شاکر ڈیئر خوش رہو
جس دن میں نے تمہیں خط پوسٹ کیا اسی روز تمہارا خط بھاگتا دوڑتا میرے پاس پہنچ گیا۔گویا تمہاری توقع کے عین مطابق دونوں خط یکے بعد دیگرے مجھے ملے۔ اس مرتبہ میں نے سعودی ڈاک ہرکاروں کی مستعدی پر خوش ہونے کی بجائے گلبرگ پوسٹ آفس والوں کو دعائیں دیں ۔آئندہ کوشش ہوگی کہ وہیں سے خط پوسٹ کروں۔ جہاں تک میری سمجھ دانی نے کام کیا ہے یہ ڈاک خانہ ایئرپورٹ کے قریب ہے(باقی ڈاک خانوں کی نسبت) اس لیے وہاں سے ڈاک براہ راست سعودی عرب روانہ ہوتی ہے۔ میں نے خط کے جواب میں جان بوجھ کرتاخیر کی اور اس دوران ملتان سے ہوآیا۔ ۔
پہلے تمہارے خط کاجواب پھرباقی باتیں۔ گورنر مخدوم سجاد کا ایک اور لطیفہ سنو۔ موصوف نے ماما جی ( غضنفر مہدی) کو اپنا پریس سیکرٹری مقرر کیا ۔مہدی صاحب نے انکار کر دیا ۔ ان کاموقف یہ ہے کہ مخدوم صاحب انہیں انیسویں گریڈ میں بلارہے ہیں یہ تو ان کے پاس پہلے ہی موجودہے۔ اگروہ مجھے بیسواں دے دیں تو میں لاہور آسکتا ہوں اور میرا موقف یہ ہے کہ بیسواں گریڈ تو خود مخدوم صاحب کو نہیں ملا وہ انہیں کیسے دلوادیں۔ ۔مہدی کے نام پر سبطین لودھی یادآگیا۔خیر چھوڑو ، وہ” انتخاب “چھاپنے کے لیے کسی سے مشورے کررہا ہے۔طویل قصہ ہے باقی باتیں کرتے ہیں۔اس وقت میں تمہیں بلب کی روشنی میں خط لکھ رہا ہوں لیکن یہ لال ٹین سے بھی کم ہے۔وجہ یہ ہے کہ زندہ دل قوم جشن آزادی منارہی ہے۔آج ابھی گیارہ اگست ہے مگر شہر کی اہم عمارتیں چراغاں کی زد میں ہیں اورہم بستی نشین اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بجلی کی جس صورت حال کا میں نے ذکر کیا اس کی بدولت رات کوخط مکمل نہیں ہوسکا۔ بجلی بالکل غائب ہوگئی تھی۔ پنکھے کے بغیر کال کوٹھڑی میں جس طرح رات بسر کی اس کا اندازہ تم سعودی عرب میں ایئرکنڈیشنر میں رہنے والے نہیں کرسکتے۔سنا ہے کہ قبلہ وزیراعظم نے رات کو ہتھیارڈال دیئے اور مسلم لیگ کے جلسے سےWithdraw کرلیا۔
بھائی میں بخوبی اندازہ کرسکتاہوں کہ29گھنٹے ایک کمرے میں محبوس رہ کر تمہاری کیا کیفیت ہوسکتی ہے۔ یہ سوچ کر اپنی کال کوٹھڑی بھی مقبوضہ کشمیر جیسی جنت محسوس ہوتی ہے۔ میں بھی تمہیں طویل خط وقت گزارنے کے لیے لکھتا ہوں ۔دل کی باتیں بھی ہوجاتی ہیں اوررات بھی کٹ جاتی ہے۔تم نے لکھا کہ تم جہاں رہتے ہو وہاں پاکستانی آزادی سے نہیں پھرسکتے لیکن بھائی آزادی تو ہمارے ملک میں بھی یوم آزادی کی حد تک رہ گئی ہے۔محسن گردیزی کو تم جانتے ہو۔وہ شریف آدمی رات کو گھرجارہا تھا کہ راستے میں دھرلیاگیا ۔پولیس اس کوتھا نے لے گئی ۔تمہارے گھر کے ساتھ والے تھانہ جلیل آ باد میں اس کی خوب پٹائی کی ۔خنجر ”برآمد“ کرلیا۔9سائیکلوں کی چوری بھی منوالی۔وہ بیچارہ بھی مانتا چلاگیاآخرکیا کرتا۔ ہمیں معلوم ہوا تو دوستوں کوجمع کیا ۔کرامت گردیزی ،کونسلر فدا حسین ،کونسلر معید شیخ، خلیل بھٹی، فہیم اصغر، سلمان غنی، سید سلطان احمد سمیت بہت سے لوگ تھانے گئے ۔سب نے گواہی دی کہ بندہ بے گناہ ہے اور بہت شریف آدمی ہے۔مگر چونکہ پولیس اسے مارمار کرادھ موا کرچکی تھی اس لیے چھوڑنے سے گھبرا رہی تھی۔پھرانہوں نے دو تین دفعات لگا کر اس کے خلاف پرچہ کاٹا ۔سنا ہے آج اس کی ضمانت ہونا تھی۔اس ملک میں کسی کو گھومنے پھرنےکی بھی اجازت نہیں۔ ہاں چوروں ، ڈاکوﺅں کے لیے یہ واقعی آزاد ملک ہے۔ وہ سب مسلم لیگ کے رکن ہیں اور انہیں ”گرین کارڈ“ بھی ملا ہوا ہے اور گرین کارڈہولڈر کے خلاف پولیس مقدمہ درج نہیں کرسکتی۔
ایک دن لاہور میں میں او ر قمررضا شہزادبھی دھر لیے گئے تھے۔ قمر کے پاس وکالت والا کارڈ تھا اس لیے بچت ہوگئی۔ ورنہ انہوں نے مشکوک سمجھ کرہمیں تھانے لے جاناتھااورچرس بھی ”برآمد“کرالیناتھی۔قصور ہمارا صرف یہ تھا کہ اقبال ٹاؤن کی ڈونگی گراﺅنڈ میں بیٹھے ٹھنڈی ہوا کے مزے لے رہے تھے اور گپیں ماررہے تھے۔
اب ملتان کاقصہ سنو۔ میں کل ہی ملتان سے واپس آیا ہوں اور کل شام عیدالاضحی کی چھٹیوں پر دوبارہ جارہاہوں۔باقی سب خیریت ہے ۔ایک روز میں نے تم سے بات کرنے کے لیے سعودی عرب کے لیے ٹیلی فون کال بک کروائی مگرر ابطہ نہ ہوسکا ۔آٰپریٹر نے کہاکہ لائن کلیئر نہیں ہے۔تمہیں وہاں گئے ہوئے ایک سال ہوگیا ہے۔میرا یہ خط تمہیں عید کے بعد ہی مل سکے گا اس لیے باسی عید مبارک ہو ۔سعید بدر حج کے لیے وہاں آئے ہوئے ہیں۔ ان سے ملاقات ہو تو میرا سلام کہنا۔کل جو خط لکھناشروع کیا تھا آج مکمل ہوسکا ۔لو ہوتل بابا کانیاکالم بھی پڑھ لو۔
والسلام ،تمہارا رضی
12اگست 1986

