ملتان:مینگو سٹی ملتان میں زرعی یونیورسٹی کے زیراہتمام آموں کا پانچواں سالانہ میلہ منگل کے روز اختتام پذیرہوگیا۔ میلے کے دوران آموں کی 300 ورائٹیزکے سٹالز میں شہریوں کی بڑی تعداد نے دلچسپی کااظہارکیا۔
اس موقع پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں زرعی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر آصف علی سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ڈاکٹر آصف علی نے’’ اے پی پی ‘‘سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ زرعی یونیورسٹی جہاں زراعت کے شعبے میں تحقیق کوفروغ دے رہی ہے وہاں ہم اس قسم کی نمائشوں کے ذریعے بھی آگاہی پیداکررہے ہیں، آموں کے بعد اب آموں کامیلہ بھی ملتان کی پہچان بن چکا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ میلے میں سندھ اور پنجاب سمیت ملک بھر سے 50کاشتکاروں نے شرکت کی۔ فیسٹیول میں کھانوں کی تیاری کے مقابلوں اور میوزیکل شو کے علاوہ مینگو مشاعرہ بھی منعقد ہوا جس میں سلمان گیلانی سمیت مختلف مزاحیہ شعراءنے اپنا کلام پیش کیا۔میلے کے آخری روز لوگوں کی بڑی تعداد نے ڈی ایچ اے میں میلے کی تقریبات میں بھرپورشرکت کی۔ مینگوفیسٹیول میں آموں کے سٹالز کے علاوہ آموں سے تیارشدہ مربوں، چٹنیوں اور کھانے کے سٹالز بھی لگائے گئے تھے۔ لوگوں نے سندھڑی ،دسہری،چونسہ ،انور رٹول، لنگڑا ،شوگر فری مینگو کے علاوہ ایسی ورائٹیوں میں بھی دلچسپی لی جن پر ابھی تجربات جاری ہیں اورجن کی ابھی باقاعدہ پیداوار شروع نہیں ہوئی۔
میلے میں نامور زرعی ، ترقی پسند کاشتکار اور مینگوگروورز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنماءزاہد حسین گردیزی نے بھی اپنا سٹال لگایا۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ یہ میلہ ملتان کی روایت بن چکاہے۔ ابتدا میں اسے شہر کے اندر منعقد کیاگیا۔سٹالز کی تعداد میں اضافے کے بعد منتظمین اسے ڈی ایچ اے لے آئے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکاروں کے درمیان باہمی تبادلہ خیال کے نتیجے میں آموں کی پیداوار مزید بہتر ہوگی۔ اس مرتبہ اگرچہ آم کی پیداوار کو موسمی اثرات کے باعث شدید نقصان پہنچا لیکن ہمیں یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کی تلافی ہوجائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ اے میں مینگو میوزیم کے لیے دو ایکڑ رقبے کی منظوری ہوگئی ہے جس میں سے ایک ایکڑ میں آموں کی بہت سی ورائٹیاں لگائی جائیں گی جبکہ باقی جگہ پرہوٹل اورآرام گاہیں تعمیر کی جائے گی۔
فیس بک کمینٹ

