کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہید کا کالم:ہم تو ہے بابل کھوئے کی گلیاں

عید کی چھٹیاں، نئی قربانیاں لے گئیں۔ پنڈی کے گاؤں کی نسیمہ اور اسلام آباد کے پوش علاقے کی نور مقدم، کوئی نئی بات نہیں۔ بیٹیاں، ہر زمانے میں قتل ہوتی آئی ہیں۔ یہ انوکھا ظلم تھا کہ لڑکی کا سر کاٹ کر، اسے فٹ بال کی طرح ناخلف امریکہ پلٹ نوجوان، جو پولیس کے ہر سوال کے جواب میں کہتا میرے وکیل سے پوچھو۔ میں امریکی ہوں، عید کے ایک روز پہلے ہوا۔ امر سندھو نے جام شورو سے بتایا کہ سندھ میں بچیوں اور بیاہتا عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس روزانہ ہم جا کر رجسٹر کروا رہے ہیں۔ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان ظالموں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں مگر پچھلے سال سے اب تک ہونے والے زیادتیوں کے سانحات پر کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ چار دن شور مچتا ہے، اخباروں اور میڈیا پر کرائم رپورٹر تفصیلات دیتے ہیں۔ اگلے روز نئے کیس سامنے آجاتے ہیں۔ ساری کہانی فائل میں چلی جاتی ہے۔
عورتوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی، صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں اس وقت تو عالمی اولمپک مقابلوں میں بھی خواتین کے شارٹس اور دوسرے کھیلوں میں پہنے ہوئے لباس پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ خواتین کھلاڑی اعتراض کرنے والوں کو تابڑ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ سونے کے تمغے جیت رہی ہیں اور ہم! پاکستان بھی گزشتہ 20برس سے ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے باقاعدہ تربیت یافتہ کھلاڑیوں کا انتخاب کرتا ہے۔ اس سال کورونا کے باعث صرف دس کھلاڑی بھیجے گئے۔ اس کے ساتھ انتظامی معاملات طے کرنے کیلئے افسر بھی گئے۔ پچھلی دفعہ منتظمین میں سے ایک صاحب اتنے جذباتی ہو گئے تھے کہ خود ہی پاکستان کا پرچم لیکر سربراہی کر رہے تھے اور اس دفعہ ایک خاتون اور ایک مرد کھلاڑی پاکستان کا جھنڈا لئے آگے تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ بس چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سچی بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں ہر شعبے کے کھلاڑیوں کو بچپن سے اس فن میں مہارت حاصل کروانے کی باقاعدہ تربیت کے علاوہ ان کے لئے خاص کھانوں، دوائیوں اور روزانہ ورزش کے کورس ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اسکول تو گلیوں میں کھلے ہوئے ہیں۔ کالجوں میں بھی باقاعدہ ٹرینرز، اگر ہیں بھی تو کھیلوں کا پیریڈ، کینٹین میں بیٹھ کر گزار دیا جاتا ہے۔ وہ بچی جو ٹوکیو بیڈ منٹن میں حصہ لینے گئی، وہ پہلے میچ ہی میں ڈھیر ہو گئی۔ دوسرے کھلاڑی کے بارے میں کہا گیا، اس نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے، حالانکہ میچ ہار گیا۔اب کپتان اگر کھیلوں کے شعبے کو بھی فہمیدہ مرزا پر چھوڑ دے گا تو وہ غریب خود ٹوکیو جانے کے شوق کو دل میں دبائے رہ گئی۔ کبھی ہم اسکواش کے بادشاہ تھے، کبھی ہاکی اور کبھی کرکٹ، اب میرا خیال ہے پہلوانی، وہ بھی امریکیوں کی طرز کی کشتی یا پہلوانی نہ ہو بلکہ گجرانوالہ کے کھانوں کے ساتھ، گجرانوالہ طرز کی کشتی، اگر مشرقی پنجاب کے ساتھ کھیلی جائے تو شاید ہم بادشاہ بن کے نکلیں کہ ہمارے سارے پہلوان گرمیوں میں بھنگ والی سردائی پیتے ہیں، تو ہم بھلا کسی سے کم کیوں رہیں گے۔ سارے تمغے تو چین، جاپان اور امریکی لے جاتے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے1937 ءمیں کہا تھا کہ سیاست میں مذہب کی آمیزش کا کسی ایک کو بھی فائدہ نہ ہوگا۔ سارے مسلمان ملکوں نے مذہب کے نام پر جو گل کھلائے ہیں اس میں سرفہرست خلیجی ممالک تھے۔ مگر انہوںنےاپنی معیشت کو چلانے کیلئے مذہب کا نام نہیں، تیل کا نام اور تیل کے ذریعہ مٹی میں سے سونا نکال لیا۔ یوں تو بادشاہتیں اپنے لئے محل اور عوام کیلئے منہ بند رکھنے میں کامیاب رہیں۔ ہم جمہوریت میں بس اس بات پر فخر کرتے رہے کہ ہم نے ایٹم بم بنا لیا ہے۔ عورتیں اغوا ہوتی، قتل ہوتی رہیں گی۔ میں نے ایک ماہر نفسیات کی تحقیق پڑھی۔ اس تحقیق کو اپنے لفظوں میں بیان کر رہی ہوں۔
زندہ ہیں ماضی کی چھپی عورتیں
ایک ماہر نفسیات تجربے کرتا رہتا تھا
ایک عورت اس کے ہر تجربے کے آزمانے کے باوجودہپناٹائز نہیں ہو رہی تھی
اس کی حیرانی میں کچھ نئے تجربے شامل ہوئے
پھر بھی بے سود
اب وہ مایوس ہو کر پلٹ رہا تھا
کہ وہ بولتی سنائی دی
پلٹ کر دیکھا وہ کوئی نامانوس
زبان بول رہی تھی
تاریخ اور زبان کے ماہرین جمع ہوئے
تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ دو ہزار سال
پرانی کسی افریقی ملک کی زبان بول رہی تھی
ماہرین اب سب یکجا ہو کر
اس کو نت نئے طریقوں سے ہپناٹائز کرنے لگے
اب اس نے گانا شروع کر دیا
محققین پھر سر جوڑ کر بیٹھے
پتہ چلا وہ آسٹریلیا کی ابروجینل
زبان میں، گارہی تھی، زمانہ بھی
صدیوں پرانا تھا
میں وہاں سے ڈرکے اٹھ آئی
اگر میرے اوپربھی تجربے کئے گئے
تو صدیوں سے ظلم سہتی عورتیں
بول پڑیں گی کبھی عبرانی تو کبھی عربی
عورت ایک جنم میں سینکڑوں جنموں
کو اپنے اندر چھپائے زندہ رہتی ہے
اے سائنسدانوں! خلانہیں، زمین کی جیتی جاگتی عورت کے اندرزخموں کو تلاش کرو
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker