کالملکھاریمسعود اشعر

مظفر وارثی کی حمد اور ہمارا احتجاج۔۔آئینہ/مسعود اشعر

ہم مظفر وارثی مرحوم کی طرف سے احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ جو بھی اٹھتا ہے، وہ ان کی بے مثال حمد ”وہی خدا ہے‘‘ پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ حمد انہوں نے خود ہی اپنے خاص ترنم میں ٹیلی وژن پر پڑھی تھی‘ اور ایسے پڑھی تھی کہ ٹیلی وژن دیکھنے والوں اور سننے والوں کے دل و دماغ روشن کر دئیے تھے۔ اس طرح وہ خود ہی اس حمد کے ترنم یا دھن کی بنیاد ڈال گئے تھے۔ یہ وہی ترنم ہے جسے نصرت فتح علی خاں نے اپنی بلند آواز میں تان پلٹے کے ساتھ ایسا گایا کہ لوگ سمجھنے لگے کہ یہ خاں صاحب کی اپنی دھن ہے۔ اور سننے والے بھول گئے کہ یہ دھن یا ترنم تو اس حمد کے خالق نے خود ہی تخلیق کیا تھا۔ اگر آپ ہم سے پوچھیں تو ہم پوری ایمان داری سے عرض کریں گے کہ ہمیں استاد نصرت فتح علی خاں کے مقابلے میں بھی وارثی صاحب کے اپنے ترنم میں پڑھی ہوئی یہ حمد زیادہ پسند ہے۔ جب پہلی بار ٹیلی وژن پر ان کی زبان سے یہ حمد سنی تھی تو ہمارے اوپر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ ایک سنسی سی سارے بدن میں دوڑ گئی تھی۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے پورے جسم کے۔ اور ہم نے ان سے کہا تھا ”آپ نے جنت میں اپنے لئے جگہ بنا لی‘‘۔


مظفر وارثی ہمارے پڑوسی تھے۔ یا یہ کہہ لیجئے کہ ہم ان کے پڑوسی تھے۔ مگر یہ پڑوس دائیں بائیں کا نہیں تھا بلکہ آگے پیچھے کا تھا۔ ان کا مکان ہمارے پیچھے تھا۔ یا ہمارا مکان ان کے مکان کے پیچھے تھا۔ یہ نئی آبادی تھی۔ ابھی وہاں چند ہی مکان بنے تھے۔ ان کا مکان ہم سے چند مہینے پہلے بنا تھا۔ ہم بعد میں صاحب مکان ہوئے تھے۔ لیکن آنا جانا ایسا لگا رہتا تھا جیسے بہت ہی پرانے پڑوسی ہوں۔ وہ دو چار برس ہی وہاں رہے۔ پھر وہ مکان فروخت کر کے شاید جوہر ٹاؤن چلے گئے تھے۔ شریف آدمی تھے۔ ایل ڈی اے کی طرف سے ادیبوں اور شاعروں کے حساب میں قرعہ اندازی کے ذریعے انہیں بھی دو کنال کا پلاٹ مل گیا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ پلاٹ پر اور مکان بنانے پر ان کا اتنا روپیہ خرچ ہو گیا تھا کہ قرض اتارنے کے لئے انہیں وہ مکان فروخت کر کے ایک چھوٹے سے مکان میں جانا پڑ گیا تھا۔ اب اس کی تصدیق تو ان کا بیٹا عرفی ہی کر سکتا ہے۔ یہ ہم اپنے خیال کی بات کر رہے ہیں۔ عرفی ان دنوں بہت چھوٹا تھا۔ مظفر وارثی ایک اچھے غزل گو شاعر تھے۔ نعت اور حمد کی جانب آنے سے پہلے انہوں نے بہت اچھی غزلیں کہی تھیں۔ ترنم ان کا ہمیشہ سے ہی بہت دل چھونے والا ہوتا تھا۔ وہ مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ پھر وہ نعت اور حمد کی طرف راغب ہو گئے۔ یہاں بھی انہوں نے اپنا لوہا منوایا اور ان کی حمد ”وہی خدا ہے‘‘ تو کلاسیک کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ ان کی اپنی یہ تخلیق اور ان کا اپنا ترنم، نصرت فتح علی خاں کی بلند بانگ آواز میں جا کر ایک اور ہی رنگ و آہنگ میں ڈھل گیا۔ لیکن اصل بنیاد ان کی اپنی ہی رکھی ہوئی ہے۔


اس وقت ہمیں مظفر وارثی اور ان کی معروف و مقبول حمد کا اس تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ کوک سٹوڈیو کی نئی پیش کش میں ہمیں یہ حمد ایک بار پھر سنائی دی ہے۔ اس بار اسے نوجوانوں کے بہت ہی پسندیدہ گائیک عاطف اسلم نے گایا ہے۔ عاطف اسلم نے فلمی گانے اچھے گائے ہوں گے، لیکن اس حمد کے ساتھ وہ انصاف نہیں کر سکے۔ ایک تو ان کی آواز اتنی باریک ہے کہ وہ حمد کے بھاری بھرکم الفاظ کا ساتھ نہ دے سکی۔ دوسرے ہمارے سامنے خود مظفر وارثی کا اپنا ترنم اور پھر استاد نصرت فتح علی خاں کی گائیکی موجود ہے۔ اس کے سامنے عاطف اسلم پانی بھرتے نظر آئے۔ بہت محنت کی ہے انہوں نے، بہت زور لگایا ہے انہوں نے، مگر وہ بات پیدا نہیں کر سکے جس سے اس بے مثال حمد کی شان میں معمولی سا اضافہ بھی ہو سکے۔ اور، عاطف اسلم نے حمد کے بعد جو ورد کیا اس میں ایک فاش غلطی بھی کر گئے ہیں۔ اصحابہ کے بجائے انہوں نے صحابہ پڑھا ہے۔ کیا وہاں ان کی اصلاح کرنے والا کوئی نہیں تھا؟ عاطف کو کم سے کم کسی پڑھے لکھے شخص سے یہ کلمہ سیکھ لینا چاہیے تھا۔ اور ہاں، یہ بھی یاد رکھیے کہ جو گیت یا دھن بہت زیادہ مقبول ہو جاتی ہے تو ہر گانے والا اس پر طبع آزمائی ضرورکرتا ہے۔ ہمیں خطرہ یہ ہے کہ عاطف اسلم کے بعد کوئی اور گانے والا بھی ادھر توجہ کرے گا۔ ان سب لوگوں سے ہماری گزارش ہے کہ خدا کے لیے مظفر وارثی کی اس حمد پر ہاتھ صاف کرنے سے گریز کریں۔ اور آپ سب مظفر وارثی کی اپنی زبان سے ہی ان کی یہ حمد سن لیا کریں تو زیادہ ثواب ہو گا۔


یہ ساری باتیں لکھنے کے بعد ہمیں خیال آ رہا ہے کہ کیا ہمارے تخلیقی سوتے خشک ہو چکے ہیں؟ کیا طبع زاد فکر ہم سے روٹھ گئی ہے؟ ہم موسیقی کے حوالے سے ہی بات کر رہے ہیں۔ آپ ذرا اپنے دماغ پر زور دے کر بتائیے، کتنا عرصہ، بلکہ کتنے سال ہو گئے ہیں آپ کو کسی غزل، کسی نظم یا کسی گیت کی ایسی نئی اور طبع زاد دھن سنے ہوئے جس سے آپ کے دل و دماغ کے تار جھن جھنا اٹھیں؟ فلمی موسیقی تو اب اتنی مغرب زدہ ہو گئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے ہم اپنی کلاسیکی موسیقی بھول ہی چکے ہیں۔ اب فلموں میں گانا نہیں ہوتا بلکہ ناچ گانے کا آئٹم ہوتا ہے۔ یہ بیماری ہندوستانی فلموں سے آئی ہے۔


ان کے ہاں جیسے اس قسم کے آئٹم پر پوری فلم چل جاتی ہے، اسی طرح ہم بھی کوشش کرتے ہیں کہ ناچ گانے اور شور شرابے سے ہی ہم اپنی فلم کامیاب کر لیں۔ اب رہے غیر فلمی گیت اور غزلیں، تو وہاں بھی چبائے ہوئے لقمے ہی چبائے جا رہے ہیں۔ اب ہم ان نامور گلوکاروں کے نام نہیں لیتے جنہوں نے کسی زمانے میں کیا دل فریب غزلیں گائی تھیں۔ یہ سٹودیو نام سے نئے نئے نمبر جو ہمارے سامنے آ رہے ہیں‘ ان میں وہ لوک گیت اور لوک دھنیں ہی سنائی دیتی ہیں جو ہمارے گانے والے اور گانے والیاں برسوں سے گاتی چلی آ رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اچھی اچھی آوازیں سامنے نہیں آ رہی ہیں۔ کئی لڑکے اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی آواز بہت اچھی ہے۔ لیکن وہ بھی پرانی دھنوں میں پرانے لوک گیت گا کر ہی گزارا کر رہے ہیں۔ یہ شکایت ہم نے ارشد محمود سے بھی کی تھی اور انہیں یاد دلایا تھا کہ آپ نے نور جہاں اور ٹینا ثانی کے لئے فیض صاحب کی نظموں کی جو دھنیں بنائی تھیں‘ وہ آج تک ہماری نیندیں اڑا رہی ہیں۔ اب آپ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ ان کا جواب تھا، جو پیسہ لگاتا ہے وہ چلتا ہوا کام زیادہ پسند کرتا ہے۔ جب بنی بنائی دھنیں اور بنے بنائے لوک گیت موجود ہیں تو کون محنت کرے نئے گیت لکھوانے اور نئی دھنیں بنوانے کی۔ لیکن ہمارے نوجوان گانے والوں اور گانے والیوں کو تو سوچنا چاہیے کہ وہ یہ چبائے ہوئے لقمے چبانے سے زیادہ دیر یاد نہیں رکھے جائیں گے۔ وہ یاد رکھے جائیں گے اوریجنل یا طبع زاد دھنیں گانے سے۔ مہدی حسن اور امانت علی خاں جیسے گانے والوں کو ہم کیوں یاد رکھتے ہیں۔ ان کی طباعی کی وجہ سے۔ ان کی اوریجنیلٹی کی وجہ سے۔


چلیے، اب موسیقی سے ادب کی طرف آ جائیے۔ اس سال ادب کا عالمی انعام ”بکر پرائز‘‘ کینیڈا کی ناول نگار مارگریٹ ایٹ وڈ اور ایک نائجیریا نژاد برطانوی ناول نگار برناڈین ایوا رستو کو دیا گیا ہے یعنی اس سال کا انعام دو ناول نگاروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایٹ وڈ کا نیا ناول The Testament ان کے مشہور و معروف ناول The Handmaid’s Tale کا تسلسل ہی ہے۔ بہرحال ہم نے دوسری ناول نگار کا ناول Girl, Woman ,Otherنہیں پڑھا، اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتے؛ البتہ ہم جانتے ہیں کہ مارگریٹ ایٹ وڈ کا ناول The Handmaid,s Tale انگریزی کی جدید فکشن میں کلاسیک کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ حال ہی میں اسے امریکی ٹیلی وژن پر سیریل کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہم تو اس ناول کے حوالے سے ہی مارگریٹ ایٹ وڈ کو نوبیل انعام کا حق دار سمجھتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker