خالد مسعود خانکالملکھاری

چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کیا کر رہے ہیں؟۔۔خالد مسعودخان

حکمرانی عجب شے ہے اور اس کے عجب رنگ ہیں۔ مثبت اور منفی‘ ہر قسم کے رنگ۔ سب سے کمتر منفی یہ کہ سابقہ حکمرانوں کے اچھے کاموں کو ملیا میٹ کر دینا اور ہر ایسے کام کو بند کر دینا‘ جس سے مخلوق خدا کے دل میں سے سابقہ حکمرانوں کے حق میں کلمہ خیر نکلنے کی رتی برابر بھی امید ہو۔ یہ حرکت کسی ایک حکمران سے وابستہ نہیں۔ جس کو دیکھیں اس کے دامن پر اس منفی حرکت کا داغ ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو کون سا استثنا حاصل ہے؟ لیکن سابقہ حکمران کون سے پاک صاف تھے؟ ان کے دامن پر بھی اس منفی حرکت کے چھینٹے ہی نہیں‘ داغ تھے اور کافی سیاہ قسم کے داغ۔
ملتان کا ”برن سنٹر‘‘ اس کی ایک مثال ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے ملتان میں کارڈیالوجی سنٹر بنا کر اس پورے خطے کے دل کے مریضوں کیلئے بہترین میسر علاج کا اہتمام کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک کے مریض اس دل کی علاج گاہ سے مستفید ہوتے تھے اور اب تک ہو رہے ہیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بلوچستان سے لورالائی‘ کوہلو‘ رکنی‘ بارکھان‘ حتیٰ کہ کوئٹہ تک کے مریض اس دل کے ہسپتال میں اپنے دل کی چارہ گری کیلئے آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے ڈیرہ اسماعیل خان‘ بنوں‘ لکی مروت‘ ٹانک‘ کرک اور وزیرستان تک سے مریض اس ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ اسی دور میں پنجاب حکومت نے اٹلی کی حکومت کے تعاون سے ملتان میں ایک جدید ترین برن یونٹ کے قیام کا منصوبہ بنایا۔ جنوبی پنجاب کی بدقسمتی سمجھ لیں کہ یہاں تیزاب گردی کے واقعات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تیزاب سے متاثرہ افراد جن میں غالب اکثریت خواتین کی ہے‘ کو اس پورے خطے میں جلے ہوئے زخموں کیلئے کوئی باقاعدہ علاج گاہ میسر نہیں تھی۔ جنوبی پنجاب میں آگ اور تیزاب سے جلے ہوئے مریضوں کے لیے نزدیک ترین علاج گاہ نشتر ہسپتال میں ہے۔
اسے بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں چھبیس (اگر یہ تعداد ایک آدھ اوپر نیچے ہو جائے تو اس کیلئے پیشگی معذرت) ٹیچنگ ہسپتالوں میں سے صرف چھ ہسپتالوں میں جلے ہوئے مریضوں کے علاج کی سہولت میسر تھی۔ ان چھ میں سے بھی صرف چار ہسپتالوں میں جلے مریضوں کے علاج کی باقاعدہ سہولت موجود ہے اور یہ چار ہسپتال لاہور کا میو ہسپتال‘ فیصل آباد کا الائیڈ ہسپتال‘ راولپنڈی کا ہولی فیملی ہسپتال اور ملتان کا نشتر ہسپتال ہیں‘ تاہم اگر مزید گہرائی میں جائیں تو ان چار ہسپتالوں میں جلے ہوئے افراد کیلئے علاج کی وہ سہولت دور دور تک نظر نہیں آتی جو حقیقی طور پر ہونی چاہیے۔ پورے پنجاب میں جلے ہوئے مریضوں کیلئے صرف ایک ہی ”سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ علاجگاہ تھی اور وہ واہ کینٹ میں تھی‘ یعنی تھرڈ ڈگری کے جلے ہوئے مریض کیلئے علاج صرف واہ کینٹ میں میسر تھا اور وہاں بھی یہ سہولت محدود تعداد میں ہے۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کینٹ کے برن سنٹر میں جلے ہوئے مریضوں کیلئے صرف پندرہ بستروں کی سہولت میسر ہے۔ یہ اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم کی سہولت ہے۔
کراچی کی نیپئر روڈ کی فاخرہ کا کیس اس سلسلے میں مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر اور وزیراعلیٰ مصطفی کھر کے بیٹے بلال کھر نے دل پشوری کی خاطر اس لڑکی سے شادی کر لی‘ تاہم اس کے تین سال بعد بلال کھر نے اس کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینک دیا۔ پاکستان میں فاخرہ کا علاج ممکن ہی نہ تھا۔ مصطفی کھر ہی کی سابقہ بیوی تہمینہ درانی (حالیہ بیگم شہباز شریف) نے اس کے علاج کی مہم چلائی اور اسے اٹلی بھجوایا۔ وہاں اس کے قریب 39آپریشن ہوئے‘تاہم انصاف نہ ملنے اور چہرہ انتہائی بدنماہونے کے ڈیپریشن میں اس لڑکی نے مارچ 2012ء میں خودکشی کر لی۔
