خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعودخان کا کالم:جنگل کی محبت اور خواری …(آخری قسط)

اگر بحرین کالام روڈ پر مجوزہ گیارہ پل بروقت بن جاتے تو یہ سڑک بہت ہی شاندار ہو گئی ہوتی مگر اب میں ان وجوہات پر روشنی ڈال کر اس مکمل غیر سیاسی کالم کو کسی قسم کی سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہتا کہ ان پلوں کا ابتدائی ٹھیکہ‘ ان پلوں کے ٹھیکے پر قانونی کشمکش اور پھر ان کی منسوخی تک ہر قدم پر سیاست نے ”جپھا‘‘ مارا ہوا ہے۔ تاہم اب کام شروع ہو گیا ہے اور امید ہے کہ تھوڑے عرصے میں جب یہ پل مکمل ہو جائیں گے‘ موڑ اور ڈھلوانیں سیدھی ہو جائیں گی تو یہ راستہ علاوہ شہروں اور بازاروں کی تنگی کے‘ بہت آسان ہو جائے گا۔ تاہم کالام سے آگے کی ساری سڑکیں بہت بری حالت میں ہیں۔ اتروڑ اور گیرال والی سڑک تو خیر سدا سے خراب تھی لیکن کالام سے اوشو اور مٹلتان والی سڑک خاصی بہتر ہوتی تھی مگر اس بار تو اس بارہ تیرہ کلو میٹر پر مشتمل راستے نے کڑاکے نکال دیے۔ سڑک کے نام پر ایک کچے راستے کی تہمت تھی اور ہم تھے۔
شوکت علی انجم کو جانے کی بھی جلدی پڑی ہوتی ہے اور واپسی کی بھی۔ جب میں نے کالام سے اوشو جانے کا فیصلہ سنایا تو بطور ”امیرِ سفر‘‘ میرے فیصلے سے کسی نے اختلاف تو نہ کیا مگر شوکت نے دبے لفظوں میں دو تین بار کہا کہ میرا خیال ہے اوشو اگلی بار چلے جائیں گے۔ میں نے یہ احتجاجی جملے ایک کان سے سنے اور دوسرے سے نکال دیے۔ راستہ خراب بھی تھا اور کسی خاص منظرنامے سے عاری بھی۔ بوریت اور تھکاوٹ نے شوکت کے چہرے پر بے زاری سی طاری کی ہوئی تھی۔ بارہ کلو میٹر کا سفر ایک گھنٹے میں طے کر کے جب ہم نے اوشو پل پر گاڑی روکی تو دریا کی روانی‘ خوبصورتی اور پتھروں سے ٹکرا کر جھاگ اڑاتے پانی کے شور نے ایک دم سے اس تصویر میں ایسے رنگ بھر دیے کہ جی خوش ہو گیا۔ پُل کے پار میں نے ایک چار منزلہ ہوٹل کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ میں اس ہوٹل میں پینتیس سال قبل ایک رات کے لیے رکا تھا۔ تب میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مہوڈنڈ جھیل تک جانے کی ناکام کوشش کے سلسلے میں ادھر رکا تھا۔ اپریل کے آغاز میں سڑک کو گلیشیر نے صرف بند ہی نہیں کیا تھا بلکہ درمیان سے ایک پورا ٹکڑا ہی غائب کر دیا تھا۔ ہم واپسی پر ایک رات مٹلتان رک گئے تاہم جاتے ہوئے جب اس ہوٹل پر نظر پڑی تو ہم نے وہیں طے کر لیا تھا کہ واپسی پر ایک رات یہاں گزاریں گے۔ اس پورے علاقے میں تب یہ واحد ہوٹل تھا۔ 1986ء میں اس ہوٹل کو بنے صرف دو سال ہوئے تھے۔ تب یہ ہوٹل صرف دو منزلہ تھا۔ اب اس پل پر کم از کم چار پانچ ہوٹل تو چالو حالت میں تھے اور دو تین زیر تعمیر تھے۔ پرانے ”اوشو ہوٹل‘‘ کی دریا کے ساتھ والی بالکونی پر کھڑے ہو کر قہوہ پی رہے تھے تو شوکت کہنے لگا: اس جگہ پر تو کم از کم ایک رات گزارنی چاہیے۔ عجیب اتفاق ہے پینتیس سال پہلے میں نے بھی اس جگہ پر نظر پڑتے ہی یہی سوچا تھا۔ جب ایک رات یہاں گزار کر واپس جانے لگے تو میں نے دل سے تہیہ کیا کہ یہاں دوبارہ آ کر بھی ٹھہریں گے۔ مگر وقت کی باگ ہمارے ہاتھ میں کہاں ہوتی ہے؟ پانچ چھ سال بعد دوبارہ بھی آیا مگر تب بھی صرف اسی جگہ بیٹھ کر چند لمحے گزارے اور اب پھر دوبارہ آنے کا ارادہ ہے مگر کیا خبر زندگی کی ڈور کتنی باقی ہے اور اس کا آخری سرا کب چھوٹ جائے۔
اوشو ہوٹل کی بالکونی میں کھڑا میں ایک عجب شش و پنج میں مبتلا تھا کہ چھ سات کلو میٹر آگے مٹلتان جائیں یا واپس کالام کو روانہ ہو جائیں۔ مٹلتان سے مجھے ”غنچہ ہوٹل‘‘ کی کشش کھینچ رہی تھی اور میرا دل اندر سے مجھے مٹلتان جانے سے روک رہا تھا۔ چھوٹا سا لکڑی سے بنا ہوا غنچہ ہوٹل۔ اس کا تو نام ہی اتنا خوبصورت تھا کہ دل کو لبھا لے‘ اوپر سے وہاں کا منظرنامہ۔ ہوٹل کی دو اطراف میں کھلے پھول اور سامنے پہاڑوں پر درختوں کے جھنڈ۔ ہم دوسری منزل میں ٹھہرے تھے اور پورے ہوٹل کے واحد مکین۔ رات سردی بہت زیادہ تھی۔ ہوٹل کے خوش مزاج مالک نے کہا کہ فکر نہ کریں۔ ہوٹل کے سارے کمبل فارغ ہیں۔ ہوٹل کی چھت اتنی نیچی تھی کہ احتیاطاً تھوڑا سر جھکا کر چلتے تھے۔ مٹلتان کے پورے گاؤں میں صرف ہم دو پردیسی تھے جو پھولوں کے تختوں کے درمیان گھوم رہے تھے۔ ایسی رات پھر کبھی کسی فائیو سٹار ہوٹل میں بھی نصیب نہ ہوئی۔ دل کا دھڑکا جیت گیا اور غنچہ ہوٹل کی کشش ہار گئی۔ میں نے سوچا اگر وہ خوبصورت چھوٹا سا ہوٹل وہاں پر ہوا ہی نہ تو پھر؟ اور اگر ہوا اور اس کے اردگرد والے پھولوں کے تختے نئے بننے والے ہوٹلوں کی سنگ و خشت تلے دب گئے ہوئے تو بھلا میں نے وہاں جا کر کیا کرنا ہے؟ قہوے کا خالی کپ رکھ کر اٹھتے ہوئے خیال آیا کہ شاید شوکت علی انجم یا شوکت اسلام مجھے کہیں کہ مٹلتان چلتے ہیں تو میں ان کی فرمائش کے بہانے دل کی آواز سنی اَن سنی کر دوں اور مٹلتان چل پڑوں مگر دونوں کو واپسی کی جلدی تھی۔ اگلی رات سرینا سوات میں رات گئے سونے سے پہلے دل کو ایک ملال نے گھیر لیا کہ اگر میں ان دونوں سے کہتا کہ مٹلتان چلتے ہیں تو بھلا انہوں نے کون سا انکار کرنا تھا؟ پھر اس کمبخت دل نے کہا کہ مٹلتان نہ جانے کا ملال تو مٹ جائے گا لیکن اگر وہاں غنچہ ہوٹل نہ ہوتا یا ویسا نہ ہوتا جیسا تم نے اپنے دل میں بسا رکھا ہے تو یہ ملال مرتے دم تک تمہاری جان نہ چھوڑتا۔ دل سے اطمینان بھری صدا آئی کہ ہر کام میں میرے مالک کی طرف سے بہتری ہے اور پھر میں ایسا سویا کہ آنکھ صبح ہی کھلی۔
خیبر پختونخوا‘ شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی جنگل جہاں جہاں بھی بچے ہوئے ہیں خوبصورتی کی مثال ہیں۔ گو کہ تقریباً ہر جگہ ان جنگلات کو ماضی میں سید قاسم شاہ جیسے لوگوں نے جی بھر کر کاٹا مگر امید افزا بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور کے پی میں شجرکاری کی صورتحال ماضی کی نسبت اب کافی بہتر ہے۔ قارئین! میں کالام کے میدانی جنگل کو کیا لکھوں؟ آپ اس جنگل کو جنتِ ارضی کہیں‘ پاکستان کا خوبصورت ترین جنگل کہیں‘ حیران اور مبہوت کر دینے والی جگہ قرار دیں تو اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں مگر یہ سب ماضی کی باتیں ہیں۔ اتنا گھنا‘ پرانا‘ پرسکون‘ بلا مشقت گھومنے اور سیر کرنے والا ایسا دوسرا جنگل تلاش کرنا شاید پاکستان میں آج بھی ممکن نہ ہو مگر جنہوں نے اسے دو عشرے پہلے دیکھا ہے وہ اسے اب دیکھیں تو میری طرح صدمے سے گنگ ہی ہو جائیں۔ سارے جنگل میں درجنوں کھوکھے لگ چکے ہیں جن میں بوتلیں‘ چائے‘ بسکٹ‘ چپس‘ جوس‘ پکوڑے اور کھانا ملتا ہے اور اس کا سارا گند پورے جنگل میں بکھرا ہوا ہے۔ بلامبالغہ سینکڑوں ٹینٹ کرائے کی غرض سے لگائے ہوئے ہیں۔ اوپر سے جگہ جگہ ٹوائلٹس بن چکے ہیں۔ جنگل کا سارا حسن‘ سکون‘ خاموشی اور تنہائی قصہ پارینہ ہوچکی ہے۔ ماحول ایسا ہے کہ لگتا ہے یہ کسی پکنک کا منظر ہے۔ اب یہ جنگل نہیں‘ درختوں بھرا میدان ہے جس میں میلہ لگا ہوا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس جنگل سے پرے ایک کیمپنگ سائٹ بنا دی جاتی جہاں بھلے سے کرائے والے ٹینٹ لگے ہوتے یا ٹورسٹ اپنے ٹینٹ خود لگاتے۔ بجلی ہوتی‘ باتھ رومز اور ٹوائلٹس ہوتے۔ سیاح وہاں رہتے اور جنگل میں آ کر گھومتے۔ چادر بچھا کر بیٹھتے۔ درختوں سے باتیں کرتے اور قدرت کے حسن کو آنکھوں میں سمو لیتے۔ پھر اسے تا عمر انجوائے کرتے۔ کیٹس کی نظم Endymion کے ایک مصرعے ”A thing of beauty is a joy for ever‘‘ کی مانند یادوں کے جھروکے کھولتے اور اس میں قدم رکھ دیتے۔ ویسے ہی جیسے میں گزشتہ پینتیس سال سے اس خوبصورتی کو اپنی دسترس میں پاتا تھا لیکن اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ کاش میں کالام کے پل سے پار نہ جاتا۔ اس جنگل سے محبت کا انجام تو سراسر مایوسی اور خواری نکلا۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker