جنت مکانی میدو ممانی کی صحت کاراز یہ تھا کہ وہ صبح کی نماز کی ادائیگی کے بعد نہار منہ مصلے پر بیٹھے بیٹھے ایک اوک سرسوں کا تیل سر میں ڈالتیں اور ایک اوک تیل بادام حلق میں انڈیلتیں۔اسی برس کی عمر میں ان کے سر کے بالوں کی سیاہی کا یہ عالم تھا کہ اماوس کی شب کیا کالی ہوتی ہوگی ،اور دانتوں میں اسقدر زور کہ کوئی لڑکا بالا سڑک پر سے منڈی کو جاتی بیل گاڑی پر لدے گنوں میں سے گنا توڑ لاتا تو وہ بغیر چھری دانتوں کی مدد ہی سےکھا لیتیں اور چودہ پندرہ سال کا لڑکا کھڑا ان کا منہ تک رہاہوتا ۔
وہ خود اکیلی تھیں ،بس ایک ماسی گھر میں رکھی ہوئی تھی ،جو کبھی اپنے پائوں پرکھڑی نہیں دیکھی تھیں مگر پائوں کے پل گھسٹ کر،چلتے ہوئے سارے گھر کی صفائی ستھرائی کرنا اور صبح کا ناشتہ ،دوپہر،کا کھانا اور شام کی روٹی میں کبھی ان کے یہاں تاخیر نہیں دیکھی تھی ۔گھر ان کا عام گھروں سے زیادہ مضبوط بنا ہوا تھا ،اس میں نیم کا گھنا درخت اپنی چھاؤں سےارد گرد کےدو اور گھروں کو بھی پناہ میں لئے تھا ۔اوپر ایک ممٹی جو بچوں کے لئے الگ ایک پناہ گاہ تھی ۔کبھی جو ہم تینوں بھائی مدرسے جانے کےموڈ میں نہ ہوتے دوپہر کا قندورے میں بندھا کھانا اور ٹوپیاں نیچے میدو ممانی کے
کمرے میں رکھ دیتے اور ممٹی میں بیٹھے عصر کی نماز تک کھیلتے رہتے ،ممانی اتنی شفیق کہ موسم کے مطابق مشروب اورپانی سے ہماری تواضع کرتی رہتیں ،یوں شام ہونے سے پہلےہمارا ہاتھ منہ دھلا کر گھر روانہ کر دیتیں ،مجال ہے جو کسی ہمارے یوں چھپے رہنے کی خبر ہونے دیتیں ۔کبھی سر راہ قاری صاحب کی ملاقات ابا سے ہوجاتی تو ابا سے شکایت فرماتے مگر ابا جی اتنے حلیم طبع کہ امی سے ذکر تک نہ کرتے اور ہی ہماری گوشمالی فرماتے ۔
میدو ممانی کا ذریعہ معاش گھر کے فرنٹ پر دودوکانوں کا معقول تر کرایہ تھا جس میں سے کچھ نہ کچھ ہر ماہ پس انداز بھی کر لیتی تھیں ۔ان کے گھر میں کبھی کوئی جھگڑا ہوتے کسی نے نہیں دیکھاصفائی والی ماسی جو ان گھر کے ایک کو نے میں پناہ گزیں تھیں ان کے ساتھ کبھی تو تکاربھی ہوتی تو ایک دوسری کو گالیاں نہیں دیتی تھیں بلکہ اپنےاپنے نصیب کا نوحہ پڑھ رہی ہوتیں ۔
میدو ممانی صبح دم اٹھتے ہی رحل پر اپنے بڑے سے قرآن کریم پر اتنی آواز میں تلاوت کرتیں کہ باہر سے گزرنے والے بھی ان کے سریلے پن سے محظوظ ہوتے۔
ایک روز میں بنا دستک دیئے میں ان کے کمرے میں چلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ انہوں نے ماسی کے سر پر لال دوپٹہ دھرا ہوا ہے اور ماسی اپنے مقدر کا مرثیہ الاپ رہی ہے کہ "میں توکسی مرد کا لمس جسم پر لئےبنا ہی دفن ہوجائوں گی ،تمہارا تو نصیب اچھا کہ رمضو کے ساتھ چالیس سال گزارے ،اس کی ایک بیٹی بھی جو بیاہ سےپہلے ہی قبر میں آسودہ جا ہوئی ” اس پر میدو ممانی نے ایک لمبی آہ بھری اور فارسی کا ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم تھا "میں اس دن سے آزاد ہوں جب سے تیرے عشق میں گرفتارہوا ہوں میں ایک ایسا بادشاہ ہوں جو
تیری گدائی سے خوش ہے ‘
دونوں جو انیسویں صدی میں پیدا ہوئی تھیں اور ایک ساتھ دو چار جماعتیں بھی پڑھی تھیں ،دونوں کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے ۔
فیس بک کمینٹ

