دو روز سے سوشل میڈیا پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی سرکٹ ہاؤس میں ہونے والی پریس کانفرنس میں صحافیوں کے تندو تیز سوالات اور مخدوم صاحب کے جوابات پر مبنی ویڈیو کافی زیر بحث ہے اور ہمارے بعض سینئرز اور دوست اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے اس پریس کانفرنس میں مخدوم شاہ محمود قریشی کو جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے معاملہ پر مکمل طور پر لا جواب کرکے پچھاڑ دیا ہے اور اسے اپنی فتح قرار دے رہے ہیں ۔
اگر اس ویڈیو کا بغور جائزہ لیا جائے تو مخدوم شاہ محمود قریشی بڑے تحمل سے جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں مگر انہیں بات کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا جارہا، مخدوم شاہ محمود قریشی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ہر دور حکومت میں کسی نہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہیں بات بڑے تحمل اور سلیقہ سے کرتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو پہلے سوچتے ہیں اور ایک ایک لفظ کی ادائیگی بڑے نپے تلے انداز میں کرتے ہیں ۔کنٹینر ہو یا قومی اسمبلی کا ایوان صحافیوں کے سوالات ہوں یا کوئی اور تقریب بحیثیت نائب کپتان مخدوم صاحب بہت خوبصورت انداز میں الفاظ کے چوکے چھکے لگاتے نظر آتے ہیں۔
جہاں تک ملتان کے صحافیوں سے بات چیت کا معاملہ ہے تو ملتان شاہ محمود قریشی کا اپنا شہر اور حلقہ ہے یہاں کے صحافی ان کے اپنے ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ صحافیوں نے جو سوالات کئے وہ موقع کی مناسبت سے درست تھے صحافی کا کام سوال کرنا ہی ہوتا ہے مگر بلاوجہ بحث و مباحثہ میں الجھ کر اور جواب دینے والے پراپنی رائے مسلط کرکے بعض اوقات سوال کی اہمیت ختم کر دی جاتی ہے اور یہی کچھ اس پریس کانفرنس میں ہوا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان میں بنتا ہے یا نہیں اس کا سارا الزام یا کریڈٹ مخدوم شاہ محمود قریشی کو دے دینا قبل از وقت ہے کیونکہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئے گو کہ سفر کا آغاز ہوچکا ہے مگر منزل تاحال بہت دور ہے کیونکہ یہ انتظامی امور کے ساتھ ساتھ آئینی مسئلہ بھی ہے اور اس آئینی مسئلہ کو دور کرنے میں کئی پیچیدگیاں حائل ہیں اور ہوں گی اور شاید جس طرح کے سیاسی حالات ہیں ان آئینی و قانونی ییچیدگیوں کو ختم کرنا موجودہ حکومت کے بس کی بات نہ ہو۔
ابھی تو شروعات ہیں اور ہمیں تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق انتظار کرنا چاہئے اور بلا وجہ کسی کو مورد الزام ٹھہرا کر معاملہ کے بگاڑ کی طرف نہیں لے جانا چاہئے بہتر ہوتا کہ ہمارے صحافی بھائی موقع کا فائدہ اٹھا کر مخدوم صاحب سے ان کے اجڑے اور ویران ہوتے شہر ملتان کے بارے سوالات جوابات کرتے خارجہ پالیسی ،مسئلہ کشمیر، گرے لسٹ اور دیگر عالمی امور سے زیادہ ہمارے لئے مقامی مسائل اہم ہیں قریشی صاحب سے یہ سوال کیا جاتا کہ ہر گھر کے باہر گندگی کے ڈھیر ہیں ہر گلی میں گٹر ابل رہے ہیں شہر کی مرکزی شاہرات تک کالے پانی کی ندیاں اور نالوں کا منظر پیش کررہی ہیں مین ہولز کھلے ہوئے ہیں گاڑیاں تو درکنار انسان باآسانی موٹرسائیکل بھی نہیں چلا سکتا سٹریٹ لائٹس کا سرے سے وجود ہی نہیں بازاروں میں تجاوزات کی بھرمار ہے بھتہ خوری عروج پر ہے صحت کی سہولیات ناپید ہیں شہر کے تقریباً زیادہ واٹر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں اور جو چالو حالت میں بھی ہیں ان کا پانی بھی مضر صحت ہے کئی کئی سال ان کے فلٹر تبدیل نہیں کئے جاتے مہنگائی مافیا بے لگام ہے پارک اجڑ چکے ہیں مقامی انتظامیہ اور میونسپل سروسز فراہم کرنے والے ادارے کہیں نظر نہیں آتے اور اگر کوئی نظر آتا ہے تو ان پر بھی مخدوم صاحب کے حوالے سے ان کی پارٹی کے اپنے الزام تراشیاں کررہے ہیں ۔
سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو چکا ہے قبضہ مافیا کی کارروائیاں عروج پر ہیں پولیس کا گشت کہیں نظر نہیں آتا لوڈ شیڈنگ عروج پر ہے بل بجلی کئی کئی گنا زائد آرہے ہیں 47درجے سینٹی گریڈ گرمی میں بھی سوئی گیس غائب ہے اس طرح کے سوالات کرکے مخدوم شاہ محمود اور ان کی پوری ٹیم کو ناک آؤٹ کیا جاتا تو شہرکی بھی نمائندگی ہوتی اور عوام کی آواز بھی ان تک پہنچ جاتی مگر غیر ضروری سوال جواب کرکے میرے خیال میں نہ شہر کی کوئی نمائندگی کی گئی نہ عوام کے کسی مسئلہ کو اجاگر کرکے وزیر خارجہ کو عوام کا نمائندہ ہونے کا احساس دلایا گیا۔
ایک زمانہ تھا کہ ہر بڑے سے بڑا لیڈر اور سیاسی رہنما ملتان پریس کلب آکر صحافیوں سے ملتا اور گفتگو کرتا تھا سابق صدر فاروق لغاری سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی، سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ تک جیسی کئی اور اہم شخصیات اور سیاستدان راقم الحروف کے سامنے ملتان پریس کلب کی پرانی عمارت میں آکر صحافیو ں کے سوالوں کے جواب دیتے رہے مگر اب کچھ عرصہ سے ٹرینڈ بدل چکا ہے جس کا جہاں دل چاہتا ہے صحافیوں کو بلا لیتا ہے اور اس معاملے میں ہم اتنے بخیل ثابت ہورہے ہیں کہ بعض ساتھی دوسرے ساتھی کو بتانا تک گوارا نہیں کرتے کہ کون سا سیاستدان یا لیڈر کہاں اور کن صحافیوں سے مل رہا ہے جب کوئی لیڈر پریس کلب آتا تھا تو اس سے رپورٹرز کے علاوہ دیگر سینئرز و جونیئر عامل صحافی بھی مل کر سوال جواب کرلیتے تھے مگر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا جب کوئی چل کر آپ کے گھر آئے گا تو آپ کی عزت کرے گا اور جب آپ چل کر کسی کے پاس جائیں گے تو یہ اس کے ظرف پر منحصر ہے کہ وہ آپ سے کیا سلوک کرتا ہے سینئرز اور صحافیوں کے کرتا دھرتاؤں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے ۔
جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا معاملہ ہے تو سب جانتے ہیں کہ یہ نہ تو مسلم لیگ ن نے بنایا نہ پیپلزپارٹی نہ شاید تحریک انصاف بنا سکے نہ عمران خان کے بس کی بات ہے نہ شاہ محمود قریشی ایسا کچھ کرسکنے کی پوزیشن میں ہیں یہ معاملہ بھی ان ہی ”قوتوں” نے حل کرنا ہے جو سارا نطام چلاتی آئی ہیں چلا رہی ہیں اور آئندہ بھی چلائیں گی یہ ان ”قوتوں” کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ اگر صوبہ جنوبی پنجاب بنا تو سیکرٹریٹ کیلئے ملتان کا انتخاب کریں یا بہاولپور کا ہمیں وقت سے پہلے ابھی اس بحث میں نہیں پڑنا چاہئے اور صحافی کے سوال کے جواب میں قریشی صاحب کا یہ کہنا کہ الیکشن انہوں نے خود لڑنا ہے اور ووٹ بھی وہ خود لیں گے بالکل درست ہے کیونکہ ہمارے پارلیمانی نظام میں جس طرح کے الیکشن ہوتے ہیں وہ کسی سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کس نے کہاں سے الیکشن لڑنا ہے عوام نے کس کو ووٹ دیا یا نہیں یہ سب کچھ ”ایمپائر” کے فیصلے پر ہی منحصر ہوتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