معاف کیجئے! میں ہمیشہ کی طرح کہیں اور چلا گیا۔ پورے جنوبی پنجاب میں جلے ہوئے مریضوں کیلئے مکمل سہولیات سے آراستہ ایک بھی علاجگاہ نہ تھی۔ چودھری پرویزالٰہی کے دور حکومت میں ملتان میں ایک باقاعدہ برن سنٹر بنانے کا منصوبہ بنا اور اس پر کام شروع ہو گیا۔ عمارت بن گئی۔ مشینری کا بیشتر حصہ یہاں پہنچ گیا۔ اب صرف اس ہسپتال کو چالو ہونا تھا‘ لیکن وہی ہوا‘ جس کا میں ابتدا میں ذکر کر چکا ہوں۔ چودھری پرویزالٰہی کی حکومت ختم ہو گئی اور خادم اعلیٰ اقتدار میں آ گئے۔ خادم اعلیٰ نے اس تقریباً تقریباً مکمل ہسپتال کو ایسے نظرانداز کیا‘ جیسے ان کو اس ہسپتال سے کوئی ذاتی دشمنی اور پرخاش تھی۔ وجہ کیا تھی؟ صرف یہ کہ اسے چودھری پرویز الٰہی نے شروع کیا تھا اور اگر اسے مکمل کر دیا تو کہیں اس کا کریڈٹ پرویز الٰہی نہ لے لیں۔ چوہتر بستروں پر مشتمل یہ ”سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر خدا خدا کر کے 2014ء میں چالو ہوا ‘یعنی پرویزالٰہی کے بعد میاں شہباز شریف کی حکومت کی دوسری ٹرم کے شروع ہونے کے ایک سال بعد یہ برن سنٹر فعال ہوا‘ اس طرح اسے بننے سے چالو ہونے تک چھ سال کا عرصہ لگا۔ یاد رہے کہ اس برن سنٹر میں بہاولپور کے قریب الٹنے اور جلنے والے آئل ٹینکر کے باعث جھلسنے والے باون مریض بغرض علاج آئے اور تیزگام کے حادثے میں زخمی اور جلنے والے نو مریض مسافر بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس برن سنٹر میں بغرض علاج منتقل کیے گئے۔
بالکل اسی طرح وزیرآباد کارڈیالوجی سنٹر کے ساتھ ہوا۔ قریب قریب مکمل ہو جانے والے اس دل کے ہسپتال کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو ملتان میں پاک اٹالین برن سنٹر کے ساتھ ہوا۔ پرویزالٰہی کی حکومت 2008 میں ختم ہو گئی۔ تب یہ دل کا ہسپتال تقریباً مکمل ہو چکا تھا‘ لیکن عمارت کھڑی کھڑی برباد ہوتی رہی؛ حتیٰ کہ میاں شہباز شریف نے اس ہسپتال کو ادھر ادھر سے پڑنے والے شور شرابے کے باعث مجبور ہو کر 2014ء میں چالو کیا۔ اس ادارے کو بھی تکمیل سے فنکشنل ہونے میں چھ سال لگ گئے۔ خدا جانے اس دوران کتنے مریض مناسب علاج کی سہولت میسر نہ ہونے کے باعث جان سے گئے ہوں گے۔
یہ تو گزشتہ حکومت کا حال تھا ‘تاہم حکومت نئی ہو یا پرانی۔ اعمال کے اعتبار سے ان میں انیس بیس کا فرق ہو تو ہو‘ لیکن اس معاملے میں یہ فرق بھی نظر نہیں آ رہا۔ ملتان لاہور موٹروے کے شام کوٹ تا عبدالحکیم سیکشن کو جس طرح نیم دلی اورطوعاً و کرہاً مکمل کیا گیا ‘وہ بھی اسی ذہنی کیفیت کا مظہر ہے اور اب راستے کے سروس ایریاز کا بھی یہی حشر ہو رہا ہے۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر میں کسی کے ذمے لگا دیا جاتا تو وہ ازخود ساری تعمیر اور آپریشن کے سارے معاملات اب تک مکمل کر چکا ہوتا‘ لیکن موٹرویز چونکہ نواز شریف کا ”سگنیچر پراجیکٹ‘‘ ہیں‘ اس لیے موجودہ حکومت اس کو اس طرح قبول کر رہی ہے‘ جیسے پہلی بیوی اپنی سوکن کو قبول کرتی ہے۔
یہ ساری چیزیں دراصل مجھے اس لیے یاد آئی ہیں کہ میاں شہباز شریف نے ایک کام بہت اچھا کیا تھا اور وہ تھا؛ شادیوں میں ”ون ڈش‘‘ اور رات دس بجے شادی کی تقریب ختم کرنے کا وقت۔ اب‘ اس پابندی پر کوئی بزدل اور ”تھڑدلا‘‘ شخص ڈر کے مارے عمل کر لے تو اور بات ہے ‘وگرنہ عملی طور پر اس پابندی کا اب کہیں پر عمل دخل نظر نہیں آ رہا۔ میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کم از کم پندرہ بیس ایسی شادیوں میں شرکت کر چکا ہوں ‘جن میں چار پانچ سے لے کر آٹھ دس ڈشوں تک کا اہتمام تھا(میں عادتاً ہمیشہ ایک ڈش ہی کھاتا ہوں) اور ان شادیوں میں وہ سب لوگ بذات خود موجود تھے‘ جنہوں نے اس پابندی پر عمل کروانا تھا۔ اس پابندی کے ختم ہونے کا نہ تو کوئی اعلان ہوا ہے اور نہ کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے ‘مگر یہ پابندی اب قطعاً نافذ العمل نہیں ہے۔ ایک دوست کہنے لگا کہ اپنے بزدار صاحب کی تو خیرسے کوئی بات نہیں کہ شاید وہ دھنیے کی کاشت پر غوروخوض کر رہے ہوں گے‘ مگر سوال یہ ہے کہ یہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کس مرض کی دوا ہیں؟ میں نے کہا :ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا کیا پوچھتے ہو؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے غیر فعال ہونے کے بعد آخر ہمارے فعال اور بااختیار چیف سیکرٹری او رآئی جی پولیس نے آنکھیں کیوں موند رکھی ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker