ایم ایم ادیبکالملکھاری

قادیانی ہی کیوں .؟ ۔۔ ایم ایم ادیب

حق بنتا ہے ،پوری قوم کا حق بنتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرے کہ ایک اصلی نسلی قادیانی کو کسی طور اپنا ہمرکاب نہ بنائیں ،کیا پاک وطن میں ماہرین اقتصادیات و معیشت کا قحط پڑ گیا ہے؟ایسا نہیں ہے ،ربِّ کعبہ کی قسم ایسا نہیں ہے ،یہ ایَّاکَ نَعبُدُوَاِیَّکَ نَستَعِیں کہنے والے وزیر اعظم کے خلاف سازش ہے اور ایسی سازش جان بوجھ کر کی گئی ہے کہ نئی منتخب حکومت کو استحکام نصیب نہ ہو ،ایسی سازشیں اللہ کے خاص فضل اور کرم سے پہلے قدم پر پکڑی جاتی ہیں ،ہزار پردوں کے پیچھے ہوں ،بے پردہ و بے حجاب ہو ہی جاتی ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے جس جرات اور بہادری کے ساتھ ہالینڈ کی حکومت کو للکارہ اور پہلی ہی پکار پر دینی غیرت و حمیت کی ایسی مثال قائم کی جس کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ،ایسی ہی جرات کا مظاہرہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا تھا،جب پورے مغرب اور مشرق کے بائیں بازو کو خاطر میں لائے بغیر انہوں نے قادیانیوں اور احمدیوں کو آئینِ پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا تھا ۔ ایسی شجاعت نہ پہلے کسی نے دکھائی ،نہ کوئی دکھا سکے گا،یہ اُسی مردِ مجاہد کی بخشش کا تمغہء عظیم ہے جو اس کے سینے پر سجا ، جس نے اس کی قبر کو ضرور جنت نظیر بنایا ہوا ہوگا،بھٹو شہید کو اندر باہر سے سخت مزاحمت کا سامنا تھا ،قومی اسمبلی میں اس بل کاپیش ہوجانا ہی کسی ہنگامہ خیز معجزے سے کم نہ تھا قادیانی فقظ یہ کہ مسلمان نہ تھے بلکہ مرتد تھے اور اپنے ارتداد کو فرنگی کی پیٹھ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھے،اس آہنی اوٹ سے ان کو نکال باہر کرنا ہی ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ،جسے علمائے پاکستان نے اپنے علم و عمل کے کے زور پر سر کیا ،اپنے دلائل و براہین کے انبار تلے قادیانیوں اور احمدیوں کو ایسا دفن کیا کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہے ،ذلت و رُسوائی کے جو طوق ہمارے علماء نے ان کی گردنوں میں ڈالے آج تک ان کے گلے کا ہار ہیں ۔ اپنے ہی فضلے میں ناک ڈبوئے زندگی کی آخری سانس لینے والا مرزا جی اے قادیانی مر کر اپنی حیثیت اور اہمیت پر نشان عبرت کی مہر ثبت کر کے آنجہانی ہوا کہ ایسی غلیظ موت اسی کا طرہء امتیاز تھی۔ ہمارا دین تو اتنا روشن خیال اور ترقی پسند ہے کہ یہودیوں ،عیسائیوں ،بُت پرست کفار تک کو اپنے دامنِ میں پناہ دیتا ہے، غزوہ بدر میں مسلمان دشمن قیدیوں کو مسلمان بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے پر ان کی سزا معاف کرنے کا معاہدہ کرتا ہے،ہاں مگر وہ جو محمدﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرکے منہ پھیر لیتا یا نبوت کا دعویدار بن جاتا اس کی سزا ہی اور ہوتی۔
یہ قادیانی اور احمدی ،اسلام کے اور اسلام کے ماننے والوں کے دشمن ہیں ،انہوں نے تاج و تختِ ختمِ نبوت ﷺ پر ڈاکہ ڈالا،انہوں نے اے! وزیر اعظم عمران خان تیرے نبی ﷺ کی حرمت پر ڈاکہ ڈالا ،تو انہیں کیسے گلے لگا سکتا ہے ،تم نے تو اپنے نبی ﷺ کے خاکے بنانے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیئے،ان کی جسارت کی سختی سے تکذیب کی۔ یہ کس کو اوکھلی میں سر دینے کا شوق چُرایا ،پچیس ممبران کی اقتصادی کونسل کے لئے ایک اور نابغہ مسلمان نہیں ملا تھا ؟ فرض کر لیتے ہیں ذہن میں نہیں آیا ہوگا ،نظر میں نہیں سمایا ہوگا ،تو مفتی تقی عثمانی کو دیکھ لیں ،پرکھ لیں ،معاشیات واقتصادیات کا نابغہ ء روز گار شخص،جس کی صلاحیتوں سے مغرب و مشرق اور وسط ایشیائی ممالک بھر پور استفادہ کرتے ہیں ،نہیں کرتا تو پاکستان ! پی ٹی آئی کے اصطبل میں پالا ہوا بے لگام گھوڑا فواد چوہدری کہتا ہے ’’ اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر نہیں بنایا‘‘ اسے علم ہی نہیں تہذیب کا دائرہ کار کیا ہے ،اسلام کیا ہے ،عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ کیا ہے ؟ ایسے لوگ ہی مسلم مملکتوں کے لئے وبال بنتے ہیں ،انہی کی نحوست سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے راستے مسدود ہوتے ہیں ۔ آئین پاکستان قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتا ہے ،ہمارا اختلاف یہی ہے ،اعتراض یہی ہے کہ یہ اعتراف کریں ،مان لیں کہ یہ غیر مسلم اقلیت ہیں ،اس امر کی توثیق کریں یہ مسلمان نہیں ،بات ختم ،پھر یہ اقتصادی کونسل کے ممبر بنیں یا وزیر ،مشیر بنیں یا جج بنیں ان پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ اقلیتوں کو ہمارا آئین وہ سارے حقوق دیتا ہے جو کسی ملک کے دیگر شہریوں کو ملتے ہیں ۔ آئینی حیثیت کو تسلیم کئے بغیر ،خود کو غیر مسلم اقلیت مانے بغیر ایک اسلامی فلاحی ریاست کے وجود کا اعتراف کئے بغیرمسلمان اکثریت کے ملک میں ایک ایذا رساں عقیدے کی تبلیغ کے جرم پر چپ سادھ لینے والے دشمن کو مسلمان شہری اپنی ریاست میں کسی اہم عہدے پر تعینات کرنا کیسے قبول کر سکتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کو رول ماڈل گردانتے ہیں ،تو ان پر لازم ہے کہ ریاست مدینہ کے والی خاتم الانبیاءﷺ کی نبوت کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے غلام اے قادیانی کے لہو شریک کو اقتصادی کونسل کے عہدے دست بردار کریں ،مدینے والے کی پاک روح خوشی سے سرشار ہوگی ،ترقی و خوش حالی کے نئے امکانات کے در کھلتے چلے جائیں گے،ان شاء اللہ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker