سرائیکی وسیبکالملکھاری

مصطفیٰ کمال پاشا کمال کے انسان تھے ۔۔پروفیسر خالد مسعود گوندل( وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور)

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
پروفیسر مصطفی کمال پاشا 1978ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان میں فرسٹ ائیر ایم بی بی ایس میں داخل ہوئے اور 1984 ءمیں بیس میڈیلز کے ساتھ وہ بیسٹ گریجوایٹ آف نشتر میڈیکل کالج قرار پائے ان کا بچپن، ان کا لٹرکپن اور ان کی جوانی نشتر میڈیکل کالج میں ہی گزری اور ان کے والد محترم پروفیسر محمدکمال وقت کے بہترین فزیشن اور کارڈیالوجسٹ تھے ان کے چچا اور پروفیسر بلقیس شبیر کے والد پروفیسر شبیر احمد نارو مرحوم میرے استاد رہے میری ٹریننگ میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے پروفیسر مصطفی کمال پاشا سے میرا تعلق تین دہائیوں سے زائد عرصہ پر محیط ہے میں نے ان کو بہترین دوست، بہترین استاد اور inovative سرجن پایا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب میں لیپروسکوپک سرجری کو متعارف کروایا وہ لیپرسکوپک سرجری کے بانیوں میں سے ہیں ان سب خصوصیات کے ساتھ ساتھ وہ بہت اچھے منتظم بھی تھے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک متمول خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود وہ انتہائی ملنسار اور عاجزانہ شخصیت کے مالک تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پروفیسر مصطفی کمال پاشا میں بہترین انسان کی تمام اوصاف حمیدہ بدرجہ اتم موجود تھیں۔ اگر آپ نے کسی کی شخصیت کا اندازہ لگانا ہو تو آپ اس کے ساتھ سفر کرتے ہیں ہم نے اکٹھے مختلف ممالک کا سفر کیا میں نے ان کو بہترین ہمسفر پایا۔ پروفیسر مصطفی کمال کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان ملتان سینٹر کے کافی عرصہ تک کنٹرولر امتحانات رہے ان کے دور میں امتحانات کا خوش اسلوبی سے انعقاد اور بروقت نتائج کا اعلان قابل تحسین ہے۔
اگر آپ کا سی پی ایس پی ملتان سینٹر جانے کا اتفاق ہو توآپ کو اندازہ ہوگا کہ ملتان ریجنل سنٹر بنانے میں مصطفی کمال پاشاکا کلیدی کردار رہا ہے خوب صورت آڈیٹوریم، بہترین امتحانی مراکز اور گیسٹ ہاؤس مصطفی کمال پاشا کی یادیں دلاتے ہیں۔ان کی بہترین خدمات کے اعتراف میں سی پی ایس پی انتظامیہ کمیٹی ممبران نے متفقہ فیصلہ کیاہے کہ سی پی ایس پی کا امتحانی مرکز ان کے نام سے منسوب ہو گا۔
نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے لئے ان کی خدمات قابل قدر اور ناقابل فراموش ہیں وہ پہلے وائس چانسلر ہونے کی حیثیت سے شب وروز اس کی ترقی کیلئے مصروف عمل رہے انہوں نے انڈر گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ کے طلبا طالبات میں تدریس، تربیت اور تحقیق کے کلچر کوپروان چٹرھایا۔ ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں لیکن اس ضمن میں رول ماڈل پروفیسر مصطفی کمال پاشا تھے اس کی مثال میں اس طرح دیتا ہوں کہ آج سے چند سال پہلے ان کے شاگردوں نے ان کا انٹرویو کیا میں نے جب انٹرویو سنا تو اس میں ان کے الفاظ تھے کہ میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اس سے خوبصورت ملک دنیا میں کوئی نہیں اس سے خوبصورت جگہ دنیا میں کوئی نہیں اور آخری جملہ تھا کہ مرنے کے لئے پاکستان سے بہتر کوئی مٹی نہیں اور اسی مٹی میں حیات جاویدان ان کو مل چکی ہے۔ وہ سرجن ہونے کے باوجود کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے ان کے درمیان موجودرہے اور صف اول کے سپاہی بنے،اور جام شہادت نوش کرکے زندہ جاوید ہو گئے۔ کہتے ہیں ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے“
بیماری کے دنوں میں ان کے ساتھیوں نے انکی جان بچانے نے کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی، ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بہاولپور میڈیکل کالج کے بہترین معالجین کے علاوہ، فیصل آباد سے پروفیسر انجم جلال اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچے جب ہمیں پتہ چلا کہ انکی طبیعت زیادہ بگڑ رہی ہے تو ہم نے لاہور سے انتہائی نگہداشت اور ماہرامراض سینہ ڈاکٹر سلمان ایاز کی قیادت میں ایک ٹیم روانہ کی اور کہا کہ جب تک پروفیسر مصطفی کمال پاشا روح بصحت نہیں ہوجاتے وہیں رکیں۔ لیکن ہر ذی روح کے لئے اس دنیا سے جانے کا اک وقت مقرر ہے اور اللہ پاک ہی جانتے ہیں کہ وہ کون سا وقت ہے۔ پروفیسر مصطفی کمال پاشا کے لئے بھی وقت مقرر تھا اور اپنے مقررہ وقت پر ہم سب کو اداس چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔۔
میں یہ سمجھتاہوں کہ جیسے وہ اپنے نام کے حوالے سے ایک کمال کی شخصیت تھے ویسے ہی ان کا دنیا سے جانا بھی کمال تھا جنازے میں ہزاروں لوگوں کا جم غفیر تھا اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ان کے فلاحی کام جو انہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے کئے۔ ان کی نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے لئے بے پناہ خدمات، ان کی سی پی ایس پی کے لئے خدمات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے لئے خدمات کبھی نہیں بھولی جاسکتیں۔
شعبہ طب سے وابستہ تمام افراد وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے تہہ دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے مصطفی کمال پاشاکے لئے پاکستان کے سول ایوارڈ کا حکومتی سطح پر اعلان کیا۔
میں دعا گو ہوں کہ پروفیسر مصطفی کمال پاشا صاحب کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اس شعر کے ساتھ میں اختتام کروں گا کہ۔
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔
پاشا صاحب آپ دلوں میں تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور ہماری اور آپکے ہزاروں شاگردوں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker