اس کے بعد نواز شریف کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے اور ن لیگ کبھی حکومت نہ بنا پائیگی، نواز شریف کیساتھ باقاعدہ ہاتھ ہو گیا ہے، شہباز شریف کی بھی آخری وزارت عظمیٰ ہے جس میں آصف زرداری کا ایوانِ صدر حاوی ہو گا اور پارلیمنٹ اتنی کمزور کہ جیسے کوئی صدارتی نظام۔ خیبر پختونخوا کے علی امین گنڈاپور سے پنجاب کاشہباز شریف نہیں سندھ کا سربراہ ریاست ہی ڈیل کر سکے گا۔
وزارتِ عظمی برادرشہباز شریف اور اپنا صوبہ پنجاب دختر مریم نواز کے حوالے کر کے ”میاں جدوں جاوے گا“ تے کسی نوں پتہ وی نہیں لگنا، ووٹروں کو جھوٹے لارے لگانے والے ایسے لیڈر کو شاید بہت پہلے ہی چلے جانا چاہئیے تھا، الیکشن سے پہلے میاں دے نعرے وجانے والے اب بغلیں بجاتے نظر آئینگے۔ وہ صفحہ اول کے سرخی نما ”وزیر اعظم نواز شریف“ کے اشتہارات نے بچے کھچے متوالوں کو ووٹ کے لئیے باہر تو نکال لیا مگر اب انہیں دوبارہ پٹواری ہونے کا احساس ہو گا۔ ن لیگ کے ووٹروں کو اگر یہ پتہ ہوتا کہ نواز شریف حسب معمول صرف پکی پکائی واضح اکثریت پر اقتدار سنبھالیں گے تو وہ گھروں سے شھباز شریف کو وزیر اعظم بنانے نکلتے؟ کیا ن لیگ پنجاب میں ق لیگ بننے جا رہی ہے؟ اور کیا مریم نواز پنجاب کے عوام اور یوتھ کو کسی نئی سوچ اور نظریہ کیساتھ ن لیگ کی جانب کھینچ سکیں گی؟ کیا نواز شریف کا ایسا سیاسی ورثہ ہے جسکی جانب مریم نواز فخر سے اشارہ کر سکیں گی؟
اس سے پہلے کہ اب کوئی میاں صاحب کو نکالتا میاں صاحب خود ہی پتلی گلی سے نکل لئیے، اب ووٹ کے لئیےباہر نکالے گئے ووٹروں کا سوال ہو گا کہ ”میاں صاحب ہمیں کیوں نکالا”؟ الیکشن پانچ سال بعد ہوتے یا پانچ ماہ بعد لگتا ہے کہ میاں صاحب کو پورے پنجاب کا فارم 45 خواب میں آ کر ڈرا رہا ہے ۔ 2024 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد میاں صاحب نے سوچا ہو گا کہ بیچارے جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے 2018 میں کونسا کوئی ناقابلِ معافی گناہ کبیرہ کر دیا ہو گا۔
9مئی والا اندر ہے اور لیول پلئینگ فیلڈ کے لئیے 28مئی والا بھارا پتھر باہر، مائنس ٹو ہو چکا۔ لوگ تو پوچھیں گے نا کہ کیا یہ سب کسی لندن پلان کا حصہ تھا؟ کیا اب کی بار یہی ڈیل تھی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ کہ شیر پنجرے میں جائے گا اور نہ ہی جنگل میں بادشاہت کے لئیے چھوڑا جائیگا، جیل اور اقتدار دونوں میں واپسی نہ ہوگی اور اس کے بدلے اُس کی بیٹی کو وزارت اعلیٰ اور بھائی کو وزارت عظمی کی نوکری پر رکھ لیا جائیگا؟
نواز شریف کا وزارت عظمی سے دستبرداری کا فیصلہ در حقیقت قومی اسمبلی اور عملی سیاست سے بھی پییچھے ہٹنے کا آغاز ہے۔ لگتا ہے انکی زندگی کے دو ہی مقاصد تھے، ایک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا اور دوسرا مریم بیٹی کو وزیر اعلی پنجاب بنانا۔
میاں صاحب کے سیاسی منظر نامے سے کھسکنے کی ایک اور وجہ بھی ہے، میاں صاحب کے دو انتخابی حلقوں میں نتائج ایسے مرتب کئیے گئے کہ وہ انکے گلے کی ہڈی بن گئے۔ اب ایسے نتائج کی بنیاد پر کوئی وزیر اعظم بنے اور عدالت اس کی انتخابی جیت کالعدم کر دے تو اس کی جماعت کا کیا بنے گا؟ ویسے بھی خان کو اندر کرنے والی عدالتیں دباؤ میں فیصلے نہیں کرتی نا؟ ایسے انتخابی نتائج کے ذریعے نواز شریف کیساتھ شاید وہ ہاتھ کیا گیا ہے کہ جو وہ کسی کو بتانے جوگے بھی نہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک ریٹائرڈ کرنل کو ایک پراپرٹی ٹائکون نے دفتر میں بلا کر اس کے سامنے نوٹوں کی گڈیاں رکھ دی اور خفیہ ویڈیو بنا نے کے بعد وہ پیسے بھی واپس لے لئیے اور اُسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ لوگوں کو بتایا کہ اِس نے مقدمے واپس لینے کے لئیے رقم وصول کی تھی۔
میاں صاحب کی بھی واپسی ہوئی، سزائیں ختم ہوئی، الیکشن بھی لڑے اور بظاہر جیت بھی گئے۔ اگر نواز شریف وزیر اعظم بن جاتے تو ہم جیسے کہتے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور اِس کے مہرے پانامہ ججوں کو عوام نے آئینہ دکھا دیا ہے، مگر بظاہر عوام کو جوتا دکھا دیا گیا ہے۔ بہتر ہوتا میاں نواز شریف ایک دھواں دار تقریر کر کے اقتدار کی دوڑ سے دستبردار ہوتے یوں خاموشی سے ایک ملزم یا مجرم کی طرح نہیں۔
میاں صاحب ہمیشہ سے ایک باپ ہی تھے قومی لیڈر نہیں، اسی لئیے اِس سے بہت کم ہی پر راضی ہو گئے اس شرط پر کہ جس طرح میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے ہتھکڑی لگائی گئی تھی اُسی طرح میری آنکھوں کے سامنے اُس سے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی کا حلف بھی لیا جائے، ایک باپ اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لئیے کتنے خواب دیکھتا ہے مگر ایسے لیڈر کی قوم جن ڈراؤنے خوابوں کے گھیرے میں ہوتی ہے اُس کا اندازہ ایک ڈیلر کیسے کر سکتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

