اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت کی مشہور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز جو برقع پوش مولوی کے. ام سے جانے جاتے ہیں، آج اس وقت دوبارہ واض ہو گئے، ج انہوں نے معروف عالم دین اور روئیت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی عبدالقوی کو اس وقت لال مسجد سے نکال دیا جب وہ دارالافتاء میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا عبدالعزیز ہاتھ میں رائفل پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے گارڈز کے ساتھ دارالافتاء کی طرف جا رہے ہیں۔ جاتے ہی انہوں نے مفتی عبدالقوی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا "میں اسے گولی مار دوں گا، یہ بد معاش ہے۔” انہوں نے دارالافتاء کے لوگوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا "آئندہ جو بھی اس کے ساتھ بیٹھا میں اس کا علاج کروں گا، یہ انسان نہیں ہے۔ یہ جہاں ملے اس کو کوڑے لگائے جائیں.
جب یہ واقعہ پیش آیا تب مفتی عبدالقوی دارلافتاء میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ مولانا عبدالعزیز کے آنے کے بعد وہ اٹھ کر چل دیے اور فون کان کو لگالیا۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نے انہیں ہاتھ سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور کہا ” چل نکل یہاں سے، دفع ہوجا، آئندہ لال مسجد میں نہیں آنا، اگر آپ لال مسجد میں آئے تو میں آپ کو یہاں باندھ کر کوڑے لگواؤں گا۔”
فیس بک کمینٹ

