اسلام آباد : اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو مساجد کے اکاونٹس کھلوانے کی ہدایت کردی۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد مساجد کے 5 روز میں اکاؤنٹس کھولے جائیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری سرکلر میں تمام بینک سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مساجد کے اکاؤنٹس کھلوانے میں امتیازی سلوک ختم کیا جائے اور این جی اوز، ٹرسٹ یا دیگر ضروری کوائف پورے ہونے کے بعد عبادت گاہوں کے بینک اکاؤنٹس کھولے جائیں۔
اس ضمن میں مرکزی بینک کے اینٹی منی لانڈرنگ، کومبیٹنگ دی فنانس آف ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ مطلوبہ دستاویزات پوری ہونے کے بعد 5 روز کے اندر مساجد کے بینک اکاؤنٹس کھولے جائیں۔
سرکلر میں مساجد کے ساتھ دینی مدارس کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ مساجد کے ساتھ مدارس ہوتے ہیں اور مدارس کے ساتھ مساجد اس لئے مساجد کے بینک اکاؤنٹس کھلوانے پر عائد غیر اعلانیہ پابندی ختم ہونے کا اطلاق مدارس پر بھی ہوسکے گا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مساجد کے بینک اکاؤنٹس نہ کھلوانا ملکی آبادی کی زیادہ سے زیادہ بینکاری میں شمولیت کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سخت پابندیوں اور مانیٹرنگ کی وجہ سے مساجد اور دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹ نہیں کھولے جارہے تھے جبکہ بیشتر مدارس، مساجد اور فلاحی اداروں کے بینک اکاؤنٹ بھی بند کئے گئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا ہے۔
اس ضمن میں 6 جنوری کو دینی مدارس کے رہنماؤں نے وزیراعظم شبہاز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں بینک اکاؤنٹس اور مدارس رجسٹریشن میں رکاوٹوں کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ملاقات میں وزیراعظم نے دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھلوانے پر غیراعلانیہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فیس بک کمینٹ

