ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

کبیرداس کا جہانِ دیگر ( 2 ) ۔۔ماہ طلعت زاہدی

 

( گزشتہ سے پیوستہ )
کبیر کے مطابق ایک دنیا دار آدمی اور بے نیازِ دنیا کا کبھی میل نہیں ہوسکتا۔ دنیا دار آدمی کو دنیا کی لالچ ،رشتوں ناتوں کے پھندے اور توڑ جوڑ کی چالیں اس بری طرح الجھائے رکھتی ہیں کہ اس کا من کبھی پاک اور صاف نہیں ہوسکتا۔ اور اگر من پاک نہ ہو تو سمجھنا چاہیے کہ بدن سے روح نکل چکی ہے۔ اور پاک من (یعنی بدن اور آتما کی یکجائی) کے بغیر اطمینان ، سکون اور ابدی ، لافانی مسرت کاعالم کبھی ہاتھ نہیں آسکتا۔ ایسا عالم جہاں سرشاری کی شراب برس رہی ہے اور تمام اندیشے اور وسوسے ختم ہوچکے ہیں۔
کبیر داس کو سچ مچ ایسا عرفان اور آنند مل گیا تھا۔ بغیر غذا کے پیٹ بھرا۔ بن پانی پیاس بجھی۔ چاند سورج اور رات اور دن کی بھی محتاجی نہ رہی۔ ایک انبساط کا عالم ہے۔ ایک جہانِ سکون ہے جہاں صرف غیب کا پرچم لہرا رہا ہے۔ جہاں چاند سورج ستاروں کے چراغ جھلملا رہے ہیں۔ وہ کبیر کہتے اس جہان کو پانے کے لیے عشق کو ذریعہ بنانا پڑتاہے۔ تب ایک عارف بغیر پروں کے پرواز کرتا ہے۔ بغیر آنکھوں کے دیکھتاہے اور ناقابل بیان آنند سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ اس لیے ایک دوہے میں کہتے ہیں
پوتھی پڑھ پڑھ جگ مُوا، پنڈت بھیا نہ کوئے
ڈھائی اچھر پریم کے پڑھے تو پنڈت ہوئے
کہتے ہیں:
چکر کے بیچ میں کنول ات پھولیا
تاس کا سکھ کوئی سنت جانے
kabir das
یعنی کائنات کی جھیل میں جو دل کا کنول کھلا ہے اس کی مسرت اور آنند ایک پاک روح ہی محسوس کرسکتی ہے۔ کہتے ہیں:
سانچ ہی کہت اور سانچ ہی گہت ہے
کانچ کو تیاگ کر سانچ لاگا
کہیں کبیر یوں بھگت نربھئے ہوا
جنم اور مرن کا بھرم بھاگا
(یعنی سچ ہی کہتا اور سچ ہی بولتا ہے۔ مصنوعی چمک دمک کو چھوڑ کر صرف سچ کی سادگی کو پکڑ لیاہے۔ اس طرح بھگت (پجاری ، درویش ، عارف ، بے نیاز) نڈر ہوجاتا ہے اور اس کے دل سے مرنے اور جینے کا خوف بھی نکل جاتا ہے) اور جب بے خوفی کی فضا چھا جاتی ہے تو پھر بقول کبیر
سدا آنند دکھ دند ویاپے نہیں
پور آنند بھرپور دیکھا
یعنی پھر صرف سرور ہی سرور رہ جاتا ہے۔ دکھ اور کشمکش سے جان چھٹ جاتی ہے۔
کہتے ہیں:
تیرتھ میں تو سب پانی ہے
ہووے کچھ نہیں انہاتے دیکھا
پُران کُران سبے بات ہے
یا گھٹ کا پردہ کھول دیکھا
انبھو کی بات کبیر کہیں یہ
سب ہے جھوٹی پول دیکھا
(کبیر بانی ،ص 157)
یعنی تیرتھ کے پانی میں نہا کر بھی پاک نہیں ہوسکتے۔ پُران اور قرآن فقط لفظ ہی لفظ ہیں اگر وجود کا پردہ نہیں اٹھایا تو ان لفظوں کے معنی نہیں ملیں گے۔ کبیر تو صرف تجربے کی بات کرتے ہیں باقی سب باتیں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔
کہتے ہیں:
اتم گیان بنا جگ جھوٹا
کیا متھرا کیا کاشی
یعنی خود شناسی اور خدا شناسی کے بغیر کچھ پلے نہیں پڑتا۔ چاہے متھرا چلے جاؤیا کاشی۔
کہتے ہیں میں نے اپنے محبوب کو اپنے اندر بسا لیا ہے:
نینا اندر آوتوں ،جیون ہونین جھپنیؤں
نا ہوں دیکھوں اور کوں ، ناتجھ کو دیکھن دیوں
یعنی پلک جھپکاتے ہی میرا محبوب میری آنکھوں میں بس گیا ہے اور میں نے آنکھیں بندکرلی ہیں۔ اب نہ میں خود کسی اور کو دیکھتا ہوں ، نہ اسے دیکھنے دیتا ہوں۔
اس حالتِ سپردگی کو یوں بھی بیان کیاہے:
عاسک ہو کر سونا کیسا
پائے پائے پھر کھونا کیسا
کہیں کبیر یہ پریم کا مارگ
سر دینا تو رونا کیسا
یعنی جب عاشق ہو تو نیند اور تکلیف ،رونا دھونا کیسا ،محبوب کو پالیا تو اس میں بس جاﺅ اب کھونا کیسا؟
ایسے میں ایک درویش صفت شاعر کا وہ جہان تعمیر ہوتا ہے جو دراصل جہانِ دیگر ہے۔ جہاں آنے کے لیے وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں شاہ ہو یا گدا ،دنیا سے تھکا ہوا ہوا یا ذاتِ مطلق کی تلاش میں پھرنے والا ،سب ہمارے دیس میں آجاؤ۔ یہاں کوئی غم نہیں۔ یہاں سب برابر ہیں۔ اپنے اپنے غم کی تھکان یہاں اتار کر سستا لو۔ یہ کبیر کی شاعری کاایسا جہان ہے جہاں آسمان اور زمین کے نہیں بلکہ ، ازلی اور ابدی صداقت کے مہتاب جگمگا رہے ہیں۔ یہ ایک شاعرِ صادق ،عاشقِ کامل اور ایک عارفِ معتبر کی دنیاہے جو بڑے بڑے وعظ دینے والوں کی طرح معاملے کوالجھاتا نہیں۔ جو جانتا ہے کہ مذہب زور اور زبردستی کا نام نہیں۔ جسے معلوم ہے کہ ظاہری عبادات اور جھوٹی رسم و رواج کی نمایش سے خدا نہیں ملتا۔ مالک ایک پاک روح میں خودبخود سما جاتا ہے اور پاک روح ایک ایسے انسان کا وجود ہے جس کے ہاں رحم ، عاجزی ، انسان دوستی اور محبوب کو پہچان لینے کی بڑی کھری صلاحیت موجود ہے۔
بقول کبیر
پریم جہاں ہوئے تہاں کام نہیں
کہے کبیر یہ ست وچار ہے
سمجھ وچار کر دیکھ مانہی
یعنی جہاں محبت ہے وہاں سے ہوس نکل جاتی ہے اور کبیر کے بقول یہی سچا ادراک ہے۔
لیکن یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کو کوئی سورما ہی لڑ سکتا ہے اور لڑائی بھی ایسی ہے جو زندگی کے آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔
سادھ سنگرام ہے رین دن جھوجھنا
دیہہ پر جنت کا کام بھائی
کہیں کبیر سنو بھائی سادھو
یہ گم بِرلے پائی
یہ نجات کا راستہ واقعی کسی سورما کو ہی مل سکتاہے اور کبیر داس ایسے ہی ایک سورما تھے۔ وہ اپنی ساری زندگی ایک دیومالائی کردار کی طرح معما بن رہے کہ ہندو تھے یا مسلمان اور ایک روایت کے مطابق ان کے مرنے کے بعد جب جھگڑا اٹھا کہ انہیں جلایا جائے یا دفن کیا جائے تو ان کی لاش غائب ہوگئی۔ اور وہاں کچھ پھول پڑے رہ گئے۔ آدھے پھول ہندو اٹھا لے گئے اور آدھے مسلمان۔ وہ محبوب شاعر تھے اور محبوب شاعر رہیں گے۔ وہ ایک عظیم انسان تھے اور عظیم آتما۔ یہ مضمون ان کی شاعری اور معرفت کے سمندر کے آگے محض اظہارِ عقیدت کی ایک بوند کی حیثیت رکھتا ہے۔
( مکمل )
بشکریہ :ماہ نو

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker