ایم ایم ادیبکالملکھاری

کس کے مؤکل مضبوط ہیں ؟ ۔۔ ایم ایم ادیب

شکوک و شبہات کی کشمکش میں بہتا سیاسی دھارا اپنا متعین رُخ بتا نہیں رہا ،سول اسٹیبلشمنٹ اور آرمی اسٹیبلشمنٹ دونوں کے تیور بدلے سے تو لگتے ہیں ،مگر ابھی خفا نہیں لگتے ،مدعا دہلیز پر مل جائے تو پیش رفتگی کی عجلت نہیں ہوتی ۔بڑوں کی ضد چھوٹوں کے قدم روکے ہوئے ہے ،وگرنہ کیا کچھ نہیں ہوسکتا ،اختر مینگل کا حکومتی اتحاد سے نکل جانا ایک علامت ہے ۔مگر اس کے حقیقت بننے میں کوئی بڑی رکاوٹ بھی نہیں ہے ۔جنوبی پنجاب صوبہ محاذ گروپ پر وسیب کا دباؤ ضرور ہے مگر اسے کون خاطر میں لاتا ہے ۔سرائیکی صوبہ تحریک کا وزن افتادگان خاک ہی نے اب تک اٹھایا ہوا ہے ،انہیں کون اہمیت دیتا ہے۔
سرائیکی وسیب کے ایک پنجابی ایم این اے جو ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ،انہوں نے ایک صحافی پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی ،وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ،کس نے نوٹس لیا۔۔!عدل وانصاف کے ایوانوں میں بھی اس کی گونج ضرور سنی گئی ہوگی ،اسے غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کر دیا گیا ۔یہ سب روز مرہ کے ناروا رویئے ہیں جن کی عادت سرائیکی سیاسی جماعتوں والوں کو بھی اچھی سی ہوگئی ہے ۔
بہر حال اصل کھیل تو وہ ہے جو چھوٹے میاں صاحب جان ہتھیلی پر رکھ کر کھیلنے کے لئے لندن سے آئے ،کورونا کی زد میں نہ آتے تو اب تک کچھ نہ کچھ کر گزرتے ،تاہم سمجھ بوجھ والوں کے لئے ایک کال کا اشارہ کافی ہے جو اوپر سے آئی اور دلوں میں وسوسے ڈال کر چلی گئی۔
برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے جسے پار کرنے کے مواقع پے در پے مہیا کئے جارہے ہیں ۔وہ جو تیل کی دھار دیکھنے میں لگے ہیں ،ان سے کیا بعید!سرحدی حالات کا بھی ایک تقاضہ ہے جو شاید سدِراہ ہے ،وگرنہ کیا کچھ نہ کرنے کی گنجائش باقی رہ گئی ہے ۔بی این پی کے جو بھی مطالبات ہیں ان پر سمجھوتا ہو سکتا ہے یا نہیں سرِ دست مولانا اختر مینگل کے ساتھ کندھا ملانے آن کھڑے ہوئے ہیں ،بے چارے ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج کی طرح ایک ایک غول کی پرکھ پٹھول پرلگ جاتے ہیں کہ کہیں کوئی گرتے کو تھام لے۔بڑی عجیب بات ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اختر مینگل بے چارے کے ساتھ بھی کچھ دھاگے بندھے ہوئے ہیں مولانا ان کے پاس ایسے پہنچ گئے جیسے کوئی خبر نہ رکھتے ہوں حالانکہ ان کی سیاسی بصیرت پر کسی کو شک نہیں ۔
چھوٹے میاں صاحب تو ہر ہر پل آمادہ وتیار ،انہیں موقع ملا تو شاید اب کی بار بغاوت پر مجبور ہوجائیں ،ویسے بھی اب وہ ڈنڈوت بجا لاتے لاتے تھک چکے ہیں ۔مریم نواز کے کندھے اتنے مضبوط نہیں کہ پارٹی کا بوجھ ہی سہار سکیں ،حمزہ خادم اعلیٰ دوم بننے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں ،آخر کو مسلم لیگ ن بھی بٹ ہی جائے گی کہ اس کی سرشت میں یہ شامل ہے۔
کپتان کو اور کتنے کندھے مطلوب ہیں ،یہ کھیل کا میدان تو نہیں تازہ دم کھلاڑی بُلاکر مخالف پر دباؤ بڑھایا جاسکے ۔کوئی کب تک امید کا دامن تھامے رکھتا ہے ،آخر کار قومی مفاد کو جواز بنا کر جھٹکا دے ہی دیں گے ،پچھلوں نے جوگُر سکھائے ہوئے ہیں وہ کب تک طاقِ نسیاں پر رکھے جا سکتے ہیں ۔استاذالاساتذہ صدر اسحاق خان مرحوم ومغفور ہی بہت کچھ سکھلا گئے ہیں ۔اب وہ دور نہیں رہا کہ سبق یاد کرنے والوں کی چھُٹی موقوف کی جاسکے ۔
سُنا ہے اعمال نامہ تیار ہے دستخط باقی ہیں اور اگر اس میں تاخیر ہی تاخیر کی جاتی رہی تو دستخطوں کی مہر بنواکر کام چلالیا جائے گا۔اس روش کو کون نظر انداز کر سکتا ہے ،ابھی تو سبکیوں پر کام چل رہا ہے ،آگے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عدلیہ کا وقار بلند کرکے بوجھ اس کے کندھوں پر لاد دیا جائے ،ہاں سوشل میڈیا اپنے طور پر بھد اڑا رہا ہے کہ ” بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں “ ۔یہ تو پھر ہوتا ہے ،اب ایف بی آر کیا بھد اڑاتی ہے ،یہ اوپر والوں کی آپس کی باتیں ہیں ۔کپتان بھی ضدی بچے کی مثل ہے ،اڑجائے تواڑجائے ،ورنہ چِت لیٹ جانا بھی اس نے سیکھ لیا ہے ،یہ ضرورت پر منحصر ہے ۔
نئے سرے سے الیکشن کروانا ”کورونا“ کے دوران خارج از امکان ہے ۔اندر سے تبدلی کے آثار ،بلکہ تلاش کا کام جاری ہے ۔کون جانے کیا ہونے والا ہے ،جو ہونا ہے اس کی راہ ہموار کرنے کے حیلے وسیلے دیکھنے والوں کو نظر آرہے ہیں اوروہ اشاروں کنایوں میں بتا بھی رہے ہیں ۔ان حالات میں دعاؤں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے جو موکلوں کے ذمہ ہیں کس کے موکل زیادہ طاقت رکھتے ہیں یہ عقدہ بھی جلد کھل ہی جائے گا ،ابھی معاملہ عاملوں کے ہاتھ میں ہے ۔ہم توزلف کے سَر ہونے تک زندہ رہنے کی خواہش لئے جی رہے ہیں ۔فی الحال یہ جو شوگر مافیا کے معاملات کو عدلیہ نے اپنے ہاتھ لے لیا ہے اور شہزاد اکبر کو کام کرنے سے روک دیا ہے یہ بھی تو ایک نیا گُل کھلا ہے ،ہمیں نہیں معلوم کہ جہانگیر خان ترین کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات کا کیا مطلب ہے ،ادھر تو سیاست کی پچ پر میاں شہباز شریف کے بیانیئے کی ”تام جھام “ ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker