ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

رانی روپ متی ، باز بہادُر اور میر فیّاض حُسین زیدی ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

وہ بڑا سُنہرا زمانہ تھا جب اسکولوں میں ڈرامے کھیلے جاتے تھے، بزمِ ادب سجائی جاتی ، بیت بازی ہوتی۔ علاوہ درسی کتابوں کے رٹّے لگانے کے بچوں کو ا ن کی تہذیب، ثقافت، موسیقی، شعر و ادب سے بھی مِلوایا جاتا۔ ذہن تروتازہ اور تونگر بنتے محض زاہد ِ خشک نہیں۔ نہ ہی بقول شبلی نعمانی وہ صرف نوٹ چھاپنے کی مشین ہی بن کر رہ جاتے۔
میرے گورنمنٹ اسکول میں ایک ڈرامہ رچایا گیا، نام تھا
”ًروپ متی،باز بہادُر “
شاید میں پانچویں میں ہوں‌گی۔روپ متی جو لڑکی بنی نام اس کا تارہ تھا، اس نے لتا منگیشکر کے ایک کلاسیکل گیت پر رقص کیا تھا، وہ رقص، وہ تارہ اور وہ گیت تو خیر کیا ہی بُھولتا:
انڈیا میں ایک فلم بنی جس کے اداکار تھے بھارت بھوشن نروپاراے، مشہور گیت ہے
آ لوٹ کے آجا میرے میت تجھے مرے گیت بُلاتے ہیں۔
یہ کہانی بھی عجیب ہے۔اور اس قدر مقبول کہ دورِ اکبری میں اسے شرف الدین نے فارسی میں لکھا، ایک نام مترجم کا احمدلاُعمری بھی ہے۔ فارسی سے انگریزی میں L c crump نے منتقل کیا۔انگریزی نام رکھا،Lady of the Lotus نے روپ متی کی نظم بھی دی ہے ،
They who are wise
Avoid love’s lure
Yet tempted once
There is no cure
Save to press on
With banners high
Resolved to win
Or fighting die
باز بہادر کا باپ مالوہ کا گورنر تھا، باز بہادر خود موسیقار اور شاعر تھا، شکار کھیلتے ہوئے اس نے روپ متی کا حسن دیکھا جو سارنگپور کے جادورائےبرہمن کی بیٹی تھی باز بہادر نے بیاہ کی درخواست کی، روپ متی خود شاعرہ تھی،اسے دریا جنگل پرندے اچھے لگتے تھے، اس نے شرط کی کہ اگر دریاۓ نرمدا پہاڑ کمانڈو پر چڑھ جائے تو ممکن ہے۔ ہندی دیومالا کے مطابق باز بہادر نے دریا سے درخواست کی اور وہ دریا ایک ہزار فٹ بلند پہاڑبن گیا۔چونکہ اکبر کا عہد تھا اسلئے 1555 میں ہندو مسلم رواج کے تحت دنوں کی شادی انجام پائی۔
لیکن جیسے ہر پریم کہانی کا انجام ہوتا آیا ہے، اکبر کا ایک خاص گورنر احمدخان کوکا کو ،باز بہادر سے خاص کد تھی وہ ہر صورت روپ متی کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس نے مانڈو پر چڑھائی کی باز بہادر مارا گیا۔اور روپ متی نے ہیرا چاٹ کر خودکشی کرلی۔
اتنی طویل تمہید اس لئے باندھی کہ پاپا کے ایک بزرگ دوست جو اُن سے ،کوئی بیس سال بڑے ہونگے ،آریہ محلہ راولپنڈی میں رہائش پذیر تھے جب ملتان آتے اپنے چھوٹے بھائی ممتاز حسین زیدی کے ہاں،(جو خود نواں شہر میں مقیم تھےاور پاپا کے عزیز دوست بھی) ، تو پاپا سے ملنے ضرور آتے ، یہی حال پاپا کا تھا، نواں شہر ہو یا آریا محلہ، پاپا کے ان سے ملنے میں کمی نہیں آئی ۔بلکہ 1977 میں جب ہم بھائی جان کے ساتھ ایران جا رہے تھے تو وہ صاحبِ فراش تھے اور انہوں نے پاپا سے بطور ِ خاص مشہد میں امام رضا کے روضے پر دعا کی درخواست کی تھی، خیر پاپا کو روضے سے باہر آکر درخواست یاد آئی اور وعدہ نبھانے کے لئے وہیں دروازے پر میر فیاض حسین زیدی کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔ واپسی میں جب ہم راولپنڈی ان سے ملنے پہنچے تو وہ صاحب صحت یاب ہو چکے تھے اور پاپا کے شکرگزار بھی۔
اب اصل بات بتانی مقصود ہے ، جب کبھی میر فیاض حسین زیدی ہمارے ہاں تشریف لاتے آود میں چاۓ بنا کر لے جاتی تو پاپا کہتے ً بیٹھ جاؤ اور میر صاحب کی باتیں سنوً۔
انہیں بے تحاشہ اشعار، ضربالامثال قصے کہانیاں یاد تھیں،وہ ایک خزانہ تھے ماضی کے ادب اور تہذیب کا۔ کیتھل کے مہاجر تھے اور سوانح لکھی تھی فصل ِگُل کے نام سے۔ لیکن جب پاپا نے بتایا روپ متی باز بہادر کو انِہوں نےبھی(،کیوں کہ اس کہانی کے بہتیرے ترجمے فارسی،انگریزی،ہندی اردو میں ہوتے رہے) اردو میں لکھا، تب انکی وقعت میں میرے لئے مزید اضافہ ہوا، ۔ ان کا سُنایا ہوا ایک دوہا آج تک مجھے نہیں بھُولتا:
جَنونتی دَھنونتا جَنیو مت جَنیو گنُونتا
دَھنونتا کے دوار پڑے ہیں بڑے بڑے گُنونتا۔
ترجمہ:
اے جنم دینے والی کسی رئیس کو جنم دیجیو، فنکار کو نہیں!
کیونکہ بڑے بڑے فنکار رئیس کے دروازے پر پڑے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker