تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کیا مریم نواز لندن جا رہی ہیں ؟

عرف عام میں ناکام سیاسی اتحاد سمجھی جانے والی پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہؤا۔ حیرت انگیز طور پر اس میں ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ شریک ہوئے تو دوسری طرف مریم اور نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں نواز لیگ کے بیانیہ والی جنگ کا کوئی تذکرہ نہیں ہؤا حالانکہ ملک بھر کے سیاسی مبصر یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ مستقبل میں مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے خود مختاری والے مؤقف کے مطابق آگے بڑھے گی یا شہباز شریف کے طریقہ کے مطابق اداروں کے ساتھ مفاہمت کرکے، شراکت اقتدار کے کسی فارمولے پر عمل پیرا ہوگی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر شہباز شریف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کسی حتمی اور کارآمد ’ڈیل‘ میں کامیاب ہوجاتے تو نواز شریف کو بھی شاید اس طریقہ پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اس صورت میں جمہوریت کی بالادستی اور مفاہمت کی سیاست کو ساتھ ساتھ چلانے کا پرانا تجربہ جاری رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے ابھی تک اپنا تمام وزن حکمران تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالا ہؤا ہے۔
سرکاری اور نیم سرکاری مبصرین کے ذریعے یہ تاثر قوی کیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف اپنی حکومت کی ناکامیوں کے باوجود اس وقت ملک کی مقبول ترین پارٹی ہے اور موجودہ سیاسی منظر نامہ میں انتخابات جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ شہباز شریف اگر اسٹبلشمنٹ کے تعاون سے مکمل طور سے مایوس ہوچکے ہیں تو بھی انہوں نے کھل کر اس کا اظہار نہیں کیا ہے۔ نواز شریف نے گزشتہ ہفتہ کے دوران پے در پے ٹوئٹ پیغامات میں جمہوری جد و جہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ جدوجہدمحض چند سیٹوں کی ہار جیت کے لئے نہیں بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لئے ہے۔ اور اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ کئے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لئے ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی‘۔
ان گرما گرم اور پرجوش ٹوئٹ پیغامات کے بعد شہباز شریف نے خاموشی اختیا رکی اور اب ایک ایسے اجلاس میں شرکت کی ہے جس میں ان کے بڑے بھائی نواز شریف اور ’باغیانہ سیاست‘ کی سرخیل سمجھی جانے والی بھتیجی مریم نواز بھی شریک تھیں ۔ اس طرح یہ تاثر قوی ہوگا کہ ایک تو شہباز شریف اپنے بھائی سے سیاسی راستہ الگ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ دوسرے اگر اسٹبلشمنٹ نے انتخابات قریب آنے تک امید کی کوئی کرن نہ دکھائی تو شہباز شریف بھی بالواسطہ طور سے ہی سہی جمہوریت کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتے دکھائی دیں گے۔ گویا اصل محرک اسٹبلشمنٹ ہی ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں ملک کی سیاسی بساط پر اپنے پتے کیسے کھیلتی ہے اور کن مہروں کو کہاں جمایا جاتا ہے۔ عمران خان کے اعتماد، سرکاری نمائیندوں کے پرجوش بیانات، گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابی کامیابی اور سیالکوٹ کے ایک ضمنی انتخاب میں سرخرو ئی سے تو اس وقت یہی تصویر واضح ہوتی ہے کہ شاید تحریک انصاف کو ایک نئی باری بھی ملے گی۔ تاہم اسٹبلشمنٹ ایک تو ایک ہی پارٹی کو لگاتار دو باریاں دینے کا خطرہ مول نہیں لیتی ۔ دوسرے سیاسی حالات کا انحصار بڑی حد تک افغانستان میں رونما ہونے والے حالات اور پاکستان پر اس کے اثرات سے بھی ہوگا۔ انتخابات قریب آنے تک اس بڑی تصویر میں انقلابی اور ناقابل یقین تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
اس پس منظر میں پی ڈی ایم کا آج منعقد ہونے والا اجلاس رسمی ہونے کے باوجود اہم تھا۔ اسے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حکمت عملی کے علاوہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے اتحاد چھوڑنے کے بعد باقی ماندہ پارٹیوں میں کسی انتخابی اشتراک کی بنیاد بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ متعدد تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ اب یہ اتحاد کسی انتخابی تعاون کی بنیاد بنے گا اور پی ڈی ایم سے موصول ہونے والے اشارے دراصل نئے انتخابات کی تیاری کا پیغام دیتے ہیں۔ یعنی پاکستان جمہوری تحریک اب اپنے اصل ہدف یعنی موجودہ حکومت کو گرانے کی بجائے، اسے نئے انتخابات میں ہرانے کا مشن لے کر آگے بڑھے گی۔ اس حوالے سے یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کسی طور پی ڈی ایم کی باقی قدامت پسند پارٹیوں کے ساتھ مل کر کسی انتخابی ایجنڈے پر متفق نہیں ہوسکتی تھیں۔ اسی لئے انہوں نے انتخابات کی بازگشت سے پہلے ہی پی ڈی ایم سے نکل کر باہمی انتخابی تعاون کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس رائے کے مطابق جو سیاسی تصویر سامنے آتی ہے اس میں مسلم لیگ (ن) جمیعت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ پی ڈی ایم کی دیگر پارٹیوں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم کے کسی فارمولے پر متفق ہوکر مشکل حلقوں میں کامیابی کی منصوبہ بندی کرے گی۔
تاہم اس حوالے سے سامنے آنے والے چند دوسرے سیاسی اشارے بھی اہم ہوسکتے ہیں۔ یہ خبر سامنے آئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بیک ڈور رابطے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے مسلم لیگ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر وہ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کے خلاف عدم اعتماد لانے پر راضی ہوجائے تو حکمران اتحاد کے ناراض ارکان کی بڑی تعدا د اس عدم اعتماد کو ناکام بنانے میں تعاون پر تیار ہے۔ تحریک انصاف کی صفوں میں دراڑوں کی خبریں نئی نہیں ہیں لیکن حال ہی میں وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہونے والی فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہیٰ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کی غلطیوں کی وجہ سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان دراڑ پڑ چکی ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ فردوس عاشق اعوان سیاسی مایوسی میں ایسے دھماکہ خیز بیان دے کر اپنے ’خاموش‘ رہنے کی کوئی قیمت وصول کرنا چاہتی ہیں یا سیاسی بندر بانٹ اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملہ پر حکمران اتحادیوں میں موجود شکر رنجی اب باقاعدہ تصادم کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کی رائے میں اگر چند فیصد بھی صداقت ہے تو پیپلز پارٹی کے ذرائع سے سامنے آنے والی اس خبر پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہوگی کہ حکومت کے خلاف پنجاب ہی نہیں مرکز میں بھی عدم اعتماد کے لئے نمبر پورے ہوسکتے ہیں۔
ایک اخبار نے تو یہ خبر بھی دی ہے کہ پیپلز پارٹی کو عدم اعتماد کی کامیابی کا اتنا یقین ہے کہ اس نے مسلم لیگ (ن) کو ساتھ ملانے کے لئے وزارت عظمی اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ اسے دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان سیاسی تناؤ کی موجودہ صورت حال میں اس خبر کو زیادہ معتبر نہیں مانا جاسکتا۔ ایک تو اسمبلیوں کی نصف سے زائد مدت گزرنے کے بعد عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کا مقصد یہ ہوگا کہ انہیں اگلے انتخاب میں کامیابی کی ضمانت فراہم کردی جائے۔ دوسرے اگر مسلم لیگ (ن) مرکز و پنجاب میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو پیپلز پارٹی کو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ مسلم لیگ (ن) بھی ایسے عبوری اقتدار میں زیادہ دلچسپی نہیں لے گی۔ تاہم سب سے زیادہ اہم یہ پہلو ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت تبدیل کرنے کے لئے اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی درکار ہوگی۔ یہ حمایت اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے جب عمران خان اسٹبلشمنٹ سے کسی قسم کا بگاڑ پیدا کرنے کا اشارہ دیں یا ان کی کسی پالیسی کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کا اختیار چیلنج ہوتا ہو۔ اس کے دور دور تک آثار نہیں ہیں۔
خبروں کے جھرمٹ میں سب سے دلچسپ اور اہم خبر البتہ مریم نواز کا ٹوئٹ پر یہ پیغام ہے کہ ان کے بیٹے جنید صفدر کے نکاح کی تقریب 22 اگست کو لندن میں منعقد ہوگی لیکن وہ حکومتی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکیں گی۔ ان کا نام ای سی ایل پر ہے ۔ مریم نواز نے اپنے بیٹے کے نکاح کی خبر دیتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ’میں جیل میں تھی جب میری والدہ کی وفات ہو گئی۔ اور اب میں اپنے بیٹے کی خوشیوں میں بھی شریک نہیں ہو سکوں گی۔ لیکن اس کے باوجود حکومت سے باہر جانے کے لیے درخواست نہیں کروں گی‘۔ بظاہر یہ پرعزم سیاسی لیڈر کا ایثار اور حوصلہ سے بھرپور پیغام ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ ان کے وکلا عدالت سے ریلیف لینے کی کوشش کریں گے کہ مریم کو دو ہفتے کے لئے اپنے بیٹے کے نکاح کی تقریب میں شرکت کے لئے جانے کی اجازت دی جائے۔
عین ممکن ہے کہ ملک کی عدالتیں ایسی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیں کہ وہ بیرون ملک چلی گئیں تو اپنے والد کی طرح واپس نہیں آئیں گی۔ اس طرح یہ کہانی آگے نہیں بڑھ سکے گی تاہم اگر انہیں یہ ’عدالتی ریلیف ‘ مل گیا تو کہانی ایک نیا اور دلچسپ موڑ لے سکتی ہے۔ مریم نواز پاکستان میں نواز شریف سے منسوب جمہوری بیانیہ کے ہراول دستہ کی سربراہ ہیں۔ ان کے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی حکمت عملی کے مطابق ہی آگے بڑھے گی۔ مریم کو منظر سے ہٹانے کے بعد یہی پیغام عام ہوگا کہ شہباز شریف کی کوششیں بار آور ہورہی ہیں ۔ اور تحریک انصاف جتنا دعویٰ کرتی ہے، اب وہ اتنی بھی لاڈلی نہیں ہے ۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker