کالملکھاریمسعود اشعر

گاڑی آگے چلا رہے ہیں ،دیکھ پیچھے رہے ہیں: آئینہ / مسعود اشعر

ہم گاڑی چلا رہے ہیں۔ جا آگے رہے ہیں، دیکھ پیچھے رہے ہیں۔ حادثہ تو ہو گا اور ستر سال سے حادثے پر حادثے ہی ہو تے چلے جا رہے ہیں۔ آپ اپنی تاریخ پرنظر ڈال لیجئے، ہم آگے بڑھنے کے بجا ئے پیچھے ہی ہٹتے چلے گئے ہیں۔ توہم پرستی ہمارے خمیر میں شامل ہو گئی ہے۔ کسی ایک واقعے پر ہم پریشان کیوں ہو جا تے ہیں؟ ہماے معاشرے کا تو بڑا حصہ یہی ذہنیت رکھتا ہے….. اگر آپ غور کریں تو اس تنگ نظر اور دقیانوسی معاشرے کی تشکیل میں صرف ہماری سیاست، ہمارے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کا حصہ ہی نہیں ہے، بلکہ ہمارے ان لکھنے والوں کا بھی حصہ ہے جنہیں آج کے مقبول عام ناول نویس اور ڈرامہ نگار کہا جا تا ہے۔ اب ہم حیرت کا اظہار کریں یا افسوس کا، کہ ہمارے ادب کے سنجیدہ اور صاحب ِفکر و نظر نقاد اس طرف تو جہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔ توجہ دی ہے کہ تو ایک ایسی خاتون نے جس کا اپنا مضمون دفاعی اور سیاسی معاملات ہیں اور جو سیاسی اور دفاعی امور پر انگریزی میں مضامین لکھتی ہیں۔ عائشہ صدیقہ، ہماری ممتاز ناول نگار اور افسانہ نویس جمیلہ ہاشمی کی صاحب زادی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے ان اردو ناولوں کا تجزیہ کیا ہے جو انگریزی محاورے کے مطابق گرما گرم کیک کی طرح بازار میں فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ ناول ہزار ہزار دو دوہزار صفحے کے ہوتے ہیں اور ان کی قیمت بھی ہزاروں میں ہو تی ہے۔ اس کے باوجود یہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں۔ ان ناولوں کی لکھنے والی خواتین ہیں اور یہی خواتین ہمارے ٹی وی چینلز کے لئے ڈرامے بھی لکھ رہی ہیں۔ یہ ڈرامے بھی ان ناولوں پر ہی مبنی ہو تے ہیں اور یہ ڈرامے بھی ہمارے عام ناظرین میں بہت پسند کئے جا رہے ہیں۔ یہاں ہم یہ اعتراف کرلیں کہ ہم نے ان میں سے ایک بھی ناول نہیں پڑھا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ ہمارے ادب کے سنجیدہ نقادوں نے بھی کوئی نہیں پڑھا ہوگا۔ ہم تو حیران ہو تے ہیں عائشہ صدیقہ پر کہ انہوں نے اتنے موٹے موٹے، اتنے ضخیم ناول پڑھنے کے لئے وقت نکالا۔ عائشہ نے یہ ناول پڑھ کر اور ان کا تجزیہ کر کے ہمارے ادب پر ہی نہیں ہمارے معاشرے پر بھی احسان کیا ہے۔ بس، شکایت یہ ہے کہ یہ مضمون انگریزی کے بجائے اردو میں لکھا جانا چاہئے تھا۔
عائشہ کے بقول ان ناولوں میں اندھی عقیدت، ماضی پرستی، توہمات اور دقیانوسی خیالات کو رومانوی کلی پھندنے لگا کر پیش کیا جا تا ہے۔ ان ناولوں اور ڈراموں میں صرف توہمات ہی نہیں پھیلائے جاتے بلکہ فرقہ پرستی اور فرقہ وارانہ نفرت بھی پیدا کی جا تی ہے۔ یہ ناول ہماری گھریلو خواتین میں ہی نہیں عام پڑھنے والوں میں بھی بہت مقبول ہیں۔ اور یہی ناول ہماری آج کی نسل میں تنگ نظری اور عدم رواداری کی ذہنیت پیدا کر رہے ہیں۔ آج یہی ذہنیت ہمیں اپنے معاشرے میں بھی چاروں طرف کھل کھیلتی نظر آ رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ عام پسند ادب مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں نہیں ہوتا۔ وہاں بھی ایسے ناول بہت چلتے ہیں۔ وہاں اسےpulp fiction کہا جاتا ہے یعنی ایسی فکشن جسے گلاسڑا کے اس کی لگدی بنادی جائے۔ وہاں اس فکشن پر سنجیدگی کے ساتھ کبھی توجہ نہیں دی جاتی۔ خیر، اس پرسنجیدگی کے ساتھ توجہ تو ہمارے ہاں بھی نہیں دی جاتی۔ اسی لئے ہمارے صاحب نظر نقاد اسے پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ لیکن جس انداز سے یہ فکشن ہماری نئی نسل کی ذہنیت سازی کر رہی ہے اس کی وجہ سے ہمیں اس پر بہرحال توجہ کرنا ہی پڑے گی۔ عام ادب ہمارے ہاں پہلے بھی لکھا جاتا تھا اور وہ بھی خواتین ہی لکھتی تھیں۔ لیکن اس میں عام طور پر انسانی زندگی کا رومانی تصور ہی پیش کیا جاتا تھا۔ اس لئے اس سے وہ دقیانوسی ذہنیت پیدا نہیں ہوتی تھی جو آج کے یہ بھاری بھرکم ناول پیدا کر رہے ہیں۔ حاشا و کلا ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس قسم کی فکشن پر پابندی لگا دی جائے۔ یقیناً عائشہ بھی ایسا نہیں چا ہتی ہوں گی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے وہ نقاد جو ادب میں ساختیات، پس ساختیات، یا نوآبادیات اور مابعد نوآبادیات مطالعے اور گلوبلائزیشن اور پس گلوبلائزیشن پر نہایت وقیع مضامین لکھ رہے ہیں، وہ یہ ناول بھی پڑھیں اور اسی دقت نظر کے ساتھ ان کا تنقیدی جائزہ لیں جس گہری نظر سے وہ سنجیدہ ادب کا جا ئزہ لیتے ہیں۔ اب یہاں ہم وہ بات بھی کر دیں جس پر ہمارے دوست پروفیسر حضرات ہم سے ناراض ہو جا تے ہیں۔ مغرب میں اگر عام پسند ادب زیادہ فروخت ہوتا ہے اور زیادہ پڑھا جاتا ہے تو وہاں کے تعلیمی اداروں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بازاری ادب کا مقابلہ کر نے کے لئے تنقیدی دماغ بھی پیدا کرتاہے۔ ان کا نظام تعلیم اور نصاب ایسا ہے جو طلبہ میں تنقیدی فکر پیدا کرتا ہے۔ ہمارے ہاں ابتدائی طور پر بچوں کو جو پڑھایا جاتا ہے وہ دماغ اور ذہن کو کھولتا نہیں، اسے اور بھی بند کر دیتا ہے اور یہ بازاری ادب ان کی مرغوب غذا بن جا تا ہے۔
لیکن عائشہ کو ہم یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارا ادب، جسے ہم سنجیدہ، فکر انگیز اور خرد افروز ادب کہتے ہیں، وہ اس بازاری ادب کے مقابلے میں آج بھی اپنے قاری میں تنقیدی اور سائنسی فکر پیدا کر رہا ہے۔ آج ہمارے ہاں جو ناو ل اور افسانے لکھے جا رہے ہیں وہ اسی فکر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں اردو سائنس بورڈ نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا تھا۔ موضوع تھا ’’سائنسی فکر اور ہمارا ادب‘‘۔ اس مذاکرے میں حصہ لینے والے تھے ڈاکٹر عارفہ سیدہ، ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، ڈاکٹر اصغر ندیم سید اور اردو سائنس بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ناصر عباس نیر۔ ان ڈاکٹروں اور پروفیسروں میں ایک طالب علم کے طور پر ہم بھی شامل تھے۔ اس بات پر سب کا اتفاق تھا کہ ہمارا ادب، خواہ وہ کلاسیکی ہو یا جدید، سائنسی فکر پر ہی مبنی ہے۔ وہ معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ وہ انفرادی اور اجتماعی ظلم، جبر، تنگ نظری اور فکری گھٹن کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور یہی سائنسی فکر ہے۔ سائنسی فکر سے مراد یہ نہیں ہے کہ سائنسی فارمولوں اور تھیوریوں کو ادب کا حصہ بنایا جا ئے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانی رشتوں کو ان کی تمام باریکیوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ سمجھا جائے اور کائنات اور کائنات کے ساتھ انسانی رشتے کو علت و معلول کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں روشن خیال اور وسیع المشرب معاشرے کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔ لیجئے، اب آخر میں ہم اپنے کالم پڑھنے والوں سے معافی چاہتے ہیں کہ آج ہم نے اتنے دقیق اور آپ کی نظر میں بیزار کن مضمون کو اپنا موضوع بنایا ہے لیکن آج ہمارے معاشرے میں جو تنگ نظری، فرقہ بندی اور ماضی پرستی پروان چڑھ رہی ہے اور ہمارے وہ سیاست دان جو عام انتخابات کے بعد اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں، وہ ہمیں گردن گردن اس بھنور میں پھنسے نظر آتے ہیں، تو اس بیماری کی جڑ تلاش کرنا بھی تو ہمارا ہی کام ہے۔ ہم کب تک اپنے ملک اور اپنے معاشرے کو اس گڑھے میں، جسے قعر مذلت ہی کہا جا سکتا ہے، گرتا ہوا دیکھتے رہیں گے۔ دیکھ لیجئے۔ ہم گاڑی آگے چلا رہے ہیں اور دیکھ پیچھے رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker