زعیم ارشدکالملکھاری

پخ : مرکزی اور اضافی سیاسی سماجی گدھےاور گدھ ۔۔ زعیم ارشد

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء بالخصوص بر صغیر پاک و ہند اپنے منفرد رسم و رواج اور رنگوں بھری طرز زندگی کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگوں کیلئے نہایت پرکشش اور پراسرار رہی ہے اور آج بھی وہ کشش اور سحر انگیزی قائم و دائم ہے۔ ساتھ ساتھ یہاں کی عجیب و غریب عادات و اطوار بھی کشش کا سبب ہیں، یوں تو یہاں کی قریب قریب ہر شے ہی غیرملکیوں کے لیے دیو مالائی کہانیوں کی سی ہے مگر چند روز مرہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والی عادات کا جواب دوسروں کے پاس تو کیا خود پاکستانیوں کے پاس بھی شاید ہی ہو۔ جیسے ہاتھی کے باہر نکلے ہوئے دانتوں کا عقدہ آج تک بڑے بڑے محققین نہ لگا سکے بالکل اسی طرح گدھا گاڑی میں جتے گدھے کے ساتھ بندھا ہوا ایک اور گدھا یعنی پخ، جس کا گدھا گاڑی کی کارکردگی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، اس کی موجودگی کا فلسفہ بھی کسی کو نہیں معلوم، بہت ممکن ہے اسے مین گدھے (خاطر جمع رکھیں یہ Main ہے Man نہیں) کی دلجوئی اور اخلاقی ہمت افزائی کیلئے ساتھ باندھا جاتا ہو۔ یہ گدھا مرکزی گدھے کے بازو میں ایک پتلی سی رسی سے گاڑی کی بیرونی جانب بندھا ہوتا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں بیچارے مرکزی گدھے کیلئے مشکل و پریشانی میں اضافے کا سبب بنتا ہے، اسی لئے لوگ اسے پخ کہتے ہیں۔ بظاہر ہر قسم کی کارکردگی سے عاری پخ گاڑی میں جز ولازم کی طرح ہوتا ہے اور مرکزی گدھے سے اچھی حالت میں ہوتا ہے۔
پخ ایک باقاعدہ حقیقی کردار ہونے کے باوجود ایک فلسفے، ایک افسانوی کردار اور ہر وقت ہر جگہ پائے جانے والے مروجہ طریقے کے طور پر معاشرے میں ہر سطح پر موجود ہے۔ اس کی افزائش و پرورش ہر اس جگہ باآسانی ہو سکتی ہے جہاں رشوت لئے اور دئیے جانے یا ظلم و بے ایمانی کے ذ را سے بھی امکانات ہوں ۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ پخ ہر اس جگہ پیدا ہوکر پروان چڑھ جاتا ہے جہاں ذرا بھی کمینگی کی فضا ہو۔ اب اگر ہم اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں تو پائیں گے کہ زندگی کی گدھا گاڑی دوڑے جارہی ہے اور جب اور جہاں جیسے بھی موقع لگتا ہے پخ ہم سے اپنا خراج وصول کر رہا ہوتا ہے۔ یہ امر بیل کی طرح جانے کب کہاں سے آکر آپ کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتا ہے اور اپنا خراج وصولنا شروع کردیتا ہے۔
بظاہر تو پخ گدھا گاڑی میں جتا ایک فالتو گدھا ہی ہوتا ہے مگر عملی طور پر معاشرے میں یہ ہر جگہ ہر گھڑی موجود پایا جانے والا ایسا مضبوط کردار ہے کہ سرکاری دفتر کے دروازے پر کھڑے دربان سے لیکر پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدان تک ہر رنگ ہر نسل ہر قد ہر کاٹھ کا پخ موجود ہے جو اپنے ماحول کے مطابق پروان چڑھتا ہے اور اسی تناظر میں اس کے خونخواری و ایزا رسانی کے خواص ترتیب پاتے ہیں۔ جن کے ذریعے یہ عام آدمی کی زندگی اجیرن بناتا ہے۔ اس کی مثال یوں لے سکتے ہیں کہ آپ کسی سرکاری دفتر میں کام سے جائیں ، آپ دیکھیں گے کہ آپ کا جائز کام بھی نہیں ہو پا رہا، یہی پخ ہے، جو رکاوٹ ڈال رہی ہے، آپ قیمت لگائیں تھوڑے سے بھاﺅ تاﺅ پر بکنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ سرکاری دفتر کے دروازے پر کھڑا چپڑاسی بھی پخ ہے جو آپ کو اس وقت تک گمراہ اور پریشان کرتا رہے گا جب تک آپ اس کی غذا یعنی رشوت نہیں دیدتے۔ جیسے کتے ہر رنگ ہر نسل ہر سائز کے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح پخ بھی اپنے اپنے ماحول کی مطابق ہر رنگ ہر نسل ہر قد ہر کاٹھ کے ہوتے ہیں۔
آپ نے ووٹ دیکر صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور بلدیات کے نمائندے منتخب کئے، ان پر آپ کے ٹیکس کی مد میں جمع کئے گئے لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہوتے مگر یہ کام نہیں کرتے یہ بھی پخ کی ایک قسم ہے۔
اسکولوں میں زیادہ فیس وصول کی جا رہی ہیں پڑھائی کی بجائے والدین کو لوٹا جا رہا ہے، یہ بھی ایک پخ ہے، تھانے جانا پڑ گیا وہاں آپ کو اپنی فریاد کی شنوائی کیلئے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے یہ پخ کی اقسام میں سب سے اوّل درجے کی خونخوار پخ ہے، جو مظلوم کے مال کو جیسے چاہے چارہ بنا کر کھا سکتی ہے۔ دوسرے نمبر پر خطرناک سیاسی پخ ہوتی جو بڑے پیمانے پر قومی خزانے، عوامی املاک اور دیگر قومی وسائل کو بطور چارہ کھا جاتی ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پیٹ کے آگے عمر و عیار کی زنبیل بھی بیکار و بے معنی نظر آتی ہے۔ اس پخ کا پیٹ کبھی بھی کسی بھی طرح سے نہیں بھرتا شاید دوزخ کی آگ ہی سے بھر پائے۔ آپ بہت اچھے طالب علم تھے اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کیلئے پخ کو چارہ کھلانا ہوگا، چاہے وہ Donation کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔ آپ نے نہایت عمدگی سے تعلیم مکمل کرلی اب نوکری کیلئے پخوں کے سم چاٹنا پریں گے چارہ کھلانا پڑے گا، پھر اس کے بعد ترقی کرکے کسی اعلی مقام تک پہنچ گئے، اب بھی پخ سے فرار ممکن نہیں کسی سیاسی پخ کے زیر نگرانی کام کرنا ہوگا ، اب یا تو اس پخ کی پخ پخ ماننا ہوگی یا مختلف حیلوں بہانوں سے اپنی عذت کو پخ کے ہاتھوں چارہ بنوانا ہوگا۔ کبھی کبھی تو یہ گدھے ہمیں گدھ نظر آنے لگتے ہیں ۔
شادی کرنا تھی لڑکی پسند آگئی عزت کے ساتھ رشتہ بھیجا انکار ہوگیا وہاں ماموں کی پخ موجود تھی جو بلاکسی جواز کے آپ کو ریجکٹ کروا سکتا ہے۔ بہت اچھے کھلاڑی ہیں مگر تعلقات نہیں ہیں پخ آپ کو کبھی بھی قومی سطح پر نہیں آنے دے گی مگر اسی پخ کے نالائق بھانجے بھتیجے قومی سطح نمائندگی کر رہے ہوں گے کیوں !! کیونکہ وہ بھی تو ایک پخ ہیں۔ غرض یہ کہ موجودہ حالات میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ، پخ سے پیچھا چھڑانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker