کالملکھاریمنصور آفاق

دُلا بھٹی کا صوبہ جنوبی پنجاب۔۔منصور آفاق

پی ٹی آئی نے پہلے سو دنوں میں ’’صوبہ جنوبی پنجاب‘‘ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت آئی تو کہا گیا: ابھی علیحدہ صوبے کا قیام ممکن نہیں مگر ہم جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ بنا رہے ہیں جہاں اُن کا اپنا ایڈیشنل چیف سیکرٹری، اپنا ایڈیشنل آئی جی ہوگا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایڈیشنل ہی کیوں، فُل کیوں نہیں۔ کیا صرف اس لئے کہ پنجاب کی حاکمیت برقرار رہے۔ اطلاعات تو یہی ہیں کہ کافی دنوں سے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبہ جنوبی پنجاب کے سیکرٹریٹ کا کام مکمل کرا رکھا ہے مگر ایک لابی مسلسل کوشش میں ہے کہ کسی طرح اِس کام کو روکا جائے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اِس وقت پنجاب کی تقسیم کے خلاف احتجاجی پرچم ترقی پسندوں نے اُٹھا رکھا ہے۔ انہی نے جنہوں نے ہمیشہ سرائیکی صوبے کی حمایت کی تھی۔ اصل معاملہ کیا یہ اللہ جانتا ہے مگر سچ کے ملتان سے لے کر میانوالی تک علاقہ کبھی پنجاب کا حصہ رہا ہی نہیں۔ اس کا کچھ حصہ انگریزوں نے 1849میں ملتان کو ایک انتظامی ڈویژن قرار دےکر پنجاب میں شامل کیا اور کچھ 1901میں صوبہ سرحد سے نکال کر پنجاب میں شامل کیا گیا جس میں میانوالی وغیرہ شامل ہیں۔
میں نے جب حنیف رامے کی کتاب ’’پنجاب کا مقدمہ پڑھی تو مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ ’’دُلا بھٹی‘‘ تو پنجابیوں کا ہیرو ہے اور ہم میانوالی میں رہنے والے اسے صدیوں سے پسند نہیں کرتے تھے۔ اسے ایک مفرور ڈاکو سمجھ کر بدعائیں دیتے تھے۔ ہمارےیہاں اب بھی ایک لوک کہاوت ہے اور لوک کہاوت کوئی ایک آدھ دن میں نہیں بنتی۔ ’’دُلا بھٹی، کھاند اے کیشے، ڈوھ دی چٹی، سمداے کتھے، چہلے نال، سپ لڑس، بی اللہ‘‘ (دلا بھٹی، کیا کھاتا ہے، زبردستی دودھ پی جاتا ہے، سوتا کہاں ہے چولہے کےساتھ۔ اللہ کرے اسے سانپ ڈس لے اور مر جائے) پنجاب اور سرائیکی علاقہ کی زبان اور ادب و ثقافت بالکل الگ الگ تھے مگر پاکستان بننے کے بعد ہوا یہ کہ جو پنجابی ادب و ثقافت تھی وہ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں رہ گئی۔ یہاں حکومتی سرپرستی نے لاہور کو ادبی و ثقافی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے لئے سرائیکی علاقہ کی زبان، ادب، ثقافت اور لوک موسیقی کو پنجابی قرار دے کر اُس پر قبضہ کر لیا۔ مثال کے طور پر بھنگڑا بھارتی پنجاب میں رہ گیا۔ پنجابیوں نے جھمر اور دریس جو خالصاً سرائیکی رقص ہیں، انہیں پنجابی ناچ قرار دے دیا۔ سرائیکی زبان کو پنجابی کا لہجہ کہا گیا حالانکہ اس زبان کے صدیوں سے اپنے الفابیٹ ہیں، اپنی گرائمر ہے، پنجاب ہمیشہ سے پانچ دریاؤں کی سرزمین رہا ہے جیسا اُس کے نام سے ظاہر ہے۔ یہ پانچ دریا بیاس، راوی، ستلج، جہلم اور چناب ہیں۔ دریائے سندھ کبھی پنجاب کا حصہ نہیں رہا۔ یہ تو انگریزوں نے اپنے انتقام میں سندھ کو بمبئی کے ساتھ اور ملتان پنجاب کے ساتھ منسلک کردیا تھا۔ صدر ایوب کے ون یونٹ تک بہاول پور الگ ریاست تھی۔ اُس کا پنجاب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ون یونٹ کا خاتمہ ہوا تو بہاولپور ریاست بحال نہ کی گئی۔ یوں وہاں صوبہ بہاولپور تحریک شروع ہوئی۔ اسےتشدد کے ذریعے دبا دیا گیا۔ سرائیکی صوبہ کی تحریک نے جنم لے لیا۔ وہی تحریک اِس وقت ’’صوبہ جنوبی پنجاب‘‘ کی شکل میں کسی نہ کسی حد تک منزل سے ہمکنار ہونے والی ہے۔ سرائیکی صوبے کی تحریک کا بنیادی سلوگن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم پنجابی نہیں ہیں۔ جن نعروں نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ یہ دو ہیں ’’اساں قیدی تخت لہور دے‘‘ اور دوسرا نعرہ ’’میں تسا میڈی دھرتی تسی، تسی روہی جائی، میکوں اکھ ناں پنج درہائی‘‘ (میں پیاسا ہوں، میری دھرتی پیاسی ہے۔ مجھے پیدا کرنے والی روہی پیاسی ہے۔ مجھے پانچ دریائی مت کہو)۔
عوامی دباؤ کو دیکھ کر پنجاب کی تقسیم پر پیپلز پارٹی، (ن)لیگ اور پی ٹی آئی تینوں متفق ہو گئے مگر سرائیکی صوبہ کا نام اُن کے حلق سے نہیں گزرتا تھا۔ سو انہوں نے اس صوبے کا نام جنوبی پنجاب صوبہ رکھ لیا۔ میانوالی اور بھکر کو جنوبی پنجاب صوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔ میری اطلاعات کے مطابق ان دونوں اضلاع کی لیڈر شپ اِس پر تیار نہیں ہوئی۔ میانوالی میں نسلی اعتبار سے تیس فیصد پٹھان آباد ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میانوالی دوبارہ صوبہ پختون خوا میں شامل ہو جائے۔ خود عمران خان بھی میانوالی کے پٹھان ہیں۔ یہ وہ پٹھان ہیں جو پشتو نہیں بول سکتے۔ یہاں تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ بھکر کو کیوں صوبہ جنوبی پنجاب میں شامل نہیں کیا گیا۔ ویسے بھکر کا ضلع بنے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ بھکر ضلع پہلے ضلع میانوالی کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ اس لئے ضروری ہے کہ انصاف لینا ہے تو لاہور جانا پڑتا ہے، کسی کا تبادلہ کرانا ہے تو لاہور جانا پڑتا ہے۔ علاج کرانا ہے تو لاہور جانا پڑتا ہے۔ کسی بیمار کے ٹیسٹ کرانے ہوں تو لاہور جانا پڑتا ہے۔ مخالفین کہتے ہیں یہ کیا بات ہوئی۔ چترال، ایبٹ آباد یا ڈیرہ اسماعیل خان کے کسی آخری کونے سے پشاور پر پہنچنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے جتنا میانوالی یا راجن پور سے لاہور پہنچنا۔ اسی طرح گوادر یا لسبیلہ کے رہائشی کے لئے کوئٹہ پہنچنا آسان نہیں۔ بےشک اس دلیل میں بہت وزن ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب کی تقسیم اگر لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر کی جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ انتظامی معاملات کے لئے صوبے نہیں بنا کرتے۔ ڈویژن اور اضلاع بنائے جاتے ہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص کے گھر تک انصاف، علاج معالجہ کی سہولت پہنچائی جائے۔ یہی پی ٹی آئی کا منشور ہے مگر یہ منشور ابھی ابھی اُس بیورو کریسی کی ’’گھمن گھیریوں‘‘ میں پھنسا ہوا ہے جس کا آغاز وزیراعظم ہاؤس سے ہورہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker