ادبفہیم عامرلکھاری

کہا عمران تو ہو گا ۔۔ فہیم عامر

صاحبو، تب ٹی وی چینلز کی بھرمار کہاں ہوتی تھی۔ ذرا بھر سستانے کے لیئے محض ایک سرکاری چینل ہی مہیا تھا جہاں بلیک اینڈ وہائٹ ٹیلی ویژن سیٹ کے روبرو گھر بھر کی بڑی بوڑھیاں، بزرگ، جوان، بچے سبھی اپنی اپنی باری پہ بورہو لیا کرتے تھے۔ اِس کام کے لیئے اُنہیں ریموٹ کنٹرول ہاتھ پر تھپتھپا تھپتھپا کر سینکڑوں چینل بدلنے کی کھکھیڑ میں نہیں پڑنا پڑتا تھا۔ سرِ شام ہی محلے بھر کے لونڈے لپاڑے ٹی وی سیٹ کے آگے بِچھی دری پر یوں پھسکا مار کر بیٹھ جاتے گویا نشرواشاعت کی آج ہی موت ہوئی ہے۔
یہ اِسی دورِ نارسا کی بات ہے جب ایک مزاحیہ پروگرام میں معین اخترمرحوم نے غالباً انور مقصود کی لکھی ایک نظم پڑھی جو خاصی مقبول ہوئی۔ اب پوُری نظم تو مرضِ نسیاں کھا گیا، ہاں چار مِصرعے بوجوُہ یاد رہ گئے۔
کہا، کیا تُم سیلیکٹر ہو
کہا، ہاں میں سیلیکٹر ہوُں
کہا، عِمران کا ڈر ہے
کہا، عِمران تو ہو گا
ہمیں اِن مِصرعوں کی سمجھ 2018 کے بعد آئی ورنہ لڑکپن کے اُن دنوں میں توہم سیلیکٹرز اور عمران کو کرکٹ کے حوالے سے ہی جانتے تھے۔ اُن دنوں سے ہماری مُراد میٹرک کا امتحان دینے کے بعد فارغ البالی کے وہ ایّام ہیں جب ہمارا پہلا افسانہ ’اگلا سوُرج آنے تک‘ ادبیات میں شائع ہُوا اور اکادمی ادبیات نے اِس ضِمن میں ہمیں اعزازیئے کا ایک چیک بھی ارسال کر دیا۔
افتخار عارف اُس وقت اکادمی کے چئیرمین تھے اور ہماری دادی بھی حیات تھیں، سو پوُرے محلے میں پورے فخر کے ساتھ وہ چیک دکھلاتی پھریں تاوقتیکہ چیک ہٰذہ کی تاریخ نہ نکل گئی۔ مگر اِس بے مایہ چیک سے ہمیں ایسا ولولہ مِلا کہ لکھتے چلے گئے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم نے ایک دن اعزازیہ کا یہ چیک بھنا کر رقم جیب میں ڈالی تو پتہ بھی نہ چلا کہ کب لڑکپن کا خوشنما پرندہ ہمارے شانے پر سے پھُرررر سے اُڑ گیا اور اب کبھی لوٹ کر آنے والا نہیں۔
اکادمی ادبیات کا قیام فیض احمد فیض کی کاوشوں سے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہُوا تھا۔ اِس ادارے کے اغراض و مقاصِد میں ادبی وِرثے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے عہد کے ادیبوں اور دانشوروں کے لیئے مالی سہارا بننا بھی تھا، خصوصاً اُن ادیبوں اور شاعروں کے لیئے جِن کی جوانی کا پرندہ کب کا ہماری طرح اڑنچھو ہو چکا تھا مگر انہوں اپنی تمام تر نجی ذمہ داریوں کو پسِ پُشت ڈالتے ہوئے اپنے عہد کی آئینہ گَری کو ترجیح دی بلکہ آئینہ گَر کیا یہ لوگ تو خود ہمارے عہد کا آئینہ تھے، ہمارے سماج کی نبض، تاریخ میں ہماری نسل کی اصل شناخت۔ کیا کیجے کہ اِن عہد ساز معروفین میں سے کُچھ آج بھی سانسیں لینے پر مجبوُر ہیں۔
یادِش بخیر، جب نذیر ناجی اکادمی کے چئیرمین بنے تو لگ بھگ دو ہزار مصنفین کی انشورنس بھی کروائی گئی، تمام صوُبائی دارالحکومتوں اور ملتان میں اکادمی کی ذیلی شاخیں کھولی گئیں اور یوں بھی ملک بھر کے چنیدہ لکھاریوں کو اعزازیہ تو پہلے ہی مِل رہا تھا۔
پھر2019ء آیا۔ لکھاریوں کی کتابوں کی تصدیقیں کی گئیں اور دوبارہ فہرستیں مرتب کی گئیں۔ جی ہاں، بالکل ویسے ہی جیسے سرمایہ داروں کے ہاں کساد بازاری کے ادوار میں ملازمین کو لے آف کیا جاتا ہے۔ اِس پر سماج میں سرگوشی ہوئی ۔۔۔
کہا، کیا تُم سیلیکٹر ہو
کہا، ہاں میں سیلیکٹر ہوں
کہا، عمران کا ڈر ہے
کہا، عمران تو ہو گا
یعنی، حکمرانوں کے اللوں تللوں تو ہٰذہ مِن فظلِ ربی اِضافہ ہوتا چلا گیا مگر اکادمی کے لیئے مختص فنڈز کِسی نامعلوم مقام پر تحلیل ہونا شروع ہو گئے مگر یہ عمل سب کے لیئے خُفیہ نہیں تھا۔ ایک صاحب کو سندھ کی کِسی یونیورسٹی سے آ کر اکادمی کا چئیرمین لگنا تھا مگر وہ بھانپ گئے اور جوائن نہ کیا۔ ایک عرصے اکادمی بنا چئیرمین کے اس حالت میں ہے، جسے سادہ زبان میں ایاّمِ عدت کہا جاتا ہے۔ اور تو اور اکادمی سے ریٹائیرڈ ملازمین کی پنشن تک کوئی جواز بتائے بغیر رکی ہوئی ہے۔ اِس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ حکمران ان کی پنشن فراہم کرنے کی بجائے ’جواز‘ فراہم کر کے بری الزمہ ہو جائیں!
مزید یہ کہ حکومتِ وقت نے ذیلی دفاتر کا کرایہ تک ادا نہیں کیا۔ باقی رہے ہمارے عہد کے صورت گر تو وہ بھی گزشتہ چھ ماہ سے اپنے اپنے اعزازیئے کے انتظار میں شفا خانوں میں ادھار پر علاج معلاجہ اور مفت کی جھڑکیں حاصل کر رہے ہیں. سو۔۔۔
کہا، عمران کا ڈر ہے
کہا، عمران تو ہو گا

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker