Uncategorized

یو ٹرن اور مشاورتی کونسل: آئینہ /مسعود اشعر

ہمارے شہر کی سڑکیں بالکل سیدھی تھیں۔ کہیں کہیں موڑ آ جاتے تھے۔ ہم بھٹکتے نہیں تھے۔ پھر یوں ہوا کہ انڈر پاس اور فلائی اوور بننا شروع ہوئے۔ ہمارا شہر کنکریٹ کا کھانچا بن گیا اور ہم بھٹکنے لگے۔ ہم چلتے چلتے بھول جاتے ہیں کہ کدھر جا رہے ہیں۔ ٹھیک راستے پر بھی جا رہے ہیں یا بھٹک گئے ہیں؟ ادھر ادھر دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرنا پڑتی ہے کہ ہم کہاں ہیں۔ ہم جہاں رہتے ہیں وہ علاقہ کنکریٹ کی ان چٹانوں سے محفوظ تھا مگر وہ جو کہتے ہیں ناکہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ تو ہم بھی چھری تلے آ گئے۔ اور ہمارے سامنے بھی سڑک سیدھی ہونا شروع ہو گئی۔ سڑک سیدھی کرنے کو ٹریفک کی اصطلاح میں ’’سگنل فری‘‘ سڑک کہا جاتا ہے یعنی ایسی سڑک جس پر آپکو کسی لال یا ہری بتی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آپ آنکھیں بند کر کے سیدھے چلتے چلے جائیں۔ ہماری سڑک بھی سگنل فری ہو گئی۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ہماری پریشانی تو U TURN ہے۔ پہلے ہم سیدھی سڑک پر آتے تھے اور ذرا سا موڑ مڑ کر گھر پہنچ جاتے تھے۔ اب پہلے کافی دور جانا پڑتا ہے، اسکے بعد ایک یو ٹرن آتا ہے اور اس یو ٹرن سے نکل کر ہم گھر پہنچتے ہیں۔ اور اگر ہم اسی طرح سیدھے نکل جائیں تو کئی کلو میٹر تک واپسی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ بہت دور جانے کے بعد ہم یو ٹرن لے سکتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ سڑکوں کا حلیہ بگاڑنے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا وقت کم ہو گیا ہے لیکن وقت کا کم یا زیادہ ہونا ایک اضافی بات ہے۔ یہ ہمیں سمجھایا معروف ماہر تعمیرات کامل خاں ممتاز نے۔ ہم نے انکے سامنے کہیں کہہ دیا کہ پہلے ہم گھر سے دفتر تک آدھ پون گھنٹے میں پہنچتے تھے۔ اب انڈر پاس کے راستے صرف پندرہ منٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا ’’آپ نے یہ چند منٹ بچا کر کیا کمایا؟‘‘ہمارے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ وقت بچانے کے لیے ہم نے شہر کی خوبصورتی ختم کر دی اور اس کے ساتھ ہی گرمیوں کی شدت میں اضافہ بھی قبول کر لیا۔ اب جدھر بھی جاؤ سامنے اونچی اونچی کنکریٹ کی دیواریں کھڑی ہیں یا پھر انڈر پاس کے نام پر سرنگیں موجود ہیں۔ اور تو اور بچپن سے اس شہر میں رہنے والا مستنصر حسین تارڑ بھی اب تو راستہ بھول جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ میرا شہر ہی نظر نہیں آتا۔ اور وہ ٹھیک کہتا ہے ہال روڈ کے ساتھ جو لکشمی مینشن ہے اس کی شکل ہی بگڑ گئی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سعادت حسن منٹو رہتا تھا۔ منٹو کے گھر کا کیا حال ہے؟ وہاں کوئی جائے تو بتائے۔ مستنصر سے پوچھنا پڑے گا کہ وہ کب گئے تھے وہاں اپنا فلیٹ دیکھنے؟ بہت پرانی بات ہے کہ مشہور و معروف (اور کسی حد تک بدنام) ناول نگار ہنری ملر نے نیو یارک کو کنکریٹ کا جنگل لکھا تھا۔ اب ہمارا اپنا لاہور کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔
لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر گزشتہ حکومت نے یہ کام کیا ہے تو نئی حکومت اس کی توڑ پھوڑ شروع کر دے۔ پچھلی حکومت کے جو منصوبے نامکمل رہ گئے ہیں نئی حکومت کو بہرحال انہیں مکمل کرنا ہی پڑے گا۔ یہ ہماری مجبوری ہے۔ اب نئی حکومت کا ذکر آ ہی گیا ہے تو ہمیں پھر یوٹرن یاد آ گیا۔ یہ یوٹرن سڑکوں کا یوٹرن نہیں ہے بلکہ حکومت کی پالیسی اور پالیسی بیانیہ کا یوٹرن ہے۔ اس سے پہلے جو ہوا اسے تو جانے دیجئے۔ ابھی حال ہی میں اس حکومت نے عالمی شہرت کے ایک ماہر معاشیات کو اپنی معاشی مشاورتی کونسل کا رکن بنایا۔ اس وقت بعض حلقوں کی طرف سے ان پر جو اعتراض کیا گیا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس کا نہایت ہی معقول جواب دیا لیکن دوسرے ہی دن انہی وزیر صاحب کو اپنے الفاظ واپس لینا پڑے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کا پہلا بیان صحیح تھا یا دوسرا بیان؟ کیا نئی حکومت یہ نہیں جانتی تھی کہ اس معاملے میں بعض حلقے کتنے جذباتی ہیں؟ اس ایک ماہر معاشیات عاطف میاں کو نکالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشیات کے دوسرے دو ماہروں نے بھی اس کونسل میں شامل ہونے سے معذرت کر لی۔ یہ ماہر معاشیات ہیں ڈاکٹر عمران رسول اور ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ۔ اب ٹامک ٹوئیاں ماریے۔ اس معاملے میں آئینی پوزیشن کیا ہے؟ اس کا جواب پانے کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن کا احتجاجی بیان پڑھ لیجئے اور دیکھ لیجئے کہ آئین کا آرٹیکل 72کیا کہتا ہے۔ ادھر امریکی سیکرٹری خارجہ کی ملاقات کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ من چہ سرائم و طنبورئہ من چہ سرا۔ ہم نے کچھ کہا اور امریکی طنبورے نے کچھ کہا۔ شاہ محمود قریشی تو خاصے تجربہ کار وزیر خارجہ ہیں لیکن امریکی وزیر سے ملاقات کے بعد انہوں نے ایک گھنٹے سے زیادہ کی جو پریس کانفرنس کی، اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ وہ اردو زبان بہت اچھی جانتے ہیں،اور اکثر سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں بات بھی اچھی کر لیتے ہیں لیکن وہ جو کچھ کہتے رہے وہ لفاظی تو تھی حقیقت نہیں تھی۔ انکی پریس کانفرنس میں ایک اور بات بھی بہت عجیب لگی۔ وہ برابر کہتے رہے ’’میں نے امریکی سیکرٹری خارجہ سے یہ کہا۔ میں نے اس سے یہ کہا۔ میں نے اس سے وہ کہا‘‘۔ گویا امریکی سیکرٹری خارجہ سے جو کچھ بھی کہا وہ قریشی صاحب نے ہی کہا، وزیر اعظم نے کچھ بھی نہ کہا۔ وہ صرف اپنے وزیر خارجہ کی لچھے دار باتیں ہی سنتے رہے۔ بے چارے وزیر اعظم۔ قریشی صاحب یہ نہیں جانتے کہ جمہوریت میں’’میں‘‘ نہیں ہوتا ’’ہم‘‘ ہوتا ہے، جو پوری حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب قریشی صاحب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے کے لیے پر تول رہے ہیں اور خوش ہیں کہ امریکی وزیر نے انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی ہے حالانکہ اس اجلاس میں وزیر اعظم کو جانا چاہیے۔ یہ وزیر اعظم کامنصب ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم جہاں اپنی حکومت کی پالیسی واضح کریں گے وہیں وہ عالمی سیاسی رہنماؤں سے ملاقات بھی کریں گے۔ ظاہر ہے، عالمی رہنما بھی ان سے ملاقات کے خواہش مند ہوں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker