خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعودخان کا کالم:درخت زندگی ہیں!

جنگلوں کی حالت زار اپنی جگہ لیکن کہیں کہیں امید کے جگنو اور ستارے بھی چمک رہے ہیں۔ جیسے آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور ملتان۔ دس ارب درختوں والی بڑھک کو ایک طرف رکھ دیں تو خیبرپختونخوا میں شجرکاری کی صورتحال امید افزا ہے۔ آزاد کشمیر میں جنگلات کا رقبہ بڑھ رہا ہے۔ اگر اس صورتحال کا عددی جائزہ لیا جائے تو جولائی 2020 سے مارچ 2021 تک خیبرپختونخوا میں پانچ ارب روپے سے زائد رقم شجرکاری پہ خرچ کی گئی‘ اور کم از کم کتابوں میں تیس کروڑ درخت لگائے گئے ہیں۔ اگر ہم اس تعداد کو نصف بھی کر لیں تو یہ ایک حوصلہ افزا تعداد بنتی ہے یعنی پندرہ کروڑ پودے جبکہ پنجاب میں محکمہ جنگلات نے بھی اتنی ہی رقم خرچ کی‘ اور ان کی کتابوں میں یہ تعداد چھ کروڑ درخت ہے یعنی خیبرپختونخوا جتنا خرچہ کرکے بھی اس سے پانچواں حصہ درخت لگائے گئے ہیں تاہم سندھ نے سب کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ وہاں بتیس کروڑ! جی ہاں! بتیس کروڑ درخت لگائے گئے ہیں اور یہ بتیس کروڑ درخت انیس ہزار پانچ سو ہیکٹر یعنی اڑتالیس ہزار ایکڑ میں لگائے گئے ہیں۔ اس حساب سے ایک ایکڑ میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ درخت لگائے گئے ہیں جو شاید ایک ایکڑ میں لگائے جانے والے درختوں کا عالمی ریکارڈ ہوگا۔ پنجاب میں یہ تعداد بارہ سو درخت فی ایکڑ جبکہ خیبرپختونخوا میں تعداد تین سو ستاون درخت فی ایکڑ ہے۔ آزاد کشمیر میں یہ تعداد ایک ہزار درخت فی ایکڑ کے لگ بھگ ہے۔
سب سے خوش کن صورتحال ملتان میں نظر آ رہی ہے اور شہر میں نہ صرف یہ کہ شجرکاری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے بلکہ پہلے کے برعکس اب لگائے جانے والے پودے اپنی شکل و صورت نکال کر نئی کونپلوں، شگوفوں اور شاخوں سے اہل ملتان کو حیران کر رہے ہیں۔ شکر ہے دو ماہ پہلے امریکہ جاتے ہوئے میں نے جو بدگمانی اپنے دل میں پالی تھی وہ غلط ثابت ہوئی ہے اور نتیجہ میری توقعات کے برعکس دکھائی دے رہا ہے۔اگر میں ملتان میں ہوں تو میں روزانہ بلاناغہ پرانے بہاولپور روڈ سے گزرتا ہوں۔ کبھی یہ سڑک اپنے دونوں طرف انگریزوں کے دور کی بنی ہوئی ریلوے افسران کی کوٹھیوں میں لگے ہوئے بلندوبالا اور پرانے درختوں کی وجہ سے شہر کی دوسری سرسبز ترین سڑک تھی۔ پہلی سرسبز ترین سڑک ابدالی روڈ تھی۔ ہمارے بچپن میں اسے ٹھنڈی سڑک کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ پھر اس سڑک کو کمرشلزم کھا گیا اور آج یہ ملتان کی سب سے بے آب و گیاہ سڑک ہے۔ تاہم اس وقت بات پرانے بہاولپور روڈ کی ہو رہی ہے۔ اڑھائی ماہ قبل میں نے گھر واپسی کے دوران دیکھا کہ یہ سڑک جو کھلی کرنے کے چکر میں اپنے کنارے کے بہت سے درختوں سے محروم ہو چکی تھی دوبارہ سے ہری ہو رہی ہے۔ سڑک کے درمیان میں اور سروس روڈ کے ڈیوائیڈرز کے بیچوں بیچ پودے لگ رہے ہیں۔ میں نے گاڑی ایک طرف روکی اور نیچے اتر کر اپنی عادت کے مطابق تفتیش شروع کر دی۔ پودے لگانے کیلئے کھڈا کھودا جا رہا تھا اور مزدور ایک مشین کے ساتھ مزید کھدائی کرتے جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: خیریت ہے! اتنا گہرا کھڈا کیوں کھودا جا رہا ہے؟ کام کرنے والے نے مشین بند کی اور کہنے لگا: سر جی! اوپر نیچے چار سڑکیں ہیں اور ان چار سڑکوں کے نیچے پتھروں والی سڑک ہے اگر یہ پتھر نہ نکالے تو یہ پودے نیچے جڑ نہیں پکڑیں گے اور جل جائیں گے۔ میں نے پوچھا: کون سے پودے لگا رہے ہو؟ وہ کہنے لگا: یہ املتاس کے پودے ہیں۔ میں نے کھڈے میں جھانکا اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف چل پڑا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ پودے بھی اسی طرح جل کر ختم ہو جائیں گے جس طرح ہر سال شجرکاری میں لگائے جانے والے پودے ایک آدھ ماہ کے بعد ہی ماضی کا قصہ بن جاتے ہیں‘ جیسے فیصل آباد تا پنڈی بھٹیاں موٹروے کے درمیان لگائے جانے والے کھجور کے درخت جل گئے ہیں اور اسلام آباد میں لگائی جانے والی کھجوروں کا بھی یہی حال ہوا ہے۔
