ہم 1992 میں اسلام آباد تھے، ملتان سے لطیف الزماں کا خط پاپا کے نام آیا:
میں بمبئی گیا تھا، اختر اُلایمان سے ملاقات رہی، پوچھ رہے تھے، مقصود زاہدی کیسے ہیں، پھر آپ کے لئے اپنی کلیات دی۔ میرے پاس امانت محفوظ ہے ، جب ملتان آنا ہو لے لیجئے گا۔
اختر الایمان پاپا کے اتنے عزیز دوست تھے کہ حالات کی تنگی میں ان کے میرٹھ کے مکان میں ایک سال تک ان کے ساتھ رہے تھے۔ ظاہر ہے یہ تقسیم سے پہلے کی باتیں ہیں۔انہوں نے ذاکر حسین دہلی کالج میں تحصیل علم کی اور پھر علی گڑھ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا ۔ 1945ء میں وہ بمبئی چلے گئے اور قسمت کا پہیا ان کے حق میں چل پڑا۔ وقت،گمراہ،اور بہت کامیاب فلموں کے اسکرپٹ ان کے قلم کا معجزہ ٹھہرے، دھرم پُترا اور وقت میں انہوں نے فلم فیئر ایوارڈ جیتا۔تاہم ان کی بڑائی ہے کہ نہ وہ ماضی بھولے نہ ماضی کے دوست۔اور ان کی دوسری اہمیت جو میرے لئے ہے وہ یہ کہ وہ اپنی شاعری میں یکتا ہی رہے۔
پاپا کی دوستی سے قطع نظر ، جب میں نے شاعری شروع کی، تو اخترالایمان میرے پسندیدہ نظم گو رہے، میں نے ان کو پہلے ہی تمام پڑھ لیا تھا،
بعد میں کلیات کا تحفہ بھی ہاتھ آ گیا۔ایک مختصر سی نظم جو اس وقت ذہن میں آرہی ہے:
دوسروں کو سُدھارنے کے بجائے
اپنی اصلاح پر نظر رکھو۔۔
میں نے انہیں بار بار پڑھا اور سراہا ہے، عموماً ان کی نظمیں طویل ہوتی ہیں، ان کی نظموں کے عنوان ذہن میں گردش کر رہے ہیں ، مسجد، ایک لڑکا، وہ مکان ،جب گھڑی بند تھی، اور بےشمار۔۔ ” ایک لڑ کا “ شاہکار نظم ہے ، جس میں انہوں نے خالقِ کائنات کی نعمتوں پر اظہار ِ تشکر کے بعد اپنی حالت زار کا رونا رویا ہے، کہ لعیموں کو تو دولت سے نوازا گیا اور میں اپنا کلام دوسروں کا کہہ کر انہی کے سامنے پڑھتا ہوں۔ تب ایک آرزوؤں سے بھرا دل لئے لڑکا میرے سامنے آتا ہے اور پوچھتا ہے ً اختر الایمان تم ہی ہوً؟ یہ سوال اس نظم کا ٹیپ کا مصرع ہے اور یہ لڑکا ہر ایسی جگہ آن کر سوال کرتا ہے ،جہاں شاعر خلافِ مزاج دنیا کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے،مثلاً اس طویل نظم کی کچھ سطور ملاحظہ کیجئے:
ایک لڑکا
خدائے عزوجل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں
مگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہے
یہ لڑکا پوچھتا ہے،اختر الایمان تم ہی ہو؟
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے،میرے قبضے میں
جز اک زہنِ رسا کچھ بھی نہیں،پھر بھی مگر مجھ کو
ظفرمندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطر
کبھی اپنا ہی نغمہ اُن کا کہہ کر مسکرانا ہے
سحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جب
یہ لڑکا پوچھتا ہے اختر الایمان تم ہی ہو؟
میں اس لڑکے سے کہتا ہوں
وہ شعلہ مر چکا جس نے کبھی چاہا تھا وہ خاشاکِ عالم پھونک ڈالے گا
یہ لڑکا مسکراتا ہے،یہ آہستہ سے کہتا ہے
یہ کزب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں!
”مسجد“ میں مسلمانوں کی حالت زار کا ذکر ہے، مسجد جو ویران اور شکستہ ہے اور پاس بہتی ہوئی ندی گویا وقت ہے جو اس پر طنز کرتے ہوۓ کہتی ہے:
مسجد
ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلس
پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے اور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھی
مرثیہ عظمت رفتہ کا پڑھا کرتا ہے
آ چکے صاحب ِ افلاک کے پیغام و سلام
کوہ و در اب نہ سنیں گے وہ صدائے جبریل
اب کسی کعبے کی شاید نہ پڑے گی بنیاد
کھو گئی دشت ِ فراموشی میں آواز ِ خلیل
تیز ندی کی ہر اک موج تلاطم بر دوش
چیخ اٹھتی ہے وہیں دور سے فانی فانی
کل بہا لوں گی تجھے توڑ کے ساحل کی قیود
اور پھر گنبد و مینار بھی پانی پانی
مجھے وہ اس لئے بھی پسند ہیں کہ باوجود ترقی پسند نظریات کے حامل ہوتے ہوئے بھی،انہوں نے اپنی شاعری میں اس کو پس منظر میں رکھا اور اپنی شاعری میں رومانیت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔اور سب سے اہم بات یہ کہ فلم انڈسٹری نے ان کی شاعری کا کچھ نہیں بگاڑا ۔وہ جدید نظم میں واقعی جدید ہیں اور سب سے جداگانہ بھی۔
جی تو چاہتا ہے ساری کتاب ہی کھول کر سامنے رکھ دوں، مگر ہم وہ سب کہاں کر سکتے ہیں جو جی چاہتا ہے!
سو آخر میں ایک طویل نظم کی چند سطور لکھ رہی ہوں:
ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر
کون سا ہے اسٹیشن
ڈاسنہ ہے صاحب جی
آپ کو اترنا ہے
جی نہیں ، نہیں لیکن
آسماں محل تھا اک
سیّدوں کی بستی میں
آسماں نہیں صاحب
اب محل کہاں ہوگا ؟
اس دیار میں شاید قیصر
اب نہیں رہتی
ملک کا یہ بٹوارا
لے گیا کہاں اس کو؟
ڈیوڑھی کا سناٹا
اور ہماری سرگوشی
ً مجھ سے کتنے چھوٹے ہو
اور مری گراں گوشی
ریل چلنے لگتی ہے
راہ کے درختوں کی چھاؤں ڈھلنے لگتی ہے
ڈیوڑھی کا سناٹا
اور ہماری سرگوشی
ہے رقم کہاں وہ سب؟
دُور اک پرندے نے گیت اپنا دوہرایا
ً آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہُوا دیکھا
گم کیا ہُوا پایا ً

