ایم ایم ادیبتجزیےلکھاری

آمر ضیا کے خلاف ایم آرڈی اور عمران کے خلاف پی ڈی ایم ، فرق کیا ہے ؟ ۔۔ ایم ایم ادیب

کرچیاں‌

اے پی سی تمام ہوئی ،مولانا کو اس شو سے جو امید ہوچلی تھی وہ بھی ماند پڑگئی ،بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کے سارے سہانے خواب چکنا چور ہوگئے ۔ان سے اچھا تو بلاول بھٹو زرداری رہا جس نے ایک تیر سے دوشکار کئے ،اول نواز شریف سے دھماکہ خیز تقریر اگلوائی ،دوم شہباز شریف کے مفاہمتی پلان کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
مجھے ان لوگوں کی سوچ پر حیرت ہوتی ہے جو یہ جگالی کرتے ہوئے پل بھر کو نہیں تھمتے کہ شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان مثالی فکری ہم آہنگی پائی جاتی ہے جبکہ میں سو فیصد اس بات پر مصر ہوں کہ میاں برادران کے درمیان فکری ناہمواری ہی مسلم لیگ ن کا کلیدی مسئلہ ہے ۔
دونوں بھائیوں کا بیانیہ ہی سر اسر ایک دوسرے سے جدا ہے ۔شہباز شریف مفاہمت کی آخری انتہا تک پہنچ کربے نیل و مرام کیوں رہ جاتے ہیں ؟فقط اور فقط اس لئے کہ بڑے میاں صاحب کو یہ خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ نہ صرف وزارت عظمی کی خلعت چھوٹے میاں صاحب کو پہنادی جائے گی بلکہ سلسلہ ءحکمرانی سارا کا سارا شہبازشریف کے خاندان کو منتقل ہو جائے گا ۔محترمہ مریم نواز گھر کے وسیع و عریض لان میں بیٹھ کر اپنے نواسوں نواسیوں کے سویٹر بُنا کریں گی اور میجرصفدر ان کے خوبصورت ماضی پر نثری نظمیں لکھاکریں گے کہ ان کے والد بھی شعرو سخن کے دلدادہ ہی نہیں رہے بلکہ طبع آزمائی بھی فرماتے رہے ۔
اُدھر عجلت پسند عمران خان کے کانوں میں کسی نے حتمی جواز کے ساتھ یہ بات انڈیل دی ہے کہ دھیرے دھیرے پتے کھیلے اور اگر شطرنج پر بات آجائے تو چال چلتے ہوئے اپنے مہروں پر گرفت مضبوط رکھے اور بازی کو مات شہ تک پہنچنے ہی نہ دے ،اسی لئے بعض لوگوں کا اس بات پر اصرار بے معنی نہیں لگتا کہ تحریک انصاف کی حکومت ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی کہ کوئی یہ کہہ سکے کہ ” سایہ اے دیوارپہ دیوار گرنے کو ہے“۔بلکہ اقتدار سے باہر بیٹھے ماتمی گروہ سے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ ” ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں “۔
بہر حال یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ وقت نے مسلم لیگ ن کو اقتدار کے سنگھاسن سے بظاہر کوسوں دور کردیا ہے ،اگر”ش“ کانکل آناکسی طور ممکن ہوا توباعث حیرت نہ ہوگا ۔سوال یہ ہے کہ ایسے امکان کے کسی در کے وا ہوجانے پر بلاول بھٹو زرداری یاپی پی پی کا مستقبل کیا ہوگا ،ان کے پاس سندھ ہی رہے گا یا وفاق میں بھی کوئی حصہ ملے گا؟
اس پر بھی دو آراءہوسکتی ہیں ،ایک یہ کہ میاں نواز شریف کو ایکسپوز کرنے میں بلاول کا ہاتھ یقینی ہے ،اگر شہباز شریف کی زنبیل میں کچھ ڈل پایا توبلاول کا کشکول بھی خالی نہیں رہے گا کہ وہ ایک ایک پتہ سوچ سمجھ کر کھیل رہا ہے ،اس کی کمرپر اس اعلیٰ دماغ انسان کا ہاتھ ہے جس نے اسے سڑکوں پر گھسیٹنے کا بھاشن دیا پھر ہم نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ اس کی گاڑٰی ڈرائیوکر رہا تھا۔
بات کا سراپھر سے اے پی سی سے جوڑیں جو پی ڈی ایم بن چکی تو یہ امر بھی طشت از بام ہو ا کہ آخر اُس اتنے بڑے شو میں اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا ،اس میں کیا امر مانع تھا ؟ یہی ایک کیمیا گر نسخہ ہے جو کارگرثابت ہوبھی سکتا ہے مگر اس پر مولانا کو بھی اصرار نہیں ۔شہباز شریف کا مفاہمتی وار چل جاتا تو نئے انتخابات کا بگل بج جانے میں بھی ردوقد شاید ہی باقی رہ جاتی کہ وہ میٹھے زہر کی طرح جُرعہ جُرعہ سرایت کرنے لگے تھے ،جس کا وہم پہلے ہی میاں نواز شریف کے گمان کے کسی گوشے میں جاگ اٹھا اور انہوں نے فوراََ اپنے دل ودماغ میں موجود دھماکہ خیز مواد اچانک سے بلاسٹ کردیا ۔خود وہ بچ گئے کہ دِساورمیں انہیں کسی صعوبت کا خطرہ ہرگز نہیں مگر وہ قطعاََ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ شہباشریف کے نام کے ساتھ وزیر اعظم کا سابقہ سجے ،جسے دیکھ کر ان کی ہونہار بیٹی کے جذبات و احساسات لہولہو ہو جائیں ۔
ماضی کے جھروکوں سے دیکھیں توآمر ضیاءالحق کے دور میں مار شل لاءکے خلاف اجتماعی احتجاج کے لئے ایم آر ڈی کی بنیاد رکھی گئی تھی جس میں بینظیر بھٹو ،رسول بخش پلیجو ،فاضل راہو،خان ولی خان اور جام ساقی ہراول دستے کے طور پر شامل تھے ،تاہم وہ بائیں بازو کی جماعتوں کا اتحاد تھا جو دیر تک چل گیا گو خاطر خواہ نتائج سے ہمکنار نہ ہوا مگر دیرپا اثرات چھوڑ گیا ۔پی ڈی ایم رجعت پسند جماعتوں کا اتحاد ہے جس کی قیادت ایک اسلام پسند جماعت کے سربراہ کے ہاتھ دی گئی ہے ،اس میں شک نہیں کہ مولانا کا سیاسی تجربہ اورمدبرانہ سوچ دور حاضر کے بیشتر سیاستدانوں پر بھاری ہے ،مگر کیاکیجئے کہ یہ کسی طور بھی فطری اتحاد نہیں کہ اس میں احتجاجی کارکنوں کی سب سے بڑی طاقت رکھنے والی جماعت سیکولر مزاج کی حامل ہے ۔بنابریں مولانا یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ سب سے بڑی اتحادی جماعت کے طور پر مریم نواز ان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملائے کھڑی ہوں۔۔!

(‌بشکریہ : روزنامہ اوصاف )‌

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker