مقتول کا حقیقی وارث حاضر ہو قاضی کی عدالت سے حکم نامہ جاری ہوا، یہ کوئی عام قتل نہیں تھا بلکہ ملک کے ایک ایوان کے سربراہ نے (کسی ہٹلر کی وراثت کو جاری رکھنے کے خواہش مند متکبر حکمران جو اس کو اپنے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا تھا ) کے اکسانے پر بھری مجلس میں ایک سازشی خنجر سے اس کا گلا کاٹ ڈالا تھا حالانکہ اس کے ارد گرد ہجوم اس کی تقدس کے واسطے دیتا رہا مگر یہ جانتے ہوئے کہ سب گواہ ہیں ، قاتل کسی کو خاطر میں لائے بغیر سازشی ہاتھ کا پہلے سے زہر بجھا خنجر اس کے سینے میں گھونپا اور دندناتا ہوا بھاگ گیا گویا تھوڑی دیر کے لئے تو سب کے اوسان خطا ہو گئے کیونکہ اس تقدیس کی بے دردی سے پامالی اس کے تحفظ کا حلف لینے والوں کے ہاتھوں۔۔
قاضی بھی جدید دور کے نشریات پر اس قتل کے مناظر دیکھ رہا تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور شائد قاضی خود اس سر عام قتل عمد کو جس کا مقصد محض اپنا اقتدار کو طول دینا تھا دیکھ کر حیرت اور سکتے میں تھا اور شائد فیصلہ کر چکا تھا کی اس قتل کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دامن پر لگے سارے داغ بھی دھونا چاہ رہا تھا کیونکہ پہلے قاتل کچھ بیرونی عناصر تھے اور اب قتل اس کی جنم بھومی میں ہوا تھا اور وہ بھی 199 گواہان کے سامنے،،اس دوران قاضی مقتول کی دی ہوئی طاقت کی بنیاد پر اس مقدمہ کا خود ہی مدعی بن گیا اور ادھر اس قتل سے متاثرین و ورثہ بھی دہائی دینے پہنچ گئے ادھر چھٹی کے روز قاضی کی عدالت لگنے پر حکمران کا حیران ہوا کیونکہ وہ اس سازش ہو عدالت کے ناغہ کے روز انجام دینا چاہتا تھا ، مگر اب پورے دیس انصاف کی گھنٹیاں بج رہی تھیں اور قاضی صرف 16 منٹ میں انجام دئے جانے والے سنگین جرم کی جلد شنوائی چاہتے تھے ادھر شائد قاضی ہر گذرتی گھڑی کے ساتھ بے چینی میں اضافے کو محسوس کر رہاتھا ، تمام فریقین کے وکلاء اپنی دلیلوں سے ثابت کررہے تھے کہ یہ قتل نا حق ہے تو دوسری طرف متکبر حکمران جو اس قتل ہو محرک اور منصوبہ ساز تھا اس کا کہنا تھا کہ قاضی کو اس قتل میں حق سماعت نہیں کیونکہ قتل ایک بڑے مقدس ایوان میں اس ایوان کے سربراہ کی ہاتھوں ہوا ہے اور کچھ سازشی عناصر مقتول کو وجہ بنا کر متکبر حکمران کو اس کے منصب سے ہٹانا چاہتے ہیں مگر اس حکمران اور اس کے چیلےا س بات کو بھول گئے تھے کہ کوئی بھی ایوان انصاف سے بڑا نہیں ہو سکتا ، قاضی نے تمام متاثرین کو سنا مگر اس مقتول کے حقیقی وارث کو بلانے کا حکم جاری کیا یہ بڑا تاریخ ساز لمحہ تھا کیونکہ آج قاضی کو شائد تاریخ کو درست کرنا تھا اور مقتول کے وارث کو اپنے خاندان اور شھدا کے آگے سرخرو ہونا تھا اسی لئے جب وہ گھر سے چلا تو اس کے سامنے ایک تاریک رات میں پھانسی کے پھندے پر جھولتی نانا کی لاش تھی ، پنڈی کے چوراہے میں نامعلوم قاتل کے ہاتھوں اس کی بیگناہ مقتول کنیز کربلا ماں کی لاش ، رات کی تاریکی میں اندھا دھند گولیوں سے چھلنی ماموں کی لاش ، عالم غربت میں زہر دیکر مارے گئے ماموں کی لاش ، نانا کی پھانسی کے بعد ایک آ مر کے ہاتھوں کئی بیگناہ مقتول کارکنوں کی چہرے ، سانحہ کارساز اور راولپنڈی کے خودکش بمبار کے ہاتھوں شھدا کی لاشیں، مگر آج اس مقتول کا معاملہ اس کے نزدیک زیادہ بڑا تھا کیونکہ یہ ملک میں 22 کروڑ لوگوں کے حقوق اور آئندہ نسلوں کی آزادی کا معاملہ تھا تو اس نوجوان نے ذاتی مقتولین کو بھول گیا اور چہرے پر روائتی مسکراہٹ لئے قاضی کی عدالت میں داخل ہوا تو قاضی نے اس مسکراہٹ کو محسوس کیا اور تاریخ کو درست کرنے والی تاریخی جملہ کہا ” آپ کے خاندان نے اس مقتول کے لئے اور انصاف و قانون کی حکمرانی نے تین نسلوں کی قربانی دی ہے ، مگر صرف اور صرف آپکے چہرے پر مسکراہٹ ے ،جیسے کہ رہا ہو کہ طالع آزماؤں کی کوشش ، جبرو استبداد آپکے عزم کو کم نہیں کر سکا اور آج آپکی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ آپ کسی مہم جو کی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں
قاضی کا ہر لفظ فیصلہ ہوتا ہے قاضی کی سامنے مقتول آئین کی حقیقی خالق کا نواسہ کھڑا تھا ، وقت دیکھ رہا تھا کہ قاضی اپنے پیش رو کے باعث اس کی عدالت پر لگے تاریخی داغ کو دھو رہا تھا اور اس آئین کے حقیقی خالق کو شھید کے لفظ سے یاد کررہا تھا ،اور عدالت نے اس آئین جس کے سینے میں ایک اقتدار پسند متکبر نے سازش کا خنجر گھونپا تھا اسے اس کے حقیقی وارث کو واپس کر رہا تھا نوجوان واپس مڑا تو ایسا لگ رہا تھا کہ اسی عدالت جس میں اس کے نانا کو پھانسی دی گئی تھی اس کے در و دیوار کہہ رہے ہوں
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے

