علاقائی رنگلکھاری

آج مادری زبانوں کا عالمی دن : پنجابی پاکستان کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ۔۔ خصوصی رپورٹ‌

ملتان : دنیابھر کی طرح پاکستان میں بھی 21فروری کو مادری زبانوں کاعالمی دن منایاجا رہا ہے ۔اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں پہلے نمبرپرپنجابی،دوسرے نمبر پر پشتو اور تیسرے نمبر پر سندھی ہے ۔سرائیکی پاکستان کی چوتھی بڑی زبان ہے اور جن لوگوں کی مادری زبان اردو ہے وہ پانچویں نمبر پر ہیں۔1998ء کی مردم شماری اور اس کے بعد 2010ء تک حاصل کیے گئے اعداد وشمار میں بھی یہ ترتیب اسی طرح ہے۔اس وقت پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں اورلہجوں کی تعداد 150سے زیادہ ہے۔زبانوں کے حوالے سے اعدادوشمار دینے والی ویب سائٹwww.ethnologue.comنے پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد 77بتائی ہے ۔تاہم اس میں زبانوں کے مختلف لہجوں کو شامل نہیں کیا ۔لسانی ماہرین کاکہنا ہے کہ اگرچہ قومی زبان اردو مادری زبان کے طورپر پانچویں نمبرپر ہے لیکن یہ زبان ملک بھر میں سمجھی اوربولی جاتی ہے اوررابطے کی سب سے بڑی زبان ہے۔دوسری دوبڑی زبانیں جو ملک کے بیشتر علاقوں میں بولی اورسمجھی جاتی ہیں پشتو اورسرائیکی ہیں۔یہ دونوں زبانیں خیبر پختونخواہ ،بلوچستان،سندھ اورپنجاب میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔خیبر پختونخواہ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں اس وقت 31زبانیں بولی جاتی ہیں۔بلوچستان میں 11،سندھ میں 9،پنجاب میں 8، کشمیر میں 7 اور گلگت بلتستان میں 5زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ماہرلسانیات اور فلسفے کے استاد ڈاکٹر محمد امین نے کہاکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں زیادہ زبانیں بولے جانے کی وجہ وہاں کی جغرافیائی صورتحال بھی ہے۔یہ علاقے جغرافیائی طورپر افغانستان اورایران کے ساتھ منسلک ہیں اس لیے یہاں آبادی کی نقل مکانی زیادہ ہے۔پشاور سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند ادیب اورشاعر تاج امر نے اے پی پی کوبتایاکہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ زبانیں بولی اورسمجھی جاتی ہیں لیکن ان میں سے بعض زبانیں محض لہجے ہیں۔انہیں بولنے والے چند قبیلے ایک دو وادیوں یا علاقوں میں رہتے ہیں اوران کی تعداد بھی بہت قلیل ہے۔معروف دانشور اور صدارتی ایوارڈیافتہ شاعرشاکرحسین شاکر نے کہاکہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ ہماری سرکاری زبان انگریزی ہے جویہاں کسی کی مادری زبان ہی نہیں۔اردوکوقومی زبان کا درجہ دینے کیلئے کئی کوششیں ہوئیں لیکن افسوس کہ پاکستان بھر میں سمجھی جانے والی اس زبان کو اب مسلسل نظرانداز کیا جارہاہے۔اس زبان کے فروغ کیلئے کام کرنیو الے ادارے بھی مشکل کاشکارہیں اورانہیں ایک ایک کرکے ختم کیا جارہاہے ۔a

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker