کالملکھاریلیاقت علی ایڈووکیٹ

لاہور ہائی کورٹ کے نئے بینچوں کی راہ میں کون رکاوٹ ہے ؟ ۔۔ لیاقت علی ایڈووکیٹ

لاہور ہائی کورٹ کے مزید بنچز( ملتان،بہاولپوراورراولپنڈی کے علاوہ) کے قیام کے مطالبے میں روزبروزشدت آتی جارہی ہے۔ پہلے پہل یہ مطالبہ بار ایسوسی ایشنز کے اجلاسوں میں منظور ہونے والی قراردادوں تک محدود تھا لیکن متعلقہ حلقوں کی طرف سے اس مطالبے کو پذیرائی نہ ملنے کی بنا پروکلا اسے سڑکوں پر لے آئے ہیں۔ گذشتہ چند مہینوں سے سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے وکلا متعدد مرتبہ ہڑتال اورعدالتوں کی تالہ بندی کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی تک ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ چند روز قبل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس انوارالحق نے وکلا نمائندوں سے ایک ملاقات میں گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں رجسٹری کاؤنٹرقائم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن وکلا نے اس کو مسترد کرتے ہوئے بنچزکے قیام تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے مزید بنچز کے قیام کی راہ میں کیوں اور کون کاوٹ ہے۔ اس کا تعین کرنا ضروری ہے۔
لاہور ہائی کورٹ مختلف مراحل طے کرتے ہوئے موجودہ شکل میں اپریل 1919میں قائم ہوئی تھی۔ان دنوں اس کا دائرہ اخیتار دہلی تک تھا۔ابتدائی طورپر اس کے ججوں کی تعدادپانچ تھی۔ کسی مقامی شخص کا جج بننا یا پھر چیف جسٹس مقرر ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ سر شادی لعل وہ پہلے ہندوستانی تھے جو لاہور کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے تھے۔ وہ چودہ سال(1934-1920)لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے تھے۔لاہور ہائی کورٹ کے پہلےمسلمان چیف جسٹس سر عبدالرشید تھے جو دوسال(1948-1946)تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔ لاہورہائی کورٹ کو 1956 میں ون یونٹ بننے پرمغربی پاکستان ہائی کورٹ بنادیا گیا تھا اورسندھ ہائی کورٹ اور پشاور کے ججز اس کے جج مقررہوئے تھے۔جب جنرل یحیی خان نے ون یونٹ توڑ کر صوبے بحال کیے تو ایک دفعہ پھرلاہورہائی کورٹ کا سابقہ سٹیٹس بحال ہوگیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مختلف سیاسی تحریکوں میں اہم رول ادا کیا جس کی وجہ سے حکمرانوں کی ناراضی اور حمایت اس کو ملتی رہی ہے۔ بھٹو کے خلاف نظام مصطفے تحریک میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن پیش پیش تھی لیکن ملک میں مارشل لا نافذ ہوگیا تو اس کے کچھ ہی عرصہ بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ضیا آمریت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی۔ عابد حسن منٹو، سید افضل حیدر، اعتزازاحسن، ملک سعید حسن کی قیادت میں آل پاکستان وکلا رابطہ کمیٹی بنائی گئی جس نے پورے ملک میں وکلا کو مارشل لا کے خلاف منظم و متحرک کیا۔ وکلا کی اس تحریک سے پریشان فوجی جنتا نے وکلا کی قوت و طاقت کو توڑنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ لاہور کے علاوہ مزید بنچزبنانے کی سازش کی۔ ملتان، بہاولپوراورراولپنڈی میں یہ بنچز قائم کرنے کا مقصد عامتہ الناس کی بھلائی سے زیادہ وکلا تنظیموں اوران کی مزاحمتی قوت کو تقسیم کرنا اوران کی مارشل لاء مخالف سرگرمیوں کے سامنے بند باندھنا تھا۔مارشل لاء حکومت کی طرف سے کیا گیا یہ فیصلہ ان تینوں شہروں میں درمیانے طبقے کی تشکیل و وسعت میں معاون ثابت ہو اورجو فیصلہ تقسیم کی غرض سے کیا گیا تھا وہ وکلا میں مزید اتحاد اور یک جہتی کا باعث بنا اوروکلا نے ضیا آمریت کے خلاف بھرپوراورمربوط انداز میں جدوجہد میں حصہ لیا۔
گزشتہ چند دہائیوں میں پنجاب کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور تازہ مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی گیارہ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ پنجاب میں کئی نئے اضلاع اور تحصیلوں کا اضافہ ہوا ہے۔ آبادی میں اٖضافے کی بدولت مقدمات کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت حال میں گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سرگودھا کے وکلا ان شہروں میں لاہور ہائی کورٹ کے بنچز قائم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا فل بنچ وکلا کے اس مطالبے کو 2016 میں مسترد کرچکا ہے۔ اجارہ داروکلا اوروکلا تنظییمں جن کے مفادات ہائی کورٹ کے مزید بنچز کے قیام سے متاثر ہوتے ہیں ان کے قیام کے خلاف ہیں۔ انھیں ڈر ہے کہ اگر مزید بنچز کے قائم ہوگئے تو انھیں پیشہ ورانہ طورپرنقصان ہوگا جب کہ نئے بنچز کے قیام کے حمایتی وہ مڈل کلاس وکلا ہیں جنھیں ان بنچز کے قیام سے پیشہ ورانہ طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بنچزکے قیام کی لڑائی وکلا کے دودھڑوں کی مفادات کی جنگ ہے جس سے عوام کو یقینی فائدہ پہنچے گا۔ ان بنچز کے قیام سے جہاں وکلا مستفید ہوں گے وہاں عام عوام کو بھی فائدہ ہوگا جو اپنی داد رسی کے لئے دور دراز کا سفر طے کرکے ملتان، راولپنڈی،بہاولپور پہنچتے ہیں۔ پنجا ب کے نو ڈویژن ہیں۔ ہرایک ڈویژنل ہیڈکوارٹرمیں ایک بنچز قائم ہونا چاہیے تاکہ عام لوگوں کی انصاف تک رسائی میں آسانی ہو۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker