سوشل میڈیا پر مرحوم سردار میر بلخ شیر خان مزاری کی زندگی کے بارے میں ایک کاپی پیسٹ تحریر گردش کر رہی ہے جس میں بنیادی رائٹر نے ( معذرت کے ساتھ ) ۔ میر صاحب کی سیاسی زندگی کے آغاز کا احاطہ نہیں کیا ۔ دوسرا ان کے صاحبزادوں کی تعداد چار لکھی گئی ہے جبکہ نام تین لکھے گئے ہیں ۔اس لئیے ریکارڈ کی درستی کیلئیے تحریر ہذا قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ۔
میر صاحب جب چیف آف قبیلہ بنے ان کی عمر 20۔21 سال تھی اس وقت مشترکہ ضلع ڈیرہ غازیخان کی سیاست لغاری گروپ اور مزاری گروپ کے نام سے ہوتی تھی نہایت وضع داری شرافت اور اصول پسندی کے ساتھ سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کیا جاتا تھا 9 تمن داروں کی سلطنت میں کچھ لغاریوں کے ساتھ اور کچھ مزاریوں کے ساتھ تھے وہوا سے لیکر شاہوالی تک میر بلخ شیر کی سیاست کا ڈنکا اس وقت بجا جب انہوں نے ایوب خان کے ” بنیادی جمہوریت ” کے نظام کے تحت ڈسٹرکٹ بورڈ ( ضلع کونسل ) کے پریذیڈنٹ ( چئیرمین ) کے الیکشن میں چیف لغاری نواب سر محمد جمال خان لغاری ( سردار فاروق احمد خان لغاری کے دادا جان) کو شکست دی تھی ۔
جام پور میں ڈسٹرکٹ بورڈ کا سب آفس ( پرانی عمارت ٹیکنیکل سینٹر والی گلی موجودہ اے ڈی ایل جی آفس ‘ یونین کونسل آفس نزد پریس کلب ) کی تعمیر بھی انہی کے دور میں ہوئی ۔1970 کے انتخابات میں پوری تحصیل پر مشتمل صوبائی اسمبلی کی نشست پر نواب تگیہ خان لغاری کو شکست دی تھی ان کے مقابلہ میں پییپلز پارٹی کے امیدوار ظفر اللہ خان پتافی ایڈوکیٹ تھے جو رنر اپ ( یعنی دوسرے نمبر پر رہے ) ۔
نوجوان نسل کی معلومات میں اضافہ کیلیے ۔
روجھان راجن پور تحصیل کا حصہ تھا وہاں پوری تحصیل راجن پور کی ایک نشست تھی جہاں سے میر صاحب نے سردار نصراللہ خان دریشک کو آزاد مزاری گروپ کی جانب سے امیدوار نامزد کیا اور کامیاب کروایا ” جہاز ” ان کا انتخابی نشان تھا ۔میر صاحب کے چھوٹے بھائی سردار شیر باز خان مزاری ایم این اے منتخب ہوئے ۔
میر صاحب اور سردار نصرا للہ خان دریشک 1972،میں شہید ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے میر صاحب کو وزارت کی پیش کش کی گئی مگر انہوں نے ( اپنے سیاسی شاگرد ) سردار نصرا للہ خان دریشک کا نام پیش کر دیا اور ملک معراج خالد ( وزیر اعلی ) کی صوبائی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خوراک اور وزیر آبپاشی بنے ۔جام پور فاضل پور راجن پور میں فوڈ گودام انہی کے دور میں بنے راجن پور کی راجباہیں اور چھوٹی نہریں بھی انہی کے دور میں بنی۔ ( زمیندار خاندان کے لوگ ہمیشہ وہی منصوبے لاتے ہیں جن سے ان کے زمیندارہ نظام کو فائدہ ہو ) ۔۔
جنرل محمد ضیا ء الحق کے دور میں میر صاحب مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن نامزد کیے گئے لغاری خاندان کی جانب سے سردار جعفر خان لغاری کے والد گرامی سردار عطا محمد خان لغاری ممبر مجلس شوریٰ بنائے گئے جماعت اسلامی کیونکہ جنرل ضیاء کی حامی تھی تو ڈیرہ غازی خان سے شہید ڈاکٹر نذیر احمد کے بھائی میاں محمد رمضان ایڈوکیٹ جبکہ راجن پور سے درویش منش شخصیت ملک عبدالمجید جاوید ایڈوکیٹ مرحوم ( والد گرامی برادر ظفراللہ جاوید ایڈوکیٹ ہائی کورٹ راجن پور ) کو ممبر بنایا گیا ۔
1982میں جنرل ضیا الحق کی اجازت سے پنجاب کے گورنر غلام جیلانی خان نے چھ نئے اضلاع بنائے تو میر صاحب کی فرمائش پر راجن پور کو بھی ضلع بنا دیا گیا ۔۔۔اسی مقام پر آکر جام پور کے ایک عام شہری کی حیثیت سے دل کے زخموں کے ٹانکے ادھڑنے کے خدشہ کے پیش نظر ہاتھ لرزنے لگے ہیں حروف نے روٹھنا شروع کر دیا ہے ۔۔گوکہ ۔۔اسکے آگے کافی تفصیلی” داستان ” ہے جس کا نقطہ آغاز 1982 ہے جو تا حال جاری ہے نہ کردار بدلے ہیں نہ سکرپٹ بدلا ہے البتہ ” زور آور ڈائریکٹرز ” نے حقائق پر مبنی داستان لکھنے والے یا تو خرید لئیے ہیں یا پھر انہیں ” دماغی طور پر بانجھ بنا دیا ہے ” ان شا اللہ بشرط زندگی تو درد کی زنجیر کا سلسلہ جہاں ٹوٹ رہا ہےوہاں سے پھر کبھی سہی ۔۔۔
فیس بک کمینٹ

