خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعودخان کا کالم:سالانہ پراگریس رپورٹ

اللہ تعالیٰ مجھے خود پسندی سے محفوظ و مامون فرمائے۔ میں طبعاً ہی دربار سرکار کا آدمی نہیں ہوں اور اسی لئے حکمرانوں سے تھوڑے فاصلے پر رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور حتی الامکان حد تک ملاقات وغیرہ سے گریز کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت سے طبیعت میں نرمی اور اعتدال کی دعا کرتا رہتا ہوں۔ اس کا کرم ہے کہ کچھ بہتری تو آئی ہے مگر بس گزارے لائق۔ شاید ابھی دعائیں قبولیت کے اس درجے پر فائز نہیں ہوئیں کہ میری مرضی کے مطابق نتیجہ خیز ثابت ہوتیں مگر یہ عاجز حق الیقین کی حد تک پُر امید ہے کہ اس رحیم کے ہاں ضرور بہ ضرور بار آور ثابت ہوں گی۔ اس کے ہاں دیر تو ہے لیکن اندھیر نہیں۔ فی الحال تو یہ عالم ہے کہ طبیعت پر اعتبار نہ ہونے کے سبب ایسی ملاقاتوں سے گریز کرتا ہوں کہ جہاں بد مزگی کا اندیشہ ہو۔ ایسی جگہوں سے چار قدم کے فاصلے پر رہنا ہی مناسب ہے۔ ویسے بھی اگر بندے کی ضروریات محدود اور خواہشات محدود تر ہوں تو اسے منتظروں کی قطار میں کھڑے ہونے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟ تاہم یہ بھی کوئی پتھر پر لکیر تو ہے نہیں، کبھی کبھار اس میں تھوڑا استثنا بھی ہو جاتا ہے جیسے یہ عاجز آج سے ایک سال چھ دن قبل پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار سے ملنے پر رضا مند ہو گیا تھا۔ تب اس فقیر کا مطمح نظر صرف اور صرف ملتان اور اس کے باسیوں کی بہتری کے لیے کی جانے والی کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالنا تھا اور اس کے علاوہ کچھ مقصود نہ تھا۔
اب اس بات سے کیا غرض کہ ملاقات کے لیے کس دوست نے مجبور کیا تاہم ایک دو دوستوں کا اصرار تھا اور میں دوستوں کے سلسلے میں اتنا بے لحاظ بہرحال نہیں ہوں جتنا کہ عام طور پر مجھے سمجھا جاتا ہے تاہم دوستوں کی خوشی سے بڑھ کر اس ملاقات کا بنیادی مقصد ملتان اور اہل ملتان کی بہتری تھا۔ اس ملاقات سے قبل میں نے ایک فہرست بنائی جس میں ان چند چیزوں کی نشان دہی کی تھی جن سے اہالیان خطہ کو سہولت میسر آ سکے۔ پھر اس کی ایک کاپی بنا کر ساتھ رکھ لی کہ وزیر اعلیٰ کو زبانی باتیں شاید یاد نہ رہیں‘ خاص طور پر جب کہ ملتان شہر ان کا حلقہ انتخاب بھی نہ ہو تو بہتر ہے کہ اپنی تجاویز کاغذ پر لکھ کر ان کے حوالے کر دوں تاکہ کاغذ کسی فائل کی صورت آگے چلتا رہے اور کسی نہ کسی وقت شاید ان تجاویز کی سنی جائے اور مخلوق خدا کو آسانی میسر آ سکے۔ یہ نو عدد تجاویز تھیں جو درج ذیل ہیں:
1: ملتان تا ہیڈ محمد والا روڈ کو دو رویہ کرنا۔
٭ یاد رہے کہ میانوالی، خوشاب، لیہ، بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبہ خیبرپختونخوا کے لیے ملتان سے یہ مختصر ترین راستہ ہے۔ اس سڑک پر ٹریفک کا بے پناہ بوجھ ہے اور اب یہ سڑک اس ٹریفک کے لیے قطعی طور پر ناکافی ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ یک رویہ سڑک کے دونوں اطراف میں پہلے سے خرید کردہ زمین اس کشادگی کے لیے موجود ہے۔ عجب لطیفہ ہے کہ اس بات کی نشان دہی بھی میں نے ہی کی وگرنہ ملتان کے سرکاری افسروں کو اس کا بھی علم نہیں تھا۔
2: اندرون شہر کے سرکلر روڈ کی کشادگی۔
٭ قدیم شہر کی فصیل کے ساتھ ساتھ موجود سرکلر روڈ کی کشادگی سے اندرون شہر کے لاکھوں مکینوں کو روزانہ کی مصیبت سے نجات مل سکتی ہے۔ عشروں سے اندرون شہر کے لاکھوں باسی اس سرکلر روڈ کی تنگی اور ٹریفک کے بے پناہ دباؤ کے باعث تنگ و پریشان ہیں۔
3: نشتر ہسپتال کے سالانہ مرمتی بجٹ میں اضافہ۔
٭ جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے اور تقریباً ستر سال پرانی بلڈنگ پر مشتمل اس ہسپتال کا سالانہ مرمتی بجٹ محض اڑھائی لاکھ روپے ہے جو دو ہزار مریضوں کے لیے اکتیس وارڈز، پندرہ آپریشن تھیٹرز، آؤٹ ڈور وارڈ اور ایمرجنسی وارڈ پر مشتمل اس روز بروز خستگی کی طرف مائل پرانی عمارت کی مرمت کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ یوں سمجھیں کہ اونٹ میں زیرہ ہے۔
4: نشتر ہسپتال کے غسل خانوں اور ٹوائلٹس کی تعمیر نو۔
٭ نشتر ہسپتال کے غسل خانوں اور ٹوائلٹس کا برا حال ہے اور کوئی معقول آدمی ان کو خوش دلی سے استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور یہ ایک عرصے سے کسی قسم کی بہتری سے محروم ہیں۔
5: نشتر ہسپتال کے لیے پارکنگ پلازہ کی تعمیر۔
٭ نشتر ہسپتال میں گاڑیوں کو پارک کرنے کے لیے موجودہ پارکنگ کی جگہ قطعاً ناکافی ہے اور سارے ہسپتال کی سڑکیں پارکنگ لاٹ کی صورت اختیار کر چکی ہیں‘ حتیٰ کہ مریضوں کو ایمرجنسی وارڈ میں اتار کر گاڑی کو کہیں پارک کرنا ایک ایسا مشکل مرحلہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
6: ملتان میں موجود نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ میں پیٹ سکینر کی فراہمی۔
٭ کیسنر کی ابتدائی سٹیج پر تشخیص کے لیے اس جدید مشینری کی صورت حال یہ ہے کہ فی الوقت کراچی اور لاہور کے درمیان سارے علاقے میں یہ سہولت موجود نہیں اور اس کے لیے جنوبی پنجاب کے کینسر کے مریضوں کو لاہور جانا پڑتا ہے۔ اس مشین کی تنصیب اور اسے چلانے کے لیے ملتان میں ملتان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی ہسپتال موجود ہے جہاں اس کی تنصیب ہو جائے تو اسے فوری طور پر چلایا جا سکتا ہے۔
7: قلعہ کہنہ قاسم باغ کی پبلک لائبریری کی مرمت اور تزئین نو۔
٭ ملتان کی واحد پبلک لائبریری عرصہ دراز سے عمارت اور کتابوں کی حفاظت کے لیے درکار سہولتوں سے محروم ہے اور مسلسل شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اس کی مرمت، توسیع اور نئی کتابوں کی خرید کے علاوہ اس میں باقاعدہ لائبریرین کا تقرر مقصود ہے جو گزشتہ بیس سال سے سرے سے ہی موجود نہیں۔
8: کپاس کے وائرس فری بیج کی جلد از جلد تیاری۔
٭ جنوبی پنجاب کے کاشتکار کی معیشت اور پاکستان کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والی فصل کپاس گزشتہ کئی سال سے پتا لپیٹ وائرس کے باعث برباد ہو گئی ہے اور اس کی بحالی اور حیات نو کے لیے وائرس فری بیج کی فوری تیاری بہت ضروری ہے۔
9: ملتان میں جم خانہ کلب کی تعمیر۔
٭ ملتان شاید پاکستان کا واحد میٹرپولیٹن شہر ہے جس میں سویلین حضرات کے لیے کوئی کلب موجود نہیں ہے۔
اللہ مجھے معاف کرے، یہ واحد پوائنٹ تھا جس میں میری ذات کے حوالے سے دلچسپی بھی شامل تھی۔ میری خواہش تھی کہ ملتان میں کوئی ایک کلب تو ایسا بھی ہو کہ میں اس کی رکنیت کا ارادہ کروں تو کوئی ایسا شخص میرا انٹرویو کرنے نہ آ جائے جسے رپورٹر اور کالم نویس کے درمیان کوئی فرق محسوس نہ ہوتا ہو اور وہ مجھے بیک جنبش قلم سکیورٹی رسک قرار دے کر ممبر شپ کے لیے نا اہل قرار نہ دے۔ کراچی اور لاہور میں تو ایسے کئی کلب موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد، فیصل آباد اور سرگودھا وغیرہ کے علاوہ ہر بڑے شہر میں کم از کم ایسا ایک سول کلب ضرور موجود ہے۔ ویسے تو پھرتیوں کا یہ عالم ہے کہ اسی روز یعنی مورخہ سترہ ستمبر 2020 کو سرکٹ ہاؤس میں ہونے والے جلسے کے دوران ملتان کے ایک ایم این اے کے بھائی اور تحریک انصاف کے عہدے دار کی جانب سے پیدا کی گئی بد مزگی کا بدلہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ جیل میں بند اس ایم این اے کے پراپرٹی بزنس کے مبینہ حصہ دار کو سہولیات بہم پہنچانے والے سپرنٹنڈنٹ جیل کو جلسہ ختم ہونے کے دس منٹ بعد ہی معطل فرما دیا گیا تھا۔ اب میرا بھی حق بنتا ہے کہ میں ایک سال بعد اس ملاقات کے حوالے سے درج بالا تجاویز کا جائزہ لوں۔ (جاری)
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker