جنوبی ایشیا کی سیاست ایک مرتبہ پھر ایسے موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں جنگ اور امن کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے حالیہ دنوں میں اپنائی جانے والی جارحانہ ڈاکٹرائن کا نچوڑ یہ ہے کہ اگر بھارت میں دہشتگردی ہوگی تو وہ خود فیصلہ کرے گا کہ کس پر حملہ کرنا ہے۔ یہ اعلان بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور مہذب دنیا کی تمام سفارتی روائیتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پاک بھارت جنگی تصادم کے بعد سے حکومت پاکستان بھارت کو مشورہ دیتی رہی ہے کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار نہ کرے اور پاکستان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مستقبل سمیت تمام معاملات طے کر لے۔ تاہم بھارت کے طرف سے اس بارے میں کوئی حوصلہ افزا جواب موصول نہیں ہوا ۔ بھارت نے گزشتہ دو ماہ سے مسلسل یہی رٹ لگائی ہے کہ پہلگام کا سانحہ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا نتیجہ تھا اور اسی کی وجہ سے خطے کے حالات خراب ہیں ۔کیونکہ پاکستان مسلسل دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے ۔
یہ معاملہ اس حد تک سنگین ہے کہ پاکستان کے خلاف 7 مئی کو ہونے والا آپریشن سندھور جنگ بندی کے باوجود جاری رکھنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یعنی بھارت کسی وقت بھی موقع ملتے ہی دوبارہ حملوں کا آغاز کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے بھارت نے یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ اگر بھارت میں کوئی بھی دہشتگردی ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھا جائے گا اور اس کے جواب میں حق دفاع کے تحت باقاعدہ حملہ کرے گا ۔ گویا بھارت نے یہ ڈاکٹرائن متعارف کرائی ہے کہ اگر کسی ملک میں کوئی دہشتگردی ہوتی ہے، خاص طور سے بھارت میں کوئی وقوعہ ہوتا ہے تو بھارت کو حق ہے کہ وہ اس ملک پر حملہ کرے جس کے بارے میں اسے شبہ ہے کہ اس کی طرف سے یہ کارروائی کی گئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ بھارت نے پہلگام کے سانحہ کےکوئی شواہد پیش نہیں کیے لیکن پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے بلا اشتعال حملہ کردیا۔ اگرچہ یہ خطرناک طرز عمل ہے لیکن حالات کو سمجھنے کے لیےماننا ضروری ہے کہ اس وقت بھارت نے یہی ڈاکٹرائن اختیار کی ہوئی ہے ۔
اس بھارتی مؤقف کے پیش نظر اور آپریشن سندھور جاری رکھنے کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی ناقابل فہم اور مبہم ہے ۔ مئی کی جنگی جھڑپوں کے بعد پاکستان کو عسکری ہی نہیں بلکہ سفارتی کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ دنیا میں پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اس نے بھارت کے خلاف اپنا حق دفاع استعمال کیا تھا اور جنگ شروع نہیں کی تھی۔ خاص طور پر گزشتہ دنوں واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی طرف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خیر مقدم کرنے سے یہ واضح ہوا کہ امریکہ اور اس کے زیر اثر دیگر ممالک میں پاکستان کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ چین اور روس کے ساتھ بھی پاکستان کے مناسب اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ اس بحران میں انہوں نے پاکستان کا ساتھ دیاتھا۔ اس کے باوجود پاکستان اپنے لیے پیدا ہونے والے سفارتی امکان سے استفادہ کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ حتی کہ پاکستانی حکومت کوئی واضح حکمت عملی بنانے میں بھی کامیاب نہیں ہورہی۔
وزیر اعظم ،آرمی چیف یا وفاقی وزرا ضرور وقفے وقفے سے بھارت کو متنبہ کرتے ہیں اور اسے تصادم سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اور اگر بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا پہلے سے بھی سخت جواب دیا جائے گا۔ لیکن بھارت نے جیسے دہشت گردی کی صورت میں پاکستان کو نشانہ بنانے کی ڈاکٹرائن بنائی ہے یا پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا ہے، اس کا جواب دینے کے لیے کوئی پاکستانی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت ہمیں بس یہ بتاتی ہے کہ بھارت فوری طور سے پاکستان کاپانی بند کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ کیوں کہ ابھی اس کے پاس ایسے انتظامات نہیں ہیں کہ وہ پانی ذخیرہ کر سکے یا دریاؤں کا رخ موڑ کر پاکستان کو پانی سے محروم کر سکے ۔اگرچہ یہ ایک انتہائی صورتحال ہوگی لیکن پھر بھی متاثرہ ملک کے طور پر پاکستان کو بدتر حالات کے لیے تیار رہنا چاہئے۔
اس پس منظر میں پاکستانی حکومت عوام کو بتائے کہ بھارت کی یک طرفہ معاندانہ کارروائی کی صورت میں کیامتبادل انتظامات کیے جارہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ اگر کوئی چپقلش ہوتی ہے تو ہم پانی کی قلت کا مقابلہ کیسے کریں گے ۔ یا بھارت اگر ڈیم بنا کر یا دریاؤں کا رخ موڑنے کا منصوبہ شروع کرتا ہے تو پاکستان کا کیا ردعمل ہوگا؟ پاکستان نے یہ تو کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل نہ ہؤا یا پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ جنگ کا اعلان ہوگا۔ لیکن یہ بات صرف تقریروں اور بیانات کی حد تک سننے میں آئی ہے۔ پاکستانی عوام البتہ چند سوالوں کے جواب جاننا چاہتے ہیں۔ ایک: پاکستان میں پانی کی قلت دور کرنے اور مستقبل میں پانی کی ضرورتیں پورا کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ دوئم: عالمی اداروں کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ فعال رکھنے کے لیے کیا سفارتی پیش رفت ہوئی ہے۔ کن ممالک کے ذریعے بھارت کو عقل کے ناخن لینے کا مشورہ دیاگیا ہے۔ سوئم: سب سے اہم یہ کہ اگر سندھ طاس معاہدہ فعال رکھنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی تو اس پر پاکستان کا رد عمل کیا ہوگا۔ ایسی صورت میں کیا کوئی ڈاکٹرائن بنائی گئی ہے۔
بھارت تو دہشت گردی کے بعد پاکستان پر حملہ کرنے کا اعلان کررہاہے ۔ تو کیا پاکستان یہ ڈاکٹرائن اختیار نہیں کرسکتا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کے لیے ڈیم بنائے یا دریاؤں کا رخ موڑنے کا کوئی منصوبہ شروع کیا تو پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فضائی کارروائی کر کے ان کو تباہ کر دے۔ اس قسم کا کوئی ٹھوس اعلان موجود نہیں ہے۔ لہٰذا بھارت کی طرف سے کسی قسم کا کوئی واضح رد عمل بھی دیکھنے میں نہیں آتا ۔
کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف اصولی ضرور ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کوئی پالیسی نظر نہیں آتی۔ پاکستان، آزاد کشمیر کو ایک خودمختار ماڈل بنا کر کشمیری قیادت کو عالمی سفارتی محاذ پر کھڑا کرنے کی پالیسی اختیار نہیں کرسکا۔ حالانکہ اس طریقے سے پاکستان عالمی برادری کو یہ دکھا سکتا تھاکہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا سچا علمبردار ہے۔ اور کسی جغرافیائی توسیع پسندی کے لیے اس مسئلے کو زندہ نہیں رکھنا چاہتا۔
اس وقت کشمیر کا ایک حصہ بھارت کے قبضے میں ہے جسے پاکستان ’مقبوضہ ‘ قرار دیتا ہے۔ اور ایک حصے پر پاکستان قابض ہے جسے بھارت والے ’مقبوضہ ‘ کہتے ہیں۔ ان حالات میں دنیا کے لیے یہ سمجھنا ممکن نہیں ہے کہ کشمیر پر کس کا حق ہے۔ کیوں کہ بظاہر دونوں ممالک کشمیر پر کشمیریوں کی بجائے اپنا حق جتانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادی کی بات کرتا ہے جسے 1948 میں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا تھا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ پچھتر سال گزرجانے کے بعد نئی کشمیری نسلیں نئے حقائق میں پروان چڑھی ہیں اور وہ کشمیر کے مسئلہ کو پاکستان یا بھارت کے چشمے سے نہیں دیکھتیں۔
پاکستان بوجوہ نئے حقائق پر غور کرنے اور ان کے مطابق اپنی کشمیر پالیسی مرتب کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی لیے اب بھی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہہ کر قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ یہ دعویٰ ناقابل عمل اور غیر حقیقی ہے۔ بالفرض پاکستان کا یہ مطالبہ مان لیا جاتا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے کشمیری باشندے پاکستان یا بھارت کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کرلیں تو یہ نئی کشمیری نسلوں پر ایک ایسا خواب مسلط کرنے کے مترادف ہوگا جو شاید ان کے پرکھوں نے 48۔1947 کے حالات میں دیکھا تھا ۔ اور جوبوجوہ پورا نہیں ہوسکا۔
پاکستان کو اس مسئلہ کی عملی صورت پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اقوام متحدہ کی جن قرار دادوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، ان میں ریفرنڈم کے لیے خطہ ڈی ملٹرائز کیاجائے گا۔ اور پہلے پاکستان کی فوج کشمیر کے ان حصوں سے نکلے گی جن پر 1947 میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران قبضہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی فوج کشمیر سے انخلا کرے گی۔ اور کسی غیر جانبدار فورس کی موجودگی میں ریفرنڈم ہوگا۔ عملی وجوہات اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود شدید بداعتمادی کی وجہ سے پاکستان اب اس شرط کو ماننے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ پھر ایسی قراردادوں پر کیوں کر عمل درآمد ہوسکتا ہے؟ان حالات میں کشمیر کو شہ رگ کہنے کی بجائے مسئلہ کشمیر کے ایسے حل کی بات کرنا اہم ہوگا جس میں کشمیری باشندوں کو بلا تخصیص عقیدہ اپنے خطے کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔
یہ وقت جذباتی نعروں یا محض دفاعی بیانات کا نہیں۔ یہ وقت فیصلہ سازی، قومی اتفاقِ رائے، اور جرات مندانہ سفارتی و عملی اقدامات کا ہے۔ بصورتِ دیگر ہم صرف خطے کی سیاست ہی نہیں، اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا بیٹھیں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

