیں کہا جو آپ ناراض ہورہے ہیں۔ شاہ جی کہنے لگے: ساری قوم دو چار فیصد لوگوں کو چھوڑ کر بے ایمان ہے، بددیانت ہے، امانت میں خیانت کرتی ہے، رشوت لیتی ہے، کرپشن کرتی ہے، مظلوموں کا مال ڈکار جاتی ہے، یتیموں اور بیوائوں کی جائیداد پر قبضہ کر لیتی ہے، کمزور کی زمین ہضم کر جاتی ہے، جائز کام کرنے کے عوض تنخواہ کے علاوہ نذرانہ مانگتی ہے۔ عدالت میں فیصلہ ہونے کے بعد چپڑاسی، ریڈر، اہلمد اور نائب کورٹ وغیرہ مقدمے کے فاتح کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں۔ مجھ سے آپ سے اور عوام سے ٹیکس لینے والے ریستوران، دکاندار، کاروباری ادارے وہ ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بجائے خود ڈکار جاتے ہیں اور اگر سرکار یہ ٹیکس مانگے تو الٹا ہڑتال کی دھمکی دیتے ہیں۔ عدالتوں سے حکم امتناعی لے آتے ہیں اور سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ یہ لوگ خائن ہیں۔ امانت میں خیانت کے مرتکب ہیں۔ مجھ سے وصول کردہ ٹیکس کو آگے دیانتداری سے سرکار کے خزانے میں جمع کروانے کے قانونی طور پر اور اخلاقی طور پر بھی پابند ہیں۔ لیکن کیا کرتے ہیں؟ اس امانت میں خیانت کرتے ہوئے ہضم کر جاتے ہیں۔ پلے سے ٹیکس دینا تو رہا ایک طرف ہم سے سرکار کے نام پر وصول کردہ ٹیکس غتربودکر جاتے ہیں۔ نظامِ عدل کو چاہیے کہ ان کے خلاف امانت میں خیانت کے جرم کے مقدمات قائم کرے۔ لیکن ہو کیا رہا ہے؟ میں نے کیا جرم کیا ہے کہ آپ مجھ سے دیانتداری سے رائے دینے کا مطالبہ کررہے ہیں؟ شاہ جی نے ایک عدد طویل تقریر فرمائی۔


شیخ کہنے لگا: شاہ جی! آپ نے دیانتداری سے کونسی صحیح بات کرنی تھی جو آپ اس طرح گرم ہورہے ہیں۔ آپ کو ایک عدد تقریر نے زور مارا ہوا تھا سو وہ آپ نے ہم پر دے ماری۔ آپ کی دیانتدارانہ اور بددیانتی والی رائے میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا‘ سو جو بھی کہنا چاہیں آپ پوری طرح آزاد ہیں۔ شاہ جی نے شیخ کی بات کوزیادہ لفٹ نہ کرائی اور کہنے لگے: پہلے تو میں وہ رائے دوں گا جومیرے دل کی آواز ہے۔ دھرنے کو مشہور کرنے میں اتنا مولانا فضل الرحمن کا ہاتھ نہیں جتنا پی ٹی آئی کی نابالغ ٹیم کا ہے۔ آزادی مارچ نامی متوقع دھرنے کو بے حیثیت کرنے کے چکر میں شیخ رشید، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا‘ فردوس عاشق اعوان اور حکمران پارٹی کے دیگر خود ساختہ ترجمانوں نے جتنی اہمیت دی ہے اس سے مولانا فضل الرحمن کی دکانداری خوب چمکی ہے۔ ان کے آزادی مارچ کو اتنی اہمیت تو بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ نے نہیں دی جتنی خود پی ٹی آئی نے دی ہے۔ اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس آزادی مارچ کو بے وقعت ثابت کرنے کے خبط نے بذات خود اس مارچ کی مشہوری کر دی ہے۔ لیکن ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پی ٹی آئی کی تمام تر آفرز کہاں گئیں جو حزب اختلاف کو دھرنے کی دعوت دیتے ہوئے کی جاتی تھیں؟ عمران خان خود دھرنے دیتے رہے ہیں۔ اب اس دھرنے کے بارے میں ان کی پارٹی جس طرح روڑے اٹکانے کے، مولانا فضل الرحمن کو کے پی کے تک محدود کرنے کے‘ اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے اعلان کررہی ہے، اس سے ان کی دو عملی ثابت ہورہی ہے۔ عمران خان ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر اپوزیشن والے دھرنا دیں گے تووہ انہیں ہر سہولت مہیا کریں گے۔ انہیں جگہ دیں گے۔ انہیں کھانے پینے کا سامان دیں گے۔ اب تو خیر سے انہوں نے سرکاری لنگر کا باقاعدہ بندوبست کر لیا ہے اور دھرنے کے شرکا کو آسانی سے کھانا فراہم کرکے سیاسی رواداری اور ثواب دارین‘ دونوں کما سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اپوزیشن کو دعوت دیا کرتے تھے کہ وہ انہیں کنٹینر تک فراہم کریں گے‘ وہ دھرنا دینے والے تو بنیں۔ اب دھرنے کی نوبت آنے لگی ہے تو بجائے وعدے نبھانے کے پی ٹی آئی والوں کی ہوا ڈھیلی ہونی شروع ہو گئی ہے۔ کہاں گئیں وہ ساری آفرز؟ کدھر چلی گئیں وہ تمام پیشکشیں؟ کہاں گئی بہادری اور کہاں رہ گئی وہ ساری دلیری اور مروت؟
ایک کونے میں بیٹھے ہوئے شوکت گجر نے دخل دیتے ہوئے کہا: شاہ جی! آپ حالات کو سمجھیں۔ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھیں۔ سابقہ حکمرانوں کے اللوں تللوں کے باعث حکومت کی مالی حیثیت کے بارے میں غور کریں۔ عمران خان کی حکومت نے بچت مہم شروع کر رکھی ہے۔ خانیوال عبدالحکیم موٹروے کے اٹھائیس کلومیٹر والے سیکشن کے لیے پیسے نہیں نکل پارہے۔ ایچ ای سی نے اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف بند کر رکھے ہیں۔ تعلیمی بجٹ میں کٹوتی ہو رہی ہے۔ مستحق ادیبوں کو وظیفے نہیں دئیے جا رہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے کو کھانے پینے کی، کنٹینر کی اور دیگر سہولتوں کی کوئی تک بنتی ہے؟ اگر حکومت اس وقت کفایت شعاری یعنی Austerity کی مہم نہ چلا رہی ہوتی تو ضرور بہ ضرور اپنے وعدے پورے کرتی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker