ایم ایم ادیبکالملکھاری

کرپشن ہی پاکستان کا اصل مسئلہ ہے : کرچیاں / ایم ایم ادیب

اہل سیاست کا عام وطیرہ رہا ہے کہ تعصب ان کے رگ و پے میں رچا بسا ہوا ہوتا ہے ،جب کبھی زمامِ اقتدار ان کے ہاتھ آجائے اور ایوان حکومت ان کے زیرِ تسلط آجائیں تو وہ اپنے سیاسی مخالفین کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں ،طاقت کے زعمِ بد میں آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں ،اندر کی کدورتیں نفرتوں کی صورت باہر امڈ امڈ آتی ہیںاور ہر مخالف کو مٹا دینے کا بھوت سوار ہو جاتا ہے ،نظریئے کو نظریئے سے کچلنے کی بجائے بندوں کو بندوں سے لڑانے کی روش چل نکلتی ہے ،تاریخ میں ایسے ہزاروں واقعات ملتے ہیں ۔ ہمارے ملک کی اندرونی سیاست ،تادیب و انتقام سہہ سکنے کی ہمت نہیں رکھتی ،صد شکر کہ نئی حکومت بنانے کی پوری حیثیت کے حامل پاکستان تحریکِ انصاف کے سر براہ عمران خان انتخابی معرکہ سر کرتے ہی ایک نئی شخصیت کے روپ میں ڈھل کر سامنے آئے ہیں ،25 جولائی کو اپنی جیت کی خوشی میں انہوں نے جو خطاب کیا ،اس میں ایک مدبر سیاستدان ، ایک عجز و انکسار کے حامل انسان کی صورت میں ان کی شخصیت کا جو ،رنگ اور وصف اجاگر ہوا ،وہ سب کو حیران کر دینے والا تھا۔ایک وہ شخص جس نے اپنے جلسوں ،جلوسوں اور دھرنوں میں زبان و بیان کی تہذیب کا جو بیانیہ مرتب کیا تھا اور اس کے مدّمقابل سیاسی رہنماؤ ں میں سے کچھ نے بد تہذیبی اور ناشائستگی کی جو نئی لغت ترتیب دی الاما ن الحفیظ۔ 25 جولائی کے خطاب میں عمران خان ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی شکل میں رونما ہوئے ،اور اب تک جبکہ وہ اپنی عددی اکثریت ثابت کر چکے ہیں ،ان کے لہجے میں جو لجاجت ،شخصیت میں جو ٹھہرائوپہلے مرحلے پر ہی محسوس کیا گیا ،اس کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا کہ وہ حوصلے ،بردباری ،بے پناہ تحمل اور برداشت کے ساتھ امور مملکت چلائیں گے۔ان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی دوست تو کیا دشمن بھی ان کی خندہ مزاجی کی تعریف و توصیف کرنے پر مجبور ہیں ۔ اسمبلی ہال میں تقریب حلف برداری کے وقت اپنے انتہائی مخالف سیاستدانوں کے ساتھ اٹھ ،اٹھ کر ملنا ،یہاں تک کہ اپنے سے بہت ہی چھوٹے بلاول زرداری کا پُرتپاک استقبال ،اس پر مستزاد حکومت سازی میں بلاول زرداری سے مدد طلب کرنا ،ا س امر کا بین ثبوت ہے کہ وہ شیر و شکر ہوکر ملک چلانے کا عزم رکھتے ہیں اور ان کی تمنا ہے کہ باہمی یگانگت اور ہم آہنگی کے ساتھ اقتدار کا سفر طے کیا جائے ،ملک کو مل ،جل کر امن و امان کا گہوارہ بنایا جائے ،بغض و عناد کی سیاست کو دفن کر کے محبت وبھائی چارے کی فضا پیدا کی جائے،اختلاف برائے اختلاف کی بجائے ،اختلاف برائے اصلاح کی راہ اختیار کی جائے ،اسی میں ہی ملک و ملت کی خیر خواہی ہوگی۔ عام طور پر یہ باور کیا جا رہا ہے کہ فقط عمران خان کے رویئے میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے رویئے بھی یکسر بدل گئے ہیں ،جو ایک خوش آئیند بات ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے ساتھ جس تعلیم یا فتہ نئی نسل کے ہونے کا دعویٰ کرتی رہی ہے وہ دعویٰ ابتدائی مرحلے ہی میں متشکل ہونے لگا ہے اور آگے چل کر یہی نوجوان مختلف سطح پر قیادت سنبھالیں گے ۔ یہ سب کرشماتی سطح پر ہو رہا ہے اور وہ لوگ جو اس نئے بیانئے پر بحث و تمحیص کے نئے در وا کرنے لگے ہیں(ایک معاصر اخبار کے بقول) ’’یہ مقام جس پر عمران خان بائیس سال کی طویل جدو جہد سے پہنچے ہیں ،اس میں ان کی سماجی خدمات مضبوط حوالہ نہیں بنتیں،نہ کبھی دنیا میں ایسا ہوا کہ کوئی سماجی شخصیت مقتدرِ اعلیٰ بنی ہو‘‘ تاریخ کے کروٹ لینے کا احساس وادراک ہر کس و نا کس کے بس کی بات نہیں ہوتی،تاریخ ایک مسلسل عمل کا نام ہے ،جو ایک جدلیاتی نظام کے تابع ہے ،زندگی سے جدلیات مفقود ہوجائے تو جمود کا شکار ہوجاتی ہے اور جمود نام ہے موت کا ۔نبی آخرالزمان ﷺنے حضرت معاذبن جبلؒ کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے جو مکالمہ فرمایا وہ جدلیاتی نظام کی خشت اول تھی ( تفصیل پھر کبھی ۔ان شا ء اللہ) اب کوئی میں نہ مانوں کی ضد پر اڑ جائے اور ایک سادہ سی بات کو دلائل و براہین کی گتھیوں میں الجھائے جائے ،یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے ،موصوف کے علمی مرتبے کا پاس نہ ہوتا تو دلائل کی تھوڑ نہیں تھی ،موصوف ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ عمران خان ’’ کرپشن کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے مان لیا کہ ہمارے مسائل کا سبب کرپشن ہے ‘‘ دوسرے ہی لمحے کہتے ہیں ’’ملک کے حقیقی مسائل کو عوام نے قابل اعتنا نہیں سمجھا‘‘اس کے ساتھ ہی وہ اپنی قصیدہ گو ئی کی نوکری پکی کرتے ہوئے اس تعلّی کا اظہار کرنا نہیں بھولے کہ ’’یہ بھی المناک حقیقت ہے کہ نئی نسل میں موجود اس تائید کے باوجود عمران ’سٹیٹس کو‘کی قوتوں سے بے نیاز نہیں ہو سکے۔ ’سٹیٹس کو‘ کی تمام قوتیں جو 1960ء کی دہائی میں متحرک تھیں ،ایک بار پھر بروئے کار آئیں ،یوں تبدیلی آئی ، مگر نہیں آئی ‘‘
جمہوریت کے وجود سے لپٹی اس طرح کی جونکیں جب تک موجود ہیں اس وقت تک ملک کے سر پر ،عوام کے سر پر ظالم قوتوں ،استحصالی قوتوں کی تلواریں لٹکی رہیں گی ،جو غریب عوام کے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتی ہیں ،اور ان قوتوں کو مہمیز لگانے والے قلم کار چونکہ کرپشن کی کھٹی کھاتے ہیں اس لئے ’کرپشن‘ کوملک کا اصل مسئلہ ہی نہیں گردانتے حالانکہ ’ کرپشن ‘ ہی ملک کا اصل مسئلہ ہے یہ ختم ہوگئی تو ترقی کے سب راستے کھلتے چلے جائیں گے ،عمران خان کو کرپشن ہی کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے ،وہ اچھی طرح یہ سمجھتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker