اختصارئےلکھاری

تاثیر بدل گئی محبت کی ؟ ۔۔مشعل ہانی

بڑے بوڑھوں سے استفسار کیا گیا کہ محبت کسے کہتے ہیں؟ محبت کیا ہے؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ تو کچھ یوں وضاحت ہوئی کہ محبت کا مطلب سکون، خوشی، خلوص، چاہت غرض کہ کائنات کے سارے مثبت جذبے جب قلب کے کسی نہاں کوزے میں اسیر ہو جاتے ہیں تو پھر اس میں عقیدت و احترام، الفت و چاہت کی کستوری وجود میں آتی ہے جس کی خوشبو میں جو بھی سانس لیتا ہے اجل تک مہکتا رہتا ہے۔ محبت کسی نرجوت کوہ کی آغوش سے پھوٹنے والے اس چشمے کی مانند ہے جس کی بوند بوند خشک لبوں میں زندگی کی تمازت بھردیتی ہے ۔
مگر جب اپنے دور پر نظرڈالتی ہوں تو محبت کا مطلب کیا نکلتا ہے، تاسف ہوتا کہ اس سے صرف مطلب ہی مطلب نکلتے ہیں۔ محبت استعمال ہوتی ہے گندے ذہنوں کی غلیظ سوچوں کو مطلب کے کیچڑ سے لتھڑا ہوا عملی جامہ پہنانے کے لیے۔ محبت کا معنی دیکھتی ہوں تو ہوس، بھوک،بے حسی خود غرضی، لالچ، جفا، جھوٹ، فریب یا پھر وقتی جذبات کی تسکین کے لیے زندگیاں روند دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔
آہ! کہ ہمارے دور میں جذبوں کی تاثیر بدل گئی ہے تو آنے والی نسلوں کا کیا حال ہوگا۔ دل حزن و ملال کے شکنجے میں پھنسا اس ظالم دنیا نامی قلعے کی اونچی بدنما، بے حس، چیخوں کو نگل جانے والی دیواروں پہ محبت کو نوچے اس کے پژمردہ وجود کے پاس بیٹھے وحشی گِدھوں کو تکتے تکتے خاموش سسکیاں بھرتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker