ادبسرائیکی وسیبلکھاریماہ طلعت زاہدی

بارے اِن کا بھی کچھ بیاں ہو جائے ..ماہ طلعت زاہدی

آجکل پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے، لوگ حیثیت نہ رکھتے ہوۓ بھی بچوں کو وہیں پڑھانا ناگُزیر سمجھتے ہیں۔ اس کی وجوہات ہیں، سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا انحطاط میرے بچپن سے شروع ہو گیا تھا۔ مجھے اپنے اسکول کی کوئی اُستانی ایسی نہیں یاد جو بچیوں کو کام دے کر اُون سلائیوں میں مصروف نہ ہو یا کلاس کے دروازے میں کھڑی دوسری اُستانیوں سے محوِ گفتگو نہ ہو۔صرف نویں جماعت کی استانی کا نام اسی لئے یاد رہ گیا کہ پہلی بار کسی نے لڑکیوں سے اُن کو یاد اشعار کے بارے میں پوچھا تھا اور جب میں نے لتا کی گائی ہوئی غالب کی غزل کا مطلع سُنایا ، دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے۔ تو انہوں نے گا کر سنانے کی فرمائش کردی جو میں نے بخوشی پوری کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک نوٹ بُک میں اپنے پسندیدہ اشعار لکھ کر لائیں، اُن با ذوق ہستی کا نام مس خالدہ تھا بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہمارے محلے کی پریم گلی میں رہتی تھیں۔ جب میں گورنمنٹ ڈگری کالج میں پہنچی تو وہاں بھی حال کچھ مختلف نہ دیکھا۔ ایف اے میں میری پروفیسر مشہود ادیب ممتاز مفتی کی حقیقی بھانجی تھیں، ان کے والد کرامت مفتی ملتان چھاؤنی کے رہائشی اور پاپا کے دوست تھے۔ فریدہ مفتی جو چُنا ہُوا رسی نام کا دوپٹہ گلے میں ڈال کر آتیں، کہنے کو ڈاکٹر سید عبداللہ کی شاگرد تھیں مگر حال یہ تھا کہ اردو شاعری کی تشریح کے لئے گائیڈ لے کر کھڑی ہوتیں، میں گھریلو تعلقات کی وجہ سے اُن کی کلاس بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی،ورنہ جی چاہتا تھا اُن سے کہوں:
گفتگو ریختہ میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
(میر تقی میر)
دوسری پروفیسر جو انگریزی کی مِلیں اور جنہوں نے ایف اے سے بی اے تک کا میرا بیڑا غرق کرنے کا ٹھیکہ لیا وہ بابر سینما والوں کی شہرت یافتہ مسز بابر تھیں۔ وہ خود کو کسی انگریز سے کم نہ جانتی تھیں، سردیوں میں اوور کوٹ کے ساتھ گلے میں اسکارف لپیٹے آتیں، رول کال کے بعد چشمہ آنکھوں پر چڑھا کر سامنے کی لائن میں بیٹھی کانونٹ کی لڑکیوں سے سوال جواب میں مصروف ہو جاتیں، انہیں چالیس لڑکیوں کی کلاس میں صرف آٹھ دس لڑکیاں ہی پڑھنے کے لائق نظر آتیں۔ چنانچہ ہم پیچھے سے باہر نکل جاتے اور گراؤنڈ میں بیٹھ کر فلموں کی مزے دار باتیں کیا کرتے۔ انگریزی میں میری سپلیمینٹری اس لئے نہیں آئی کہ یہ میرے پاپا کی ( پسندیدہ ) زبان تھی اور گھر ٹالسٹای ، برٹرینڈ رسل، شیکسپیئر،وغیرہ کی کتابوں سے پٹا پڑا تھا۔
یہاں میں یہ سوچتی ہوں کہ سب کو تو میرے پاپا کا بنایا ہوا گھریلو ماحول نہیں ملتا،اُن غریبوں کا کیا ہوتا ہوگا؟
(ایک جملہ ء معترضہ یہ بھی لکھ دوں کہ اسد اریب صاحب فرماتے ہیں، ناپسندیدہ اساتذہ کا نام نہ لوں۔ مگر بےحد معذرت کے ساتھ، میں نام لے رہی ہوں ، تاکہ وہ دُور رس اثرات واضح ہو سکیں جو کسی حساس فرد کی زندگی تباہ کرنے کو کافی ہیں )
اگلا سِتم یہ ہؤا کہ پاپا کے دوست کرنل علی اختر کی بیٹی عائشہ نے ملتان کے اس واحد کالج میں داخلہ لیا اور باپ سے کہا: میں جانوروں کے ساتھ نہیں پڑھ سکتی چنانچہ وہ لاہور کوئین میری کالج چلی گئی۔ یہ کرنل علی اختر ، مُطّلبی فرید آبادی کے عزیز تھے اور مُطّلبی فرید آبادی ہمارے گھر کئی دفعہ تشریف لا چکے تھے اور پاپا ہمیں لے کر ان کے گھر ماڈل ٹاؤن لاہور بہت مرتبہ جا چکے تھے۔ وہ پاپا کے بزرگ نظریاتی دوست تھے، مزدوروں کے لئے انکی کتاب ً ہیا ہیا ً پر پاپا کا مضمون امروز اخبار میں شائع ہؤا تھا اور ہمارے گھر میں اُن کی کتاب ً اور ڈان بہتا رہا چار جلدوں میں محفوظ تھی،جو ترجمہ تھی ، روسی مصنف Mikail Aleksandrovich Sholokhov کے ناولAnd Quiet Flows The Dawn کا۔
مجھ پر پاپا کے نظریات کے ساتھ ساتھ ، پہلی سے لیکر بی اے تک کا زمانہ کیسا عجیب و غریب گزرا ہوگا، اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ میرے اندر کانونٹ کے پڑھے ہوؤں کے خلاف نفرت انگیز خیالات پیدا ہو گئے تھے، یہاں تک کہ میں نے اپنی بھابی سے جو ابھی بھابی نہیں بنی تھیں، اور میرے پاپا کے عزیز ترین دوست بنوری چچا کی بیٹی تھیں، اُن سے بھی اپنے ان خیالات کا اظہار کر دیا، اور بعد میں جب معلوم ہوا کہ وہ خود کانونٹ کی پڑھی ہوئی ہیں،تو وہ ندامت ہوئ جو آج تک گئی ہی نہیں۔
خیر میں جب پاپا کے ہاتھوں سے نکل کر ایم اے میں ڈاکٹر اسد اریب کی شاگرد بنی تو پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ لیکچر کیا ہوتا ہے، اور استاد کسے کہتے ہیں؟ حالانکہ وہاں موجود طلبا و طالبات سے میں مطمئن نہیں تھی کیونکہ اردو ایم اے میں داخلہ وہی لیتا تھا جس کی دال کہیں اور نہیں گلتی تھی۔ سو شروع میں، میں اتنی بد دل رہی کہ میں نے کالج جانا کم سےکم کر دیا، لیکن آہستہ آہستہ دو پروفیسرز نے جن میں دوسرے اسلم انصاری تھے مجھے رام کر ہی لیا۔
جب میں مصطفے شاہ گیلانی گرلز کالج پڑھانے پہنچی تو مجھے پچھلی لیکچرار بُشرا کے لئے ہوئے پرچوں کا بنڈل تھما دیا گیا، وہ چلی گئی تھی اور میرا نیا امتحان شروع ہو گیا تھا ، اُس نے جو کچھ پڑھایا ہوگا اُس کا لُب ِ لُباب یہ تھا کہ میر تقی میر کا شعر میرے سامنے تھا:
یہ نشان ِ عشق ہیں جاتے نہیں
داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
تشریح یوں کی گئی تھی:
چاہے سرف سے دھو لو یا صابن سے یہ نشان کبھی نہیںں اُتریں گے۔
میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی اور پاپا سے آ کر کہا میں نہیں جاؤں گی، انہوں نے کہا تم آزاد ہو جاؤ نہ جاؤ، لیکن کچھ دن خود بھی محنت کر کے دیکھو، کیونکہ انہوں نے تمہیں بلایا ہے اپنے ہاں جگہ خالی ہونے پر، تم نہیں گئیں درخواست لےکر۔
پاپا کی بات میں نے مان لی اور ایک سال بعد کالج کی تقریب میں جب میں مسز گیلانی کے ساتھ بیٹھی تھی ، ایک خاتون نے آ کر پوچھا، مس ماہ طلعت کون ہیں؟ میری تو جان ہی نکل گئی کہ آئی کوئی شکایت،
مسز گیلانی نے میری طرف اشارہ کیا تو وہ خاتون گویا ہوئیں
جی میری بیٹی کہتی ہے ہمیں تو پہلی دفعہ پتہ چلا ہے کہ اُردو کہتے کسے ہیں؟
یہاں غالب کی مدد لے رہی ہوں:
منظور ہے گزارشِ احوال ِ واقعی
اپنا بیان ِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker