ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

کبیرداس کا جہانِ دیگر ( 1 ) ۔۔ماہ طلعت زاہدی

کبیرداس جن کا عہد تقریباً 1400ءسے 1500ءتک بنتا ہے ،اپنی ذات میں عجیب و غریب،دلکش،دلیر اور متنازعہ فیہہ شخصیت گزرے ہیں۔ اس زمانے کی کٹھ ملائیت اور سنگدل برہمنی سماج کا مقابلہ انہوں نے بحیثیت ایک عارف ، جس طرح ڈٹ کر کیا اور جس طرح اپنے کلام میں وہ ازل سے ابد ،ابتدا سے لاانتہا تک کے بھید کھول گئے ، کسی ہماشُما شاعر کی سوچ کی رسائی بھی وہاں تک نہیں ہوسکتی۔ انہیں پڑھتے ہوئے ،کہنے کو کبیر اسی زمین کے باسی تھے ، لیکن ان کا نغمہ زمان و مکان کی حدیں توڑ کر صوتِ سرمدی میں گھُل مل جاتا ہے۔
سوانس اُسوانس کا پریم پیالا پیا
گگن گرجے تہاں بجے تورا
(آتی جاتی سانس کا پریم پیالہ اس نے پیا ہے ، سارا آکاش سنگیت سے بھرا ہواہے)
کہے کبیر پران پران سندھ میں ملاوے
پرم سکھ دھام تہاں پران میلے
(کبیر کہتے ہیں کہ جو کوئی اپنی زندگی کو زندگی کے سمندر میں ملا دیتا ہے۔ اس کی روح مہا آنند میں ڈوب جاتی ہے)
مکھ بانی تکو سواد کیسے کہے
سودا پاوے سوئی سکھ مانے
کہیں کبیر یاسین گونگا تئیں
ہوئے گونگا جوئی سین جانے
(ان حرفوں کا ، اس زبان کا مزہ کیسے بتایا جائے۔ جس نے مزہ چکھا ہے وہی اس لذت کو جانتا ہے۔ کبیر کہتے ہیں اس لذت کو پانے کے بعد جاہل دانش مند (یاسین) بن جاتا ہے اور دانش مند خاموش ہوجاتا ہے۔)
کبیر پیشے کے اعتبار سے جُلاہے تھے ، لیکن ان کے پاس ایسی زبان موجود تھی ، جس سے وہ کسی بڑے سے بڑے ،پاک پوتر برہمن کو للکار سکتے تھے۔ اسی لیے ایک روایت ہے:
”کچھ برہمن گنگا کے کنارے بیٹے گنگا جل کی پاکی بیان کررہے تھے۔ تبھی ایک برہمن کو پیاس لگی۔ کبیر جو پاس ہی بیٹھے گفتگو سن رہے تھے ،دوڑ کر اپنے پیالے میں پانی لے آئے۔ برہمن نے کبیر کی ذات پوچھ کر ، اپنے دھرم کو بھرشٹ ہونے سے بچانے کے لیے ، پانی پینے سے انکار کردیا۔اس پر کبیر نے طنزیہ لہجے میں بڑی بہادری سے کہا۔ ”اگر یہ گنگا جل مجھ جُلاہے کے برتن کو بھی پاک نہیں کرسکتا تو اس کی پاکی کا بیان منافقت ہے۔“
کبیر منافقت کے سخت خلاف تھے۔ وہ جھوٹی زندگی بسر کرنے کو گناہِ عظیم سمجھتے تھے۔ ان کی ساری جنگ ، اسی لیے اپنے عہد کے مذاہب اور ظاہری رسوم و رواج کے خلاف تھی۔ وہ ملا اور پنڈت دونوں سے عاجز تھے۔ کہتے تھے ایک گائے کاٹتا ہے اور دوسرا نہیں کاٹتا۔ لیکن ان دونوں میں فرق کوئی نہیں۔ ان کا بس چلے تو اپنی برتری جتانے اور حکومت قائم رکھنے کی خاطر ،یہ انسانی خون کی ندیاں بہادیں۔ وہ کہتے ہیں: ایک پتھر پوجتا ہے ،تلک لگاتا ہے ، پیپل کے درخت کو پوتر مانتاہے۔ لیکن انسان کو جانور سے بھی کم تر اور بدتر جانتا ہے۔ اپنے جیسوں کو اچھوت بتاتا ہے اور اچھوت کے ہاتھ لگانے سے اس کا دھرم ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرا مسجدوں میں وعظ دیتا ہے۔ ٹوپی ، عبا اور قبا میں اپنا بھرم بناتا ہے۔ لیکن اپنی پاک کتاب ،قرآن سے کچھ حاصل نہیں کرپاتا۔ وہ انسان دوست بھی نہیں اور خدا سے بھی دور ہے۔ وہ خدا کو ایک ظالم ، محتسب اور منتقم کے روپ میں پیش کر کے عوام کو خالقِ حقیقی سے کوسوں پرے کردیتا ہے۔
حقیقت میں یہ دونوں مذہبی نمایندے محض اپنا اپنا اُلو سیدھا کررہے ہیں۔ انہیں انسان کے دکھ سکھ ، انسانی گھر کی خوشیوں۔ گھر گھر ہستی ،سماج کے امن اور سکون ،کائنات کے فطری حسن اور مالکِ حقیقی سے دور کی بھی نسبت نہیں۔
وہی مہادیو، وہی محمد ،برہما ، آدم کہیے
کوہندو ، کوتُرک کہاوے ،ایک جمیں پر رہیے
وید کتیب پڑھے وہ کتبا ، وے مولانا وے پانڈے
بیگر بیگرنام دھراے ، اِک مٹیا کے بھانڈے
دُئی جگدیس کہاں تے آیا ، کہہ کوئے بھرمایا
اللہ ،رام ،کریما ،کیسو ، ہجرت نام دھرایا
(کبیر بانی ، نظم 126۔ ص 293)
(یعنی دنیا کے مالک الگ الگ نہیں۔ اس فریب میں مبتلا نہ ہو۔ اللہ ، رام ، رحیم سب ایک ذاتِ مطلق کے بار بار دہرائے جانے والے نام ہیں۔ کوئی ہندو کہلاتا ہے۔ کوئی مسلمان (تُرک) لیکن اصل میں یہ سب ایک مٹی سے گھڑے ہوئے برتن ہیں اسی لیے کبیر داس کا مذہب انسان دوستی ہے۔ انسان دوستی میں وہ ، جب محبت اور محبوب کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا کلام سپردگی اور محویت کی بارش میں بھیگ بھیگ جاتا ہے۔ کہتے ہیں:
جس دن محبوب آتا ہے ، اس دن پرواری صدقے ہونے کو جی چاہتا ہے۔ جس آنگن میں وہ بیٹھتا ہے وہ آنگن دنیا جہان سے زیادہ نیارا لگتا ہے۔ جن راہوں سے وہ گزرتا ہے ان راہوں پر آنکھیں بچھ بچھ جاتی ہیں۔ پیاس ،ملن کی خوشی میں ناچتی اور گاتی ہے۔ محبوب کا چہرہ آنکھوں میں کُھب جاتا ہے۔ اس کے پاؤں دھو کر پینے کو جی چاہتا ہے۔ وہ دن مبارک لگتا ہے،جس دن محبوب کے دیدار کی دولت ملتی ہے۔
آج کے دن میں جاؤں بلہاری
پیتم صاحب آئے میرے پہونا
گھر آنگن لگے سہونا
سب پیاس لگے منگل گاین
چرن پکھاروں ، بدن نہاروں
تن من دھن سب سائیں پہ واروں
وہ کہتے ہیں محبوب کی خاطر قربانی دینا ، اپنی ذات کو محبوب کی ذات میں گُم کر دینا اپنی تمام خواہشات کو محبوب کی خواہشات کے آگے ہیچ جاننا ہی پیار کی سچی پہچان ہے۔ ان کے نزدیک محبوب کی ذات سکون کا ذریعہ ہے اور اس کے قدموں میں بیٹھ کرہی جینے کا اصل مقصد حاصل ہوتا ہے۔ محبوب وہ ہستی ہے ،جس کی وجہ سے فطرت کا حسن نکھر کر سامنے آتا ہے۔ فطرت کا حسن اور محبوب کی ذات کا حسن دونوں مل کر ایک عاشق صادق اور شاعر کامل کو عارف کے درجے پر پہنچا دیتے ہیں۔
اس مقام پر گھٹاؤں کا جھوم کر آنا ،خلد کے جھولے میں ، جہاں شعور اور لاشعور کے ستون گڑے ہیں َ صبح ، شام ، سورج چاند ستارے جلتے ہوئے چراغوں کی مانند ایک تسلسل کے ہنڈولے میں جھول رہے ہیں۔ شفق کی سرخی ، چاندنی کی ٹھنڈی ،جھیل ،دریا ، ساگر ، موسموں کا سفر ، پھل ،پھول اور وضع وضع کے پرندے ،صحرا اور دریا ، پہاڑ اور چشمے ، یہ سب مل کر دل کوجینے پر آمادہ کرتے ہیں۔
آٹھوں پہر متوال لاگی رے
آٹھوں پہر کی چھاک پیوے
آٹھوں پہرے مستان ماتا رے
برہم کے دیہہ میں بھگت جیوے
(آٹھوں پہر مستی کا عالم ہے۔ جام پر جام چل رہے ہیں۔ سرمستی چھائی ہوئی ہے۔ برہم (خالق) خود بھگت (عبد) کے وجود میں سماگیاہے۔)
قابل غور بات یہ ہے کہ کبیر داس ایک صوفی شاعر ہوتے ہوئے بھی تارک نہیں۔ ان کا فلسفہ ترکِ دنیا کا فلسفہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں: گھر انسان کے ابدی سکون اور مسرت کارازہے۔ باہر بھٹکنا بیکار ہے۔ گھر میں دل لگانا چاہیے۔
یہیں وصل ہے ، یہیں مسرت۔ یہاں کے دکھ بھی ایک سکھ کا درجہ رکھتے ہیں۔ وسیع معنوں میں کبیر کے ہاں گھر ،جسم ، بدن ، وجود اور دنیا کا استعارہ بھی ہے۔ یہاں سے وہ ایک انوکھی اور سچی بات کہتے ہیں اصل چیز یہ زندگی ہے۔ اس زندگی اور اس کے مسائل کے بیچ جس مہاتما نے کوئی حل نکال لیا ،سمجھ لو کہ اس کی نجات ہوگئی اور جس نے اس دنیا میں انسان کو قریب لاکر ، اس سے پیار بڑھا کر ، اس کے دکھ درد کو دور کر کے مسائل کو حل کردیا ،اس کو خدا یہیں اسی جنم اور اسی بدن کے بیچ مل گیا۔ جس نے اس زندگی میں خالق حقیقی کے بھید کو پالیا ، جیون کو ڈھنگ سے برت لیا اس نے گویا اپنے مالک کو رام کرلیا۔ خالق حقیقی سے ملاقات کے بعد اور اپنے اصل مالک کو پہچاننے کے بعد انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے،جہاں ازل اور ابد کی جھالر لٹک رہی ہے۔ وہاں حسن ہی حسن اور سکون ہی سکون ہے۔ یہ آنند دائمی ہے۔ اسے کہیں کہیں کبیر نے ”شونیہ“ کا نام دیاہے۔ ”شونیہ“ کا مطلب وہ مطلق خاموشی یا گہرا سکون اور دائمی آنند لیتے ہیں یعنی اس دنیا کے جھنجھٹوں سے نجات مل جانے کے بعد ایک ایسا مقامِ روحانی جہاں ”شونیہ کے محل“ میں ذاتِ مطلق سے ملاقات ہوگی۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے وہ کہتے ہیں۔
گھونگھٹ کے پٹ کھول ری تو ہے پیا ملیں گے
ان سے ان کی مراد ہے کہ انسان کو ایک دلہن کی طرح نہا دھو کر،کھوٹ کپٹ، حرص ، ہوس سے پاک ہو کر، اپنے نیکیوں اور اچھائیوں کا سنگھار کر کے خود کو اپنے مالکِ حقیقی کے سپرد کردینا چاہیے۔ اور اس کی رضا میں اپنی مرضی کو گُم کردینا چاہیے۔ تب پیا ملتے ہیں۔
پیا کا سچا پیار پانے اور حقیقی وصال تک پہنچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مایا کے جال کو سمجھ لیا جائے۔ یہ بھی کبیر کا ایک اہم موضوع ہے۔ مایا (یعنی دنیا ،دولت ، زندگی ، حاصل وغیرہ) ایک کثیر المعانی لفظ ہے اور اتنے ہی اس کے پھندے بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم جیسے درویشوں کے پاس مایا کاکوئی کام نہیں۔ ہم تو اسے ”ٹھگنی“ مانتے ہیں۔ یہ تو وہ ہے جس کا کوئی گھر اور کوئی پریتم نہیں۔ ایک آوارہ عورت کی طرح یہ راجہ کی رانی ہے تو بھگت کی بھگتائن۔ جوگی کی جوگن ہے تو پنڈت کی پنڈتاین۔ پجاری کے گھر یہ رتی بن جاتی ہے تو شِو کے گھر میں بھوانی۔ اس کو پہچاننا بہت ضروری ہے ورنہ آدمی اس کے پھیر میں آکر ساری عمر بھٹکتا رہتاہے اور خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ یہاں جناب امیر علی ابنِ ابن طالب کا وہ قول یاد آتا ہے جس میں انہوں نے دنیا کو تین طلاقیں دینے کا ذکر کیا ہے۔
کبیر بھی کہتے ہیں”اے مایا! تم میرے لیے بہن ، ماں اور خالہ کا درجہ رکھتی ہو ، لیکن اگر میں تمہیں چُھو بھی لوں تو میرے رام مجھ سے روٹھ جائیں گے۔ اور وہ کہتے ہیں ”تم کون ہو؟ ہم نے تو عالم ، مُلا ، پنڈت ، واعظ سب کو چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے تو کتاب اور قلم ، کاغذ اور روشنائی سے بھی ناتا نہیں رکھا۔ ہم نے یہ شاعری اور عارفانہ باتیں اپنے سچے تجربے ، سادھنا (ریاضت) کی بدولت کہی ہیں۔ یہاں وہ اصل فنکار اور شاعر کا مرتبہ بھی اجاگر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں۔
”اصل سوار وہ ہے جو اڑیل گھوڑے کو پھیرے۔ سدھائے ہوئے گھوڑے پر سواری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پھر کہتے ہیں اصل شاعر بھی وہ ہے جو اپنے تجربے سے گزر کر اس کی کتھا سنائے۔ جگ بیتی سنانے سے کیا حاصل ہے۔“
لکیر کا فقیر بننا کبیر کی فطرت کے خلاف ہے۔
ساکھی لائے جتن کر ، اِت اُت اچھرّ کاٹ
کہے کبیر کب لگ جیے ، جھوٹی پتل چاٹ
(کبیر بانی ، ص 247)
کبیر شاعر کو میدانِ حیات میں عملاً کود جانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ وہ اسے غیب کی نوبت (صوتِ سرمدی) سننے کو کہتے ہیں۔
وہ اسے فطرت کے حسن سے براہِ راست حظ اٹھانے کی تعلیم دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس کائنات اور زندگی کو ایک جھیل کی طرح سمجھو اور اپنے دل کو ایسا کنول بنالو جو اس جھیل پر کھلا ہوا بھی ہے لیکن اس کی پتیاں اس جھیل کے پانی سے آلودہ بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر تم عشقِ حقیقی کی شراب سے معرفت پاگئے تو سمجھ لو کہ تم ایسا پکار برتن بن گئے جو کمہار کے چاک پر دوبارہ نہیں چڑھے گا۔
اس مثال سے انہوں نے آواگون کی طرف اشارہ کیا اور بقول مہاتماگوتم بدھ، بھی تکمیلِ انسانیت (یعنی ایک مکمل انسان بن جانا ، خواہش حرص و ہوس سے پاک ہو جانے کے بعد انسان جنم کے چکر سے نکل جاتا ہے۔
اس کے لیے جوگی کی طرح لال کپڑے پہننے یا مولوی کی طرح ٹوپی اور قبا کی قطعاً ضرورت نہیں۔ دل کو رضائے الٰہی کا پابند کرنا شرط ہے۔ کبیر ایسی ریاضت (سادھنا) عبادت کے بھی خلاف ہیں ، جس میں جسم کو تکلیف دی جائے کہتے ہیں
”سہج سمادھ بھلی“
اپنے آپ کو تن اور من سے اس ذاتِ واحد میں گم کردو۔ فطرت کی کتاب کی ورق گردانی کرو اور رب کے بندوں سے محبت۔ یہی ”سہج سمادھ“ (آسان عبادت) ہے۔ کیا فائدہ کہ تم جسم کو تو تکلیف دو۔ روزہ ، نماز ، پوجا ، یاترا ،گنگااشنان کرو۔ لیکن انسان سے دور رہو اور خالقِ کائنات کی منشا کو نہ سمجھ پاؤ۔
( جاری ہے )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker