میں خود پچھلے کئی برسوں سے واقعاتی شواہد کے مطابق بالواسطہ طور پر اسٹیبلشمینٹ اور ایجینسیوں کے ظلم کا شکار ہوں اور مجھ جیسے اور بھی بہت سے پاکستانی ہیں جنہیں ریاستی مافیا کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا کسی نہ کسی شکل میں دی جا رہی ہے۔ لیکن ریاستی دہشت گردی کا سامنا جس طرح سے بلوچ عوام براہ راست کر رہے ہیں ہماری تکالیف اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ نومبر 2023 میں ایک محنت کش نوجوان کے مبینہ طور پر سی ٹی ڈی کے ساتھ جعلی مقابلے میں شہادت کے بعد بلوچ یکجہتی مارچ بلوچستان کے مظلوم شہر تربت سے برآمد ہوا۔ یہ حسینی اور زینبی مارچ 21 دسمبر 2023 کو اسلام آباد پہنچا۔ یہاں پہنچ کر یہ قافلہ بلوچ خواتین مارچ میں تبدیل ہو گیا۔ اسلام آباد میں بلوچ قافلے کے استقبال کے لیے جمع ہونے والے کم سے کم چودہ بلوچ اور غیر بلوچ طلباء کو ریاست نے لاپتا کر دیا ہے۔ بلوچ خواتین پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے پاکستان پر قابض مافیا کے احکامات پر بدترین ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نوجوان خواتین کے دوپٹے کھینچے گئے اور عمررسیدہ بلوچ ماؤں کو لاتیں اور گھونسے مارے گئے۔ بلوچ خواتین مارچ کی روح رواں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو الگ کمرے میں لے جاکر چار مرد پولیس افسروں نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گندی گالیاں دیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور کوئٹہ میں جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹ ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی طرف سے اتنا بھیانک سلوک ان کے لیے حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی قانون نہیں ہے لیکن پنجاب اور اسلام آباد سے انہیں اس لاقانونیت کی توقع نہیں تھی۔ مشہور صحافی اور اینکر حامد میر نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے بلوچ خواتین پر کیے گئے ٹارچر کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس روداد کو انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی بیان کیا۔ ان کے مطابق بلوچ خواتین کو وزیراعظم کاکڑ کے حکم پر کوئٹہ ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی گئی جس کے خلاف احتجاجی قافلے نے بھرپور مزاحمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین کو ڈی پورٹ کرنے کا مطلب ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک الگ ملک ہے۔ اس بدترین سلوک کے بعد بھی بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکاء کے حوصلے بلند ہیں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے لہجے اور تاثرات سے ان پر کیا گیا تشدد صاف ظاہر ہوتا ہے۔
بلوچ خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا جارہا ہے جس میں ترقی پسند اور قوم پرست رہنما بھی جوش و خروش سے شرکت کر رہے ہیں۔ بلوچ خواتین کے عزم نے مجھ جیسے ہزاروں لوگوں کے پست حوصلے بلند کر دیے ہیں جو مستقل ریاستی دباؤ کی وجہ سے ہمت ہار چکے تھے۔ ہم بلوچ خواتین مارچ کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ریاستی مافیا کے ظلم اور جبر کی یہ سیاہ ترین رات بہت جلد ختم ہو گی اور آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔
آخر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے لیے چند اشعار پیش کرتا ہوں:
یہ کیا ہوا کہ ظلمتوں کی رات جگمگا اٹھی
یہ کون ہے جو تیرگی کو چیرتی ہوئی چلی
یہ گاہ چیختی ہوئی، یہ گاہ دھاڑتی ہوئی
یہ بے دھڑک، یہ پر خطر، یہ پربتوں کی شیرنی
یہ کون ماہ رنگ ہے، سیاہی جس سے تنگ ہے
یہ کس کے خوف سے مچی ستمگروں میں کھلبلی
وہ علم کی ضیاء ہوئی جلی، شعور کی ہوا چلی
کہ جہل کے سماج میں وہ بانٹتی ہے آگہی
یہ رنگ ہیں یقین کے، اداس رت میں عید کے
یہ ارغوانی، گندمی، یہ زعفرانی، قرمزی
میں حوصلوں کو ہار کر، چلا تھا دشت کی طرف
خرد جنوں میں ڈھل رہی تھی، یک بیک وہ آ گئی
کنیز فاطمہ ہے تو، جمال فاتحہ ہے تو
تو زینب حَزین ہے جو شام کی طرف بڑھی