اڑھائی ماہ بعد دیکھتا ہوں کہ پوری سڑک پر لگائے جانے والے سارے پودے نہ صرف موجود ہیں بلکہ کئی پر تو املتاس کے پیلے پھول بھی کھل چکے ہیں اور صرف پرانے بہاولپور روڈ پر ہی کیا موقوف! ملتان کی کئی سڑکوں پر لگنے والے پودے اس سارے منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ میں کنفیوژ ہوں کہ ان کو کیا کہوں؟ یہ پودوں سے بڑے اور درختوں سے چھوٹے تین تین چار چار سال کے تناور پودے ہیں جو سڑکوں پر لگائے جا رہے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ ان پودوں کا نوے فیصد مخیر حضرات اور اداروں کی طرف سے عطیے کی صورت میں ملا ہے۔ اتوار والے دن میں نے گاڑی نکالی اور دو گھنٹے تک شہر کی سڑکوں پر لگنے والے درختوں کا نظارہ کیا۔ پرانے بہاولپور روڈ کا تو آپ کو بتا ہی چکا ہوں کہ وہاں املتاس کے پیلے پھول گچھوں کی صورت میں لٹک رہے ہیں۔ ایئرپورٹ روڈ اور سیوڑہ چوک سے ہیڈ محمد والا بائی پاس تک پلکن کے بلا مبالغہ سینکڑوں درخت پھل پھول رہے ہیں۔ درمیان میں چند درخت لوگوں نے اکھاڑ بھی دیئے ہیں مگر یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ پودے لگ رہے ہی ہیں، بڑھ بھی رہے ہیں۔ سب سے زیادہ درخت بوسن روڈ اور خانیوال کے درمیان ناردرن بائی پاس پر لگے نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ تقریباً ایک ہزار پلکن کے درخت لگے ہیں اور یہ سارے کے سارے سرکاری خرچ کے بجائے Donation میں ملے ہیں۔ بی سی جی چوک سے بائی پاس چوک تک اور خانیوال روڈ پر بھی لگنے والے درختوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور معصوم شاہ روڈ پر مولسری کے پودے شہر کی اس سڑک کا رنگ روپ تبدیل کر رہے ہیں۔
جنگلوں کی تباہی کی کہانی اپنی جگہ، لیکن جہاں اچھا کام ہو رہا ہے اس کی نشاندہی نہ کرنا بھی خیانت ہوگی۔ ملتان شہر میں ایک عرصے کے بعد پلکن، ایلسٹونیا، ٹرمپنالیا اور مولسری کے ساتھ ساتھ املتاس کے درخت ملتان شہر کے منظرنامے کا حصہ بنے نظر آ رہے ہیں۔ یہ وہ درخت ہیں جو اس دھرتی سے مطابقت رکھنے کے باعث اپنی افادیت ثابت کر چکے ہیں اور کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر ماحولیات کی شکل و صورت بہتر بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے ہارٹیکلچر سے نابلد لوگوں نے درختوں لگانے کے نام پر ماحول سے جو کھلواڑ کیا وہ ہم جنگلی شہتوت کی شکل میں اسلام آباد میں بھگت رہے ہیں۔ لاہور اسلام آباد ایم ٹو شجرکاری کے نام پر کروڑوں روپے ناموزوں اور بیکار درختوں پر ضائع کر دیے گئے۔ حال ہی میں چالو ہونے والی ملتان سکھر موٹروے کے اطراف پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ درختوں کی لوکل یعنی Indiginous ورائٹیز لگائی گئی ہیں۔ شوکت اسلام نے بتایا کہ ملتان سکھر موٹروے پر شجرکاری کا فریضہ فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے ہارٹیکلچر کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر اسلم نے سرانجام دیا اور موٹروے کے ساتھ ساتھ مقامی درختوں کی اقسام لگا کر سینکڑوں کلومیٹر تک پائیدار بنیادوں پر ایک گرین بیلٹ کا اہتمام کردیا ہے۔
میں یہ تیسرا کالم درختوں پر لکھ رہا ہوں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلسل ایک ہفتے سے میں اسی ایک موضوع پر لکھ رہا ہوں؟ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ پانی اور درخت ہماری زندگی کیلئے دو سب سے اہم ترین اور بنیادی چیزیں ہیں۔ فضائی آلودگی کا خاتمہ اور آکسیجن کی مسلسل فراہمی صرف درختوں سے ممکن ہے۔ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک کے ازدحام اور سنگ و خشت کی بے تحاشا تعمیرات کے منفی اثرات کا واحد حل اربن فاریسٹ ہیں۔ جاپانی ماہر نباتات اکیرا میاواکی کی اربن فاریسٹ کی تکنیک میاواکی جنگل کی صورت میں اس مسئلے کا حل ہے۔ لاہور میں تقریباً پچاس کے لگ بھگ اربن فاریسٹ زیر تکمیل ہیں۔ ملتان میں فی الوقت اس قسم کے پانچ جنگل لگانے کا منصوبہ ہے۔ خدا کرے کہ یہ پانچ اربن فاریسٹ مزید اربن جنگلوں کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔ درخت نہ صرف یہ کہ زمین کا حسن ہیں بلکہ یہ کرہ ارض پر زندگی کی علامت بھی ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker