ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

چیدہ چیدہ،دیدہ اور شنیدہ لوگ ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

مخدوم رمضان شاہ گیلانی
میں نے انہیں نہیں دیکھا، ایک شام ہمارے نواں شہر کے گھر میں بھائی جان کے ساتھ اندر آئے تھے، کسی فوری ضرورت کی تکمیل کے لئے۔
لیکن پاپا سے اُن کے بہت تعلقات تھے، اور پاپا کی ہی زبانی ان کی بہت سی باتیں سُنیں، مثلا ً ان کی دو بیویاں تھیں،اور دونوں سے کافی اولادیں بھی۔ وہ امام حسین کے ایسے چاہنے والے تھے کہ محرم کے دس دنوں میں ان کے گھر میں کوئی بستر پر نہیں،سب فرش پر سوتے تھے۔ان کا گھر میں نے باہر سے دیکھا ،عیدگاہ کے پاس تھا۔ نام تھا ”قصرِ عبّاس“ ۔ انہوں نے پاپا کو یہ نام رکھنے کی وجہ بھی بتائی تھی، وہ چاہتے تھے کہ میری دونوں بیویوں کی اولادوں میں حُسین اور عبّاس جیسا پیار ہو۔ ان کے ایک صاحب زادے غالباً جوائنٹ سیکریٹری تھے۔
ان کے چھوٹے بیٹے نے خودکشی کرلی تھی،یہ خبر مصدقہ اس لئے ہے کہ بھائی جان (ڈاکٹر انور زاہدی) نشتر کالج میں تھے، اور انہیں معلوم تھا کہ اُس لڑکے کی فرسٹ ائیر ایم بی بی ایس میں جو فولِنگ ہوئی، وہ لڑکا اُسے برداشت نہیں کر سکا اور گھر آ کر ریوالور سے خود کو گولی مار لی، شاید کچھ عرصہ کومے میں بھی پڑا رہا لیکن باِلاَخِر مر گیا۔
صدیق رسول
پاپا کے ان دوست کو میں نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو،لیکن میرا اور امی کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔ صدیق رسول ملتانی تھے لیکن ان کی بیوی غالباً ایران یا افغانستان کی تھیں۔ بڑا مزا آتا جب ہم اُن کے گھر جاتے تو اپنی بیٹیوں سے فارسی میں خاطر تواضع کو کہتیں، ہمارے پلّے کچھ نہ پڑتا مگر ہم محظوظ ضرور ہوتے۔ہم ان کے اس بیٹے کی شادی میں شریک ہوئے جو فوج میں تھا، بیگم صدیق رسول بھی گھر سے باہر کم ہی نکلتی تھیں لیکن اپنی اس بہو کے ساتھ ہمارے گھر آئیں جس کا شوہر فوج میں تھااور 1971کی جنگ میں گیا ہوا تھا ،مجھے اتنا یاد ہے وہ بہو بہت اُداس تھی۔ ان کی بیٹی طیّبہ سے ایک مرتبہ کسی شادی میں ملنا ہوا پھر میں نے اُن کے گھر بھی حاضری دی۔ وہ بہت خوش اخلاق لیکن کم آمیز خاتون ہیں،وہ کبھی ہمارے گھر نہیں آئیں۔ صدیق رسول کے گھر میں ایک سانحہ بڑا اندوہناک ہو ا تھا ، اُن کا چھوٹا بیٹا جو میٹرک کا طالبعلم تھا اور بڑے بھائی کے پاس چھٹیاں گزارنے گیا ہوا تھا،شاید تیرنا نہیں آتا تھا اور تیرنے کے شوق میں سوئمنگ پول میں ڈوب کر مر گیا۔
ممتاز حسین زیدی
یہ میر فیاض حسین زیدی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ہمارے نواں شہر میں ہم سے ایک گلی کے فاصلے پر رہتے تھے۔یہ دوسرا گھر تھا جہاں امی مجلس میں جاتی تھیں۔ پاپا اور امی ماموں پھوپی کی اولاد تھے۔پاپا کے دادا کا اپنا اِمام باڑہ تھا امی کے والدین اور دادا شیعہ عقائد نہیں رکھتے تھے لیکن امی کی دادی جن کا نام صُغرا تھا،جو پاپا کی نانی تھیں وہ شیعہ تھیں امی شاید مزاجاً ان پر چلی گئی تھیں۔امام حسین کے نام پر امی کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ پاپا آزاد خیال آدمی تھے،اس کے باوجود ریڈیو پر شامِ غریباں کی مجلس سنا کرتے اور ہمیں بھی ساتھ بٹھاتے ،اس زمانے میں رشید ترابی مجلس پڑھتے تھے جو ہماری سمجھ سے بالا تھی کیوں کہ وہ زیادہ تر عربی میں آیات سُناتے۔ پھر عاشورے کی سہ پہر کو بڑی اُداسی سے یہ جملہ ہمیشہ دہراتے ” سب ختم ہو گیا “ ۔ میں اور بھائی جان پاپا کو چھیڑتے کہ اگر امی نہ ہوتیں تو ہمیں پتا ہی نہ چلتا محرم کب شروع ہوا۔ مجھے اور بھائی جان کو سختی کے ساتھ امی کی طرف سے ممانعت تھی کہ محرم کے دنوں میں گانے نہیں سنے جائیں گے۔ میرا اب بھی یہ حال ہے کہ جی بھی چاہے تو گیت نہیں سن سکتی محرم کے دنوں میں،ایسا لگتا ہے امی سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ہیں،حالانکہ وہ اب اس جہان ہی میں نہیں۔ پاپا کا حال یہ تھا کہ صدر بازار میں کلینک کے سامنے سے حضرت علی کی شہادت کا جلوس گزر رہا تھا ، پاپا احتراماً باہر آکر کھڑے ہوگئے، ممتاز حسین زیدی صاحب جلوس میں سے باہر نکل کر پاپا کے ساتھ آ کھڑے ہوئے اور پاپا کا ہاتھ اُٹھا کر سینے پر رکھ دیا، پاپا مُسکرائے اور لحظہ بھر بعد ہاتھ نیچے کر لیا۔ محرم کی آٹھ کو ممتاز چچا باقاعدگی سے پاپا کو حاضری کے لئے مدعو کر نے آتے،اور پاپا بھائی جان شریک بھی ہوتے۔ ممتاز چچا بھی پاپا کو چھیڑا کرتے کہ آپ بھابی کی وجہ سے بخشے جائیں گے۔پاپا نے ممتاز چچا کی موت کا گہرا صدمہ لیا تھا،بہت سی گولیاں کھا کر سو گۓ تھے اور تا دیر سوتے ہی رہے، پھر محلے کے ڈاکٹر ظفر نے آ کر انجیکشن لگایا تب ہوش میں آۓ۔ جب 1990 ء میں ہم اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے تو ممتاز چچا کے بڑے بیٹے ریاض جو شاید ائر لائن میں ایگزیکٹو پوسٹ پر تھے اور چکلالہ میں مقیم ہونگے ،انہوں نے کہیں سے بھائی جان کا فون نمبر حاصل کیا پھر ملنے آۓ اور عجیب بات یہ بتائی کہ ”رات کو ابا خواب میں آۓ تھے انہوں نے کہا تمہارے مقصود زاہدی چچا اسلام آباد میں ہیں ،جاؤ اور ان کی خیر خبر لو “۔
جب میں ننھی منی سی تھی اور ممتاز چچا کو آداب کرتی تو وہ ہمیشہ کہتے شاد باش۔ اب سوچتی ہوں یہ شاد باش ہی ہو گا جو بگڑ کر شاباش رہ گیا۔
یاسین صدیقی
یہ بھی ہمارے نواں شہر کے رہائشی تھے۔گلی کے باہر انکم ٹیکس کے دفتر کے سامنے ان کا کلینک تھا ،ہومیوپیتھ ڈاکٹر تھے اور پاپا کے دوست بھی۔ ان کی پہلی بیوی ملتانی تھیں اور یہ خود بھی مگر دوسری بیگم بھوپال سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ شیعہ عقائد کے اور دوسری بیگم اہلِ سُنت میں سے تھیں، لیکن تب لوگ خوش عقیدہ ہوا کرتے تھے اور کم کم متعصبانہ رویہ رکھتے تھے۔ چنانچہ وہ مجالس میں آتیں،ماتم کرنا ضروری تو نہیں، کیوں کہ کسی بھی غم یا خوشی کو منانے کی کوئی حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ امی بھی ماتم نہیں کرتی تھیں،بس ہاتھ سینے پر رکھ لیتی تھیں۔ اصل چیز تو احترامِ غمِ حسین ہے وہ امی میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا، لیکن امی کو پاپا کی طرف سے دو گھروں سے زیادہ میں شرکت کی اجازت نہیں تھی ۔صدیقی چچا کی بیٹی سیما میری دوست ہیں ہمارا مِلنا جُلنا اکثر رہتا ہے۔وہ انگریزی میں ایم اے ہی نہیں، انہوں نے فارسی فرینچ میں ڈپلومے بھی لئے ہوۓ ہیں،پھر بہت با ذوق ہیں شعر و ادب کے معاملے میں۔ لیکن محرم،صفر کے مہینوں میں وہ مجالس کو پیاری ہو جاتی ہیں۔ شاید شیعہ بھی اتنی مجالس میں شرکت نہ کرتے ہوں جس قدر سیما کرتی ہیں۔وہاں زاکرین سے جو کچھ سن کر آتی اُس سے الُجھتی بھی بہت ہیں۔ظاہر ہے ہر باشعور آدمی الُجھے گا ۔جب میں کہتی ہوں جاتی کیوں ہیں؟تو بڑا مزے کا جواب دیتی ہیں ً ماہ طلعت گیٹ ٹو گیدر ہو جاتا ہے یہ بھی صحیح ہے، بقول غالب
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق،
صدیقی چچا کے بیٹے جمال بھائی اور ان کی بیگم تنویر بہت خوش خُلق ہیں،گھر جائیں تو ہر طرح تواضع کریں گے،لیکن گھر سے باہر کم ہی نکلتے ہیں ،جمال بھائی تو ائر لائن میں ایگزیکٹو پوسٹ کی ذمےداریاں سنبھالنے میں رہتے ہیں، تنویر بھابی جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں،میری دعا ہے انہیں صحت ملے۔
صدیقی چچا کا ایک جملہ مجھے کبھی نہیں بُھولا ۔میں 1978میں ٹایفایڈ میں پڑی تھی اور وہ بیچارے روز مجھے دیکھنے آتے ایک دن بولے ”میں تمہارے لئے نہیں اپنے دل کی لگی کو آتا ہُوں “۔
میر حسن کا مصرع یاد آگیا:
یا رب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker