اختصارئےلکھاریمجیداحمد جائی

مادری زبان ذریعہ تعلیم کب بنے گی ؟ مجید احمد جائی

پاکستان میں اس وقت چار طرح کے نظامِ تعلیم رائج ہیں ۔ایک تو سرکاری دوسرا پرائیوٹ ،تیسرا کیمبرج سسٹم کے تحت چلائے جانے والے سکول اور چوتھا مدرسے ۔ان کے نصاب ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔سرکاری سکولوں میں بھی دو طرح کے نصاب پڑھائے جاتے ہیں ۔ایک اُردو میڈیم اور دوسرا انگریزی۔1947ء سے اب تک لگ بھگ نو تعلیمی دستاویزات (پالیسیاں) مرتب کی گئیں نومبر، دسمبر 1947ء میں کراچی میں پہلی پاکستانی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں نئی مملکت کے تعلیمی خدوخال کے لیے سفارشات ایک رپورٹ کی صورت میں مرتب کی گئیں۔اس وقت کے وزیر داخلہ فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں اس نئی مملکت کے لیے بنیادی تعلیمی اُصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔
”اردو نے ایک غیر معمولی قوت اور حساسیت دکھائی ہے ۔اُردو خیالات کی ساری سطحیں اور تخیل کے پیچیدہ اور نازک پروازوں کے اعلیٰ اظہار اور ابلاغ کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے “(حوالہ گورنمنٹ آف پاکستان رپوٹ1947)
اس کانفرنس میں اردو کو رابطے کی زبان قرار دیا گیا ۔انگریزی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم مضرگردانا گیا تاہم اسے مغرب کے سارے سائنسی خزانوں اور تہذیبوں کو رسائی کا ذریعہ مانا گیا۔خود بانی پاکستان نے1948ء میں ڈھاکا میں واضح کیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اُردو ہو گی ۔بنگالی تحریک کے زیر اثر 1954ء میں اُردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان تسلیم کیا گیا اور 1956ءکے آئین میں اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ۔1958ء کا مارشل لاء لگا کر جنرل ایوب خان ملک کے حکمران بنے۔ 1959ء میں تعلیم پر قومی کمیشن بنا ۔اس کمیشن کی رو سے اردو اور بنگالی دونوں کو پاکستان کی قومی زبانیں تسلیم کیا گیا ۔اس کمیشن نے سفارش کی کہ قومی زبانیں بتدریج انگریزی کی جگہ ہر سطح پر ذریعہ تعلیم ہوں گی تاہم انگریزی کو چھٹی جماعت سے آگے ڈگری سطح کی تعلیم تک لازمی مضمون کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔اسی پالیسی میں کہا گیا کہ اگلے پندرہ سالوں میں یونیورسٹی سطح پر اردو زبان ذریعہ تعلیم کے طور پر انگریزی کی جگہ لے گی۔
1965ء میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی ۔دوسری تعلیمی پالیسی 1969ء میں آئی ۔اس دوران ملک کے حکمران جنرل یحییٰ تھے ۔اس پالیسی میں جو نئی باتیں شامل کی گئیں وہ اُردو اور مغربی پاکستان اور بنگالی کو مشرقی پاکستان میں سرکاری زبان کا درجہ دینا تھا۔ 1970ء میں ایک اور تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی ۔1971 ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تیسری جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بنا۔ 1972ء میں ایک اور تعلیمی پالیسی سامنے آئی جس میں کوئی نئی بات نہیں تھی ۔1973ء میں پاکستان میں جمہوری حکومت نے پہلا متفقہ آئین منظور کیا۔ اس میں اُردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔
1977ء میں جنرل ضیا ءالحق نے بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹ کر ملک میں مارشل لاء لگا دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے پورے ملکی نظام کو اپنی فہم کے مطابق اسلامی بنانے کی ٹھانی۔اُنہی کے دور میں 1979ء میں چھٹی تعلیمی پالیسی آگئی۔نجی سکولوں میں بھی اُردو کو بطور ذریعہ تعلیم نافذ کیا گیا۔اُردو کے فروغ کے لئے اقدامات کیے گئے اور اسے مسلم شناخت کی علامت بنایا گیا ۔اسی پالیسی میں سفارش کی گئی کہ اُردو ذریعہ تعلیم ہو گا تاہم اس کے ساتھ تیسری جماعت سے ایک علاقائی زبان کو پڑھایا جائے گا۔
1992ء میں محمد نواز شریف کی پہلی حکومت میں تعلیمی پالیسی بنی جو جنرل ضیاءالحق کی پالیسی کے متضاد تھی۔اس پالیسی کی رو سے ذریعہ تعلیم کا فیصلہ صوبوں نے کرنا ہے ۔اس پالیسی نے آگے سفارش کی کہ اعلیٰ سائنسی ،تکنیکی تعلیم انگریزی میں دی جائے گی۔2009ء میں پی پی حکومت میں انگریزی کو اہمیت دی گئی اور اس پالیسی کے رو سے انگریزی پہلی جماعت سے ایک مضمون کے طور پر شامل ہو گئی ۔جماعت اول سے اُردو ،انگریزی ایک صوبائی زبان اور ریاضی کے مضامین رکھنے کی سفارش کی گئی ۔
ان سب تعلیمی پالیسیوں پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ زبان کے مسئلے کو پاکستان میں سماجی ،تعلیمی اور ثقافتی لحاظ سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔زبان کا صرف سیاسی اور نظریاتی پہلو غالب رہا ۔اردو کو باوجود وعدوں اور قانون سازی کے سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکا۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے بھی واضح احکامات دیے لیکن اُردو دفتری اور سرکاری زبان نہ بن سکی ۔کئی وعدوں کے باوجود انگریزی کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ انگریزی بدستور پاکستان میں طاقت اور ترقی کی زبان ہے۔ مسلح افواج ،عدلیہ اور افسر شاہی کی زبان انگریزی ہی ہے ۔
پاکستان کو ایک سہ لسانی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے ۔ابتدائی تعلیم کے لیے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم ہونا چاہیے ۔اس کے ساتھ اردو اور انگریزی کو بطور مضمون نصاب میں شامل کیا جائے ۔اگلی جماعتوں میں اُردو اور انگریزی ذریعہ تعلیم ہو اور مادری زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھانا چاہیے ۔اسی سے پاکستان میں تعلیم بھی بہتر ہو سکتی ہے ۔امن بھی قائم ہو گا اور ہماری نئی نسل اپنی روایات و زبانوں سے واقف بھی ہو گی ۔اس طرح ہم اس نوآبادیاتی ذہنیت میں بھی نجات پا سکتے ہیں جو ہماری خود اعتمادی کو بُری طرح تباہ کر رہی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker