ایم ایم ادیبتجزیےلکھاری

لداخ پر چین کا قبضہ : بھارت خاموش کیوں ہے ؟ ۔۔ایم ایم ادیب

یہ المیہ آج کا نہیں ،آزادی کے فوراََ بعد کا ہے کہ انڈیا پاکستان کی ترقی کے سب راستے مسدود کرنے کی راہ پر گامزن رہاہے ۔پاکستان کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی جانب ذرا سی پیش رفت کرے انڈیا کے دل میں پھانس کی طرح اٹک جاتی ہے وہ آہنی دیوار بن کر راستے میں کھڑا ہوجاتا ہے اور اس دیوار کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل خم ٹھونک کر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ جیسے یہ ان کی زندگی موت کا مسئلہ ہو ،ان تینوں قوتوں کا تازہ ترین مسئلہ سی پیک ہے جو پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی شہ رگ کی حیثیت کا حامل ایک تابناک منصوبہ ہے جو ہماری آئیندہ نسل کے روشن مستقبل کا نشان راہ گردانا جاتا ہے۔جو اپنے اندرپاکستان کی غربت سمیٹنے کی امید کی ایک رمق رکھتا ہے(واللہ اعلم بالصواب) ۔
امید کے اس ننھے سے دیئے کو بجھانے کے لئے انڈیا ،امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی سے کیا کیا کھیل رچارہا ہے۔مگر اس کی ساری تاویلیں خاک ہورہی ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں روارکھی جانے والی وحشت و بربریت اور بہیمیت کا ذکر ہی کیا کرنا ،مگر اب گلگت بلتستان کے محاذ پر ایک کھلواڑ کی تازہ ترین انڈین کوشش نے چین جیسے پر امن ملک کو اس امر پر مجبور کردیا ہے کہ پاکستان دشمنی کی آڑ میں اپنے سر پر منڈلانے والے خطرے کے تدارک کے لئے اخیر قدم اٹھائے ،کیونکہ یہ فقط گلگت بلتستان پرانڈین قبضے کی سعی ءناپاک نہیں بلکہ اس کا بڑا مقصد سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے اسی خطرے کے پیش نظر چین نے لداخ پر قبضے کی کارروائی کی ہے ۔
انڈین اخبار ”بزنس اسٹینڈرڈ“ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی چائنہ کے پانچ ہزار فوجی پانچ مقامات سے داخل ہوئے ہیں ،گیلون دریا کے ساتھ سے چار جگہوں سے جبکہ پینگونگ ندی کے ساتھ ایک جگہ سے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ۔اخبار لکھتا ہے” یہ معمول کی فوجی کارروائی نہیں ہے اور نہ ہی 2013ءاور 2014ءکی طرح متنازعہ علاقے پر چائنا کا عارضی قبضہ ہے ،بلکہ اس دفعہ پیپلز لبریشن آرمی ان علاقوں میں اپنے مضبوط دفاع کے لئے مورچے بنا رہی ہے اور بڑی گاڑیاں یہاں لے آئی ہے جن کے دفاع کے لئے پیچھے ہیوی آرٹلری پہلے سے موجود ہے ،
پیپلز لبریشن آرمی کے سولجرز اپریل کے آخر میں گیلون وادی میں اچانک گھسے لیکن انڈین آرمی ان کو آگے سے مقابلہ یاچیلنج تک نہ کر سکی ،انڈین آرمی کی بار بار کوششوں کے باوجود پیپلز لبریشن آرمی اب بھارت کے ساتھ تنازعات پر بات چیت کے لئے فلیگ سٹاف میٹنگ بھی نہیں کر رہی“۔
چائنہ افواج کے لداخ میں گھس آنے کے بعد انڈیا سکون کی نیند نہیں سویا ،مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ اس نے اس بارے کسی ردعمل کااظہار نہیں کی اور نہ ہی انڈین میڈیا پر ہوہکار مچی ،بلکہ ایک چپ سی سادھ لی گئی ہے ۔دراصل انڈیاکو اب یہ کامل یقین ہوگیا ہے کہ اس کی کوئی سازش پروان چڑھنے والی نہیں ہے ،امریکہ اور اسرائیل کی تمام تر امداد اورکمک کے وعدوں کے باوجود وہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو مکمل ہونے سے نہیں روک سکتا اور نہ ہی سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کو اپنی بدنیتی کی بھینٹ جڑھانے کی سکت رکھتا ہے کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر نہیں بلکہ اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے ۔
لداخ پر قبضہ کرتے ہوئے چین امریکہ کے ساتھ پہلے سے موجود شکر رنجی کو خاطر میں نہیں لایا ،چین نے بجا طور پر تینوں قوتوں (امریکہ ،اسرائیل ،انڈیا ) کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ پاکستان کے دفاع پرکسی قسم کا کمپرومائز کرنے پر تیار نہیں ،ماہ رواں ہی میں ایف بی آئی کے لیک ہونے والے ڈاکومنٹس میں جو حقائق سامنے آئے تھے انہوں نے امریکی بھارتی اشتراک سے پاکستان پر مسلط کی جانے والی جنگ کے ناپاک عزائم سے پردہ ہٹا دیا تھا ،جس پر امریکہ نے معذرت خواہانہ رویئے کا اظہار کیا تھا مگر چھپے الفاظ میں ۔تاہم چین سمجھ گیا تھا کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے اور کس یدھ کے امکانات کے درواہوسکتے ہیں ۔
ان قوتوں کے اشتراک نے پاک چین تعلقات کو آزما کر دیکھ لیا تھا مگر سی پیک کے حوالے سے اس نے عزم صمیم کیا ہواہے کہ اسے تکمیل کے لمس سے آشنا نہ ہونے دیا جائے ،بہر حال چین نے لداخ پر قبضہ کر کے بھارت کی طرف سے گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کے سارے دروازے بند کردیئے ہیں ،اب نہ تو بھارت دیا میر بھاشا ڈیم کو بننے سے روک سکتا ہے نہ گلگت بلتستان کو اپنا انگ بنانے کے خواب کو پورا کرسکتا ہے ۔اسی طرح سی پیک منصوبے سے متعلق بد خواہی کے سب امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں ،مگر پھر بھی دشمن سے ہمیشہ چوکس رہنا ضروری ہے ،وہ بھی جو کلمہ گو نہیں اور جس کے بارے قرآن کے بیان کا مفہوم ہے کہ اہل کفر تمہارے دوست نہیں ہوسکتے ،یہ اہل ایمان کے ساتھ سخت عداوت رکھتے ہیں ۔اس عداوت کا شاخسانہ ہم نے امریکہ کو دوست بناکر دیکھ لیا ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker