کالملکھاریمسعود اشعر

عمران خان اور ہمارا الیکٹریشن:آئینہ /مسعود اشعر

اشفاق ہمارا الیکٹریشن ہے۔ عمران خان کا شیدائی ہے۔ اس نے دو منظر کی ایک ویڈیو بھیجی ہے۔ پہلا منظر ایک دفتر کا ہے۔ دفتر سرکاری معلوم ہوتا ہے۔ ایک صاحب میز کرسی لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے سامنے ایک سائل کھڑا ہے۔ دونوں میں کچھ لین دین کی باتیں ہو رہی ہیں۔ غالباً رشوت وغیرہ کی بات ہو رہی ہو گی۔ اتنے میں کرکٹ کا بلا اٹھائے ایک نوجوان داخل ہوتا ہے اور میز کرسی والے صاحب پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ دوسرے منظر میں سڑک پر ایک آدمی پھلوں کا ٹھیلا لیے کھڑا ہے۔ ایک پولیس والا اس سے پھل لیتا ہے اور قیمت ادا کئے بغیر ہی چل دیتا ہے۔ اچانک کرکٹ کا بلا کاندھے پر رکھے وہی نوجوان نمودار ہوتا ہے اور پولیس والے کی ایسی تیسی کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ نو جوان عمران خان کی علامت ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت سے اشفاق جیسے عام آدمی کی یہی توقعات ہیں۔ اسے صرف توقعات ہی نہیں ہیں بلکہ پورا یقین ہے کہ اب اس کی زندگی کا رنگ ڈھنگ ہی بدل جائے گا۔ عمران خان صرف بڑے آدمیوں کی کرپشن کا خاتمہ ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کی اپنی زندگی میں، اس کی آنکھوں کے سامنے ہونے والی بے ایمانی اور بدعنوانی کا قلع قمع بھی کر دیں گے۔ اشفاق جیسے عام آدمی کا واسطہ کروڑوں اور اربوں کی کرپشن کرنے والوں سے نہیں پڑتا۔ اس کا واسطہ سرکاری اور نیم سرکاری دفتروں، کورٹ کچہری اور پولیس سے پڑتا ہے۔ اس کی یہی دنیا ہے اور عمران خان نے اسی دنیا کو بدلنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہاں ہم نے وعدہ نہیں لکھا بلکہ دعویٰ لکھا ہے۔ عمران خان وعدہ نہیں کرتے دعویٰ کرتے ہیں۔ انہوں نے نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے الیکٹریشن اشفاق کے ساتھ ہم بھی اس نئے پاکستان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ عمران خان عام پاکستانی سیاست دان نہیں ہے۔ وہ جو کہتا ہے وہ کرتا بھی ہے۔ اب یہ عمران خان پر پختہ اعتماد اور ان سے اچھی اچھی توقعات رکھنے کی بات ہی تو ہے کہ ہمارے جید لکھنے والے انہیں اچھے اچھے مشورے د ے رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان مشوروں پر عمل بھی ہو گا۔ اس سلسلے میں ہمارے محمود شام صاحب نے عمران خان کو نہایت ہی معقول مشورے دیئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ چونکہ اب عمران خان کی جماعت ہر صوبے میں موجود ہے اس لئے اس مثبت ترجیح سے عمران خان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اب عمران خان کو ذاتی قربانیاں بھی دینا ہوں گی۔ (وہ) بنی گالہ کی رہائش گاہ میں بھی کوئی یونیورسٹی بنا دیں اور خود کسی چھوٹے بنگلے میں منتقل ہو جائیں۔ وہ وزیر اعظم کا خصوصی طیارہ استعمال نہ کریں۔ عام کمرشل فلائٹس سے سفر کریں۔ وزرا بھی اکانومی سے سفر کریں۔ وزیر اعظم اور وزرا کے لاؤلشکر محدود کریں۔ کلرکوں، مزدوروں اور چپڑاسیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر تنخواہ ہو گی تو وہ کچھ آبرو مندانہ زندگی گزار سکیں گے۔ ایک قانون نافذ کریں کہ تمام وزیروں، سیکرٹریوں اور دوسرے افسروں کی اولاد سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھے گی۔ اس سے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ اور سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی عزت میں اضافہ ہو گا۔ تعلیم سب سے زیادہ توجہ چاہتی ہے۔ وہ تمام شہریوں کے لیے اچھی آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام کر دیں۔ پہلے دو تین ماہ میں ہی بڑی بسیں لاہور، کراچی، ملتان، پشاور، اسلام آباد، حیدر آباد، کوئٹہ، سیالکوٹ اور دوسرے شہروں میں اتار دیں۔ ٹرانسپورٹ مافیا کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔
ہم معافی چاہتے ہیں کہ شام صاحب کا کالم ہم نے دوبارہ آپ کو پڑھوا دیا۔ لیکن یہ وہ باتیں ہیں جو عام آ دمی کے دل میں ہیں۔ عام آدمی یہی چاہتا ہے۔ اور وہ اس لیے چاہتا ہے کہ اسے عمران خان پر پورا بھروسہ ہے اور پھر عمران خان خود بھی تو یہی چا ہتے ہیں۔ اگر وہ وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ کو تعلیمی ادارے میں بدلنے اور تمام صوبوں کے گورنر ہائوس عوامی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر بنی گالہ کے تین سو کنال کے گھر کو یونیورسٹی میں کیوں تبدیل نہیں کر سکتے؟ انہوں نے خود ہی تو کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے کسی اور گھر میں رہیں گے۔ اب اگر وہ بنی گالہ میں نہیں رہیں گے تو پھر بنی گالہ کا کیا مصرف ہو گا؟ تعلیم کے معاملے میں بھی وہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ تمام طبقوں کے لیے ایک ہی قسم کی تعلیم ہونا چاہیے۔ انہوں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت آنے کے بعد نجی اسکولوں کے ہزاروں طلبہ سرکاری اسکولوں میں آ گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو انہیں پورے ملک میں یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اب تو وہ صرف ایک صوبے کے نہیں پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ اب رہی مشوروں کی بات تو شام صاحب کے مشوروں کو تو ہم ہمدردانہ اور صائب مشورے کہہ سکتے ہیں لیکن اب ایسے مشورے بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا مقصد کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔ مثلاً یہ مشورہ کہ عہدے اور منصب دیتے وقت فلاں فلاں اخبار نویسوں کو نہ بھول جانا۔ کیا زبردست مشورہ ہے۔ ایسا مشورہ ہم نے اپنی صحافت کی ساٹھ پینسٹھ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پڑھا ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ ’’ہم بھی تو کھڑے ہیں راہوں میں‘‘۔ ہمیں نہ بھول جانا۔ خیر، اب یہ عمران خان کا کام ہے کہ وہ کس کا مشورہ مانتے ہیں اور کس کا نہیں۔ بہرحال انہیں اپنے وعدوں اور دعووں کا خیال تو ہو گا۔ اور وہ انہیں پورا بھی کریں گے۔ اگر نہیں کریں گے تو انہیں ہمارے الیکٹریشن اشفاق جیسے عام آدمی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس عام آدمی کو (جن میں نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے) اپنے وعدوں اور دعووں کے ذریعے ایک جنت دکھائی ہے۔ مخالف جماعتوں کا اتحاد عوام کی اسی مایوسی سے فائدہ اٹھائے گا۔
اب چلتے چلتے ہم آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ہم اپنی مرضی کا اخبار نہیں پڑھ سکتے اور نہ اپنی مرضی کا ٹی وی چینل دیکھ سکتے ہیں۔ حکم دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں اخبار آپ نہیں پڑھ سکتے اور فلاں ٹی وی چینل آپ نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اس قسم کا حکم دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی پابندی کی زد میں آنے والے اخباروں کے قاری لیپ ٹاپ بھی رکھتے ہیں اور انٹر نیٹ پر دنیا بھر کے اخبار ہر وقت ان کے سامنے کھلے رہتے ہیں۔ وہ کاغذ کا اخبار نہیں پڑھیں گے تو اپنے کمپیوٹر کی اسکرین پر اسے پڑھ لیں گے۔ اب جہاں تک ٹی وی چینلز کا معاملہ ہے تو اگر چند چینل نہ دیکھیں تو کیا فرق پڑتا ہے دوسرے چینل دیکھ لیں گے۔ اور پھر فکر وخیال کی آزادی کے لیے سوشل میڈیا بھی تو کھلا پڑا ہے۔ اور پھر آپ کب تک اور کہاں تک کسی کو نقصان پہنچا لیں گے؟ دنیا بہت بڑی ہے کسی خاص علاقے تک محدود نہیں ہے۔ اس لیے پابندی لگانے والوں کو ہمارا دوستانہ اور ہمدردانہ مشورہ ہے کہ ایسے کام نہ کریں خواہ مخواہ کی بدنامی تو مول نہ لیں۔ لیجئے، پھر ایک اور مشورہ سامنے آگیا۔ اور یہ ہمارا مشورہ ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker