ایم ایم ادیبکالملکھاری

جانے والوں کوکہاں روک سکا ہے کوئی!۔۔ایم ایم ادیب

”حکومت کہیں نہیں جارہی “
وزیر اعظم عمران خان کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ ان کے اعصاب بہت مضبوط ہیں اور وہ ایک کانفیڈنٹ آدمی ہیں ،باتیں تو کیا معاملات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے ،کوئی بڑے سے بڑا حادثہ ان کی جان پر گزر جائے یا ملک وقوم پر ہی،وہ بیدار ہونے میں عجلت نہیں دکھاتے ۔واللہ اعلم کون سی مسکت غذا ان کی حرز جاں ہے جو انہیں ہر پل سکون قلب میں مبتلا رکھتی ہے ۔
وہ قوم کے دکھوں پر کبھی دل گرفتہ دکھائی نہیں دیتے اپنی دل براشتگی کا بدلہ کسی انتقامی کارروائی کی صورت جلد چکا لینے میں عافیت گردانتے ہیں ۔تاہم ان کے کسی سیاسی عمل سے یہ ہویدا نہیں ہوتا کہ کیا سوچ کر کیا ہے ،بس ذرا سی دیر میں اپنے فیصلے سے رجوع فرمالینے کو ہی کافی سمجھتے ہیں ،نفع نقصان کے چکر میں مطلق نہیں پڑتے ،ان کے اور عثمان بزدار کے درمیان ایک قدر مشترک ہے کہ فائیل خود نہیں پڑھتے اپنے سکریٹری پر کامل یقین کی مثل دستخط ثبت کردیتے ہیں ،اسی سے بدگمانیاں جنم لیتی ہیں ،اس سلسلے کا تازہ سانحہ پٹرول کی قیمتوں میں یکمشت چھبیس روپے کے لگ بھگ سے زیادہ کا اضافہ ہے جسے قوم نے صدق دل سے برداشت بھی کرلیا۔
اچھی اقوام کا وصف یہی ہوتا ہے کہ حکمرانوں کے دیئے زخم خاموشی سے سہہ لیتی ہیں ۔اس طویل تمہید کے بعد کہنا یہ تھا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی ،یہاں ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ حکومت جاتی ہو ،ہمیشہ حکمران جاتے ہیں اور ان کا جانا پلک جھپکنے کا کھیل ہوتا ہے اور اب کی بار تو شاید پلک جھپکنے سے بھی پہلے یہ حادثہ گزر جائے ۔وہ جو اپنوں کے گریبان چاک کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ کبھی کسی کے نہیں رہے ،انہیں ایک ہدف دیکر ہر حکومت کا حصہ بنایا بلکہ دلایا جاتا ہے کہ فائلیں تیار کرنے میں آسانی رہے اور جب ان کا کام مکمل ہوجاتا ہے تو مناقشوں کا پنڈورا بکس کھول دیا جاتا ہے ۔
یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے کسی دلیل ،کسی تاویل کے بنا کہی جا سکتی ہے ،وہ جن کا رزق قلم کمان سے لکھا ہے وہ استعفیٰ برداروں کے ضمیر پر چوٹیں لگاتے بھی رہیں تو ہونا وہی ہے جو اوپر والوں نے کرنا ہے ،یہ نمبر بنانے کے سب بہانے ہیں چل گئے تو تیر نہ چلے تو تُکا۔ایسا کب نہیں ہوا،جنوبی پنجاب والوں نے ہمیشہ جائے پناہ تلاش کی ہے ،مل جائے تو ٹھیک ناں ملے تو سکھ کی چادر اوڑھ کے سوجاتے ہیں ،ویسے بھی جن کے گھر دانے (اناج)ہوں ان کے کملے بھی سیانے ہوتے ہیں۔اور ان کا اللہ ہی مالک جن کے کندھے اس سیانوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں کبھی نہیں تھکے۔ان کی قسمت پر ترس کھانے والا کوئی نہیں،یہ دشتِ غربت میں بھٹکیں یا فلاکت ان کا مقدر ٹھہرے۔
حکومت نہیں جارہی ہاں البتہ حکمرانوں کے جانے کے دعوے لیکر سیاست کی رمزوں کو خوب سمجھنے والے مولانا گز شتہ برس اکتوبر میں آزادی مارچ پہ نکلے تھے اور شہر شہریہ پیغام دیتے تھے کہ ”طبل جنگ بج چکا،انسانی سیلاب حکومت کو بہا لےجائے گا“۔ اس مجذوب کا سیلاب رُخ بدل گیا،حکومت تو کیا ،اس سیلاب کے خس و خاشاک تک کسی نامعلوم سمت کو بہہ گئے۔مولانا حکومتیں گرانے کے خبط سے نہ جانے کب نکلیں گے،ان کا حکومت گرانے کا شوق کبھی پورا نہیں ہونا،جب تک صالح حکمران لانے کی کوئی سعی بے مثال نہیں کرتے ۔مگر یہ ان کا خواب نہیں ،یہ میرا اور آپکا خواب ہے،جس کے حقیقت بننے تک ہم زندہ بھی رہتے ہیں یا نہیں ۔
تاہم وزیر اعظم کے کان میں کسی نے چپکے سے کہہ دیا ہے کہ جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی اور وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ ” چوائس ان کی پارٹی میں سے ہوگا“۔تو گمان ہوتا ہے جنرل اختر عبدالرحمن کے فرزند کی لمبی بے روزگاری پر کسی کو رحم آنے والاہے ،آخر وزیر اعظم ظفراللہ خان جمالی نے بھی تو جاتے جاتے چوہدری شجاعت الٰہی کے کان میں کہہ دیا تھا” میرے بعد تم ہو“۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker