علی نقویکالملکھاری

علی نقوی کا کالم : موٹیویشنل سپیکرز کے MOTIVES کیا ہیں‌؟

بچپن سے جن چیزوں نے متاثر کیا ان میں فٹ پاتھ پر رکھی کتابیں ایک تھیں، ملتان کے گول باغ سے ملحقہ کتابوں کی مارکیٹ میں سب سے دلچسپ دوکان اولڈ بکس کی ہوتی تھی، ایک زمانہ تھا کہ گول باغ کی کتابوں والی مارکیٹ میں ایک لائن سے دسیوں اولڈ بک شاپس ہوا کرتی تھیں آج شاید ایک آدھ دوکان بچ گئی ہے بیشتر دوکانیں حالات کے جبر اور ٹیکنالوجی نے بند کرا دیں اور کچھ عمرانی حکومت نے “ناجائز تجاوزات” کہہ کر گرا دی، جس پر ایک کالم تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا “گول باغ کی ناجائز اور بنی گالہ کی جائز تجاوزات” بچپن میں عمرو عیار، سامری جادو گر، اور اسی طرز کی دیومالائی کہانیاں اس قدر متاثر کرتی ہیں کہ بچہ اسی دنیا میں کھو جاتا ہے ذرا بڑے ہوئے تو کچھ اور کتابوں کے ٹائیٹلز نے متوجہ کرنا شروع کیا مثلا فنِ تقریر سیکھیے، تحریر خوشخط بنائیں، بولنے کے سو منفرد انداز، مثبت کیسے سوچا جائے، بڑے لوگوں کی دس خوبیاں، وہ عادات جو ہر کامیاب انسان میں ہوتی ہیں، کامیاب بزنس مین کیسے بنیں وغیرہ وغیرہ….. اس طرح کی کچھ کتابیں پڑھیں لیکن ایک نہ بھائی، بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ تو پورا ایک کام ہے ایک فیلڈ ہے کہ جس میں بڑے بڑے شہسوار کامیابی کے بڑے بڑے گھوڑوں پر چڑھ کر بڑی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور ایک دنیا ہے جو انکی مداح ہے آج سوچا کہ کیوں نہ اس سب پر تفصیل سے بات کی جائے…..
اگر آپ گوگل پر لفظ Motivation کا اردو ترجمہ دیکھنے کی کوشش کریں تو پہلے ہاتھ گوگل آپکو اس کا ترجمہ حوصلہ افزائی بتاتا ہے لیکن آکسفورڈ کی ڈکشنری آپکو ذرا تفصیل سے یہ بتاتی ہے کہ Motive کا مطلب مقصد ہے اور Motivation اس پورے عمل کا نام ہے کہ جو کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے عمل کا آغاز کرے، مسلسل اس عمل کی نگرانی کرے اور مقصد کے حصول تک فرد یا گروہ کی رہنمائی کرے…. مثال کے طور پر ایک بچہ جب اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع کرتا ہے تو اس کا حتمی مقصد کھڑے ہو کر چلنا اور ایسا چلنا ہے کہ جس میں گرنے کا احتمال نہ ہو اس کے لیے ماں باپ اور ارد گرد کے لوگ اسکی حوصلہ افزائی تو کرتے ہی ہیں ہر قدم پر اسکی مدد اور حمایت بھی کرتے ہیں اس کے راستے سے وہ تمام چیزیں ہٹاتے رہتے ہیں کہ جس سے الجھ کر وہ گر سکتا ہو، یہ ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے دوران بچے کی اگر مسلسل نگرانی، نگہبانی، حوصلہ افزائی اور رہنمائی نہ کی جائے تو بچہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گا اور اگر سیکھ بھی لے تو یا تو اس میں بہت وقت درکار ہو گا ورنہ اس کے چلنے میں کوئی نہ کوئی سقم باقی رہ جائے گا لہٰذا ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف حوصلہ افزائی ہی کافی نہیں ہے راستہ دکھانا، اس راستے سے ممکنہ مشکلات کا دور کرنا اور مسلسل نگہبانی اور رہنمائی ہی کسی مقصد کے کامیاب حصول کے بنیادی عناصر ہیں….
ماہرین نفسیات کی نظر میں ہر انسان ایک منفرد اکائی ہے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایک ایسا کلیہ ایجاد کر لیا جائے کہ جو ہر انسان یا انسانوں کی بہت بڑی جماعت کے لیے یکساں نتائج کا حامل ہو، کامیابی کا ایسا کوئی کلیہ نہیں کہ جس کو اپنا کر بہت سے انسان ایک جیسی کامیابی حاصل کر سکتے ہوں کلیہ چھوڑیں جسمانی ورزش کہ جو ایک طریقے سے کی جاتی ہے جس میں انسان کو مشین کی مدد حاصل ہوتی ہے وہ ہر فرد کے لیے ایک جیسے نتائج کی حامل نہیں ہوتی، پینا ڈول کی گولی کہ جس کی ایک متعین و معین ساخت ہے وہ ہر دو انسانوں پر ایک جیسا اثر نہیں چھوڑتی چہ جائیکہ کوئی کلیہ ہو جو ہر ایک فرد کو ایک جیسی کامیابی دلا سکے…
میں نے انٹرنیشنل موٹیویشنل سپیکرز سے لے کر پاکستان کے موٹیویشنل سپیکرز تک کافی لوگوں کو سنا ایک بنیادی فرق جو محسوس ہوا وہ یہ تھا کہ کم از کم انٹرنیشنل سپیکرز کو بات کرنے کا ایک ڈھنگ ضرور آتا ہے کہ وہ بات کو لائٹ کر دیتے ہیں آپ کو بات سننے میں دلچسپی ضرور پیدا ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ جو مشقیں بتائی جاتی ہیں ان میں سے اسی فیصد نا قابلِ عمل ہوتی ہیں لیکن بات اس لائٹ موڈ میں کی جاتی ہے کہ سننے والے کو کم از کم مزہ ضرور آتا ہے لیکن پاکستانی موٹیویشنل سپیکرز کی تو بات سننا بھی کسی ذہنی اذیت سے کم نہیں ہے.. میرے اپنے بقول ان میں سے بیشتر تنی ہوئی اردو بولتے ہیں ۔ تنی ہوئی اردو وہ ہوتی ہے جو انگریزی میں بولی جائے اس پر ستم یہ کہ ان لوگوں کی انگریزی بھی اتنی ہی قبیح ہے جتنی انکی اردو۔
ایک مشہور و معروف موٹیویشنل سپیکر ہیں ان کے بارے میں ہمارے ایک دوست نے کہا تھا کہ جب یہ بولتا ہے تو لگتا ہے کہ اس نے منہ میں چھالیہ کا گولہ رکھا ہوا ہے، ایک کے بارے میں ایک اور دوست نے کہا تھا کہ کمال ہے ان لوگوں کا کہ جو رومن سرائیکی کے لیکچر سے موٹیویٹ ہو جاتے ہیں، ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کسی خوشحال گھرانے میں پیدا نہیں ہوا، ان میں سے تقریباً ہر ایک نے بکریاں چرائی ہیں، گھاس کاٹی ہے، سٹریٹ لائٹس میں بیٹھ کر پڑھائی کی ہے، ماں باپ کی بے پناہ خدمت اور بہن بھائیوں کی کفالت کی ہے مجال ہے کہ پاکستانی موٹیویشنل سپیکر ہو اور کسی ایسے گھرانے میں پیدا ہو گیا ہو کہ جہاں دو وقت کی روٹی تھی تا وقتیکہ وہ بڑا ہوا قوم کے بچوں کی تقدیر سنوارتے سنوارتے وہ خود ایک کروڑ پتی بن گیا…. ہر موٹیویشنل سپیکر کی گھٹناؤں سے بھری داستان میں اچھے دن تب سے شروع ہوتے ہیں جب اس نے اپنے اندر سے آنے والی اسُ آواز کو سنا ہوتا کہ جو اسکے رب کی طرف سے آ رہی ہوتی ہے، زندگی کی فلاح کا راستہ اس دن واضح نظر آیا تھا کہ جب اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کسی آنکھوں سے معذ ور بزرگ کو سڑک پار کرانے کے لیے اس کا ہاتھ تھاما تھا، زندگی کا راستہ اس دن متعین ہوا تھا کہ جب اس نے کوئی کام شروع کیا اور لوگوں نے کہا کہ یہ تو تم کبھی نہیں کر سکتے، زندگی میں پہلی بار دلی سکون اس وقت محسوس ہوا تھا کہ جب کسی سڑک کنارے بے سدھ پڑے فقیر کو اپنے حصے کا کھانا دیا اور خود کو بھوک محسوس ہونا بند ہو گئی تھی (یہ اور بات ہے کہ جب سے پیٹ بھر کھانا میسر ہوا تب سے یہ دلی سکون دوبارہ محسوس کرنا حضرت نے گوارا نہیں کیا) اور یہ واقعات سن کر حاضرین کی آنکھیں بھر آئیں اور انہیں لگا کہ جو تین ہزار روپے ادا کر کے وہ اس موٹیویشنل سپیکر کو سننے کے لیے اس فائیو سٹار ہوٹل آئے تھے وہ پورے سے زیادہ ہوگئے…
میرے نز دیک اس موٹیویشنل سپیکنگ کی ٹیکنیک کو جس اچھے طریقے سے ہمارے مولویوں اور سیاستدانوں نے سمجھا اور اسکا اطلاق کیا ہے وہ کسی نے نہیں کیا، میری رائے میں پاکستان کے سب سے بڑے موٹیویشنل سپیکر ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان ہیں یہ وہ موٹیویشنل سپیکر ہیں کہ جن کی تقریریں ہم سب کو زبردستی سنوائی گئیں نہ صرف خود بلکہ موٹیویشنل سپیکرز کی ایک فہرست ہے کہ جس نے قوم کو ان کو ووٹ ڈالنے اور قوم کا واحد مسیحا مان لینے کے لیے دن رات موٹیویٹ کیا اور لوگوں کو بتایا کہ اگر اس کو منتخب نہ کیا تو اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا خان صاحب خود اور یہ تمام موٹیویشنل سپیکرز یہی بتاتے رہے کہ جب خان نے کرکٹ کھیلنی شروع کی تو لوگوں نے کہا کہ تم کبھی فاسٹ باؤلر نہیں بن سکتے وہ بن گئے، پھر لوگوں نے کہا کہ تم کبھی آل راونڈر نہیں بن سکتے، خان صاحب وہ بھی بن گئے، پھر کہا کہ کپتان نہیں بن سکتے، آپ وہ بھی بن گئے، پھر خان صاحب نے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھا تو لوگوں نے کہا کہ نہیں ہو سکتا، وہ بھی ہو گیا، شوکت خانم ہسپتال بنانے نکلے، توکہا گیا کہ دنیا میں کوئی کینسر ہسپتال ہے ہی نہیں، وہ بن گیا، سیاسی جماعت بنائی، تو کہا کہ تم کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتے، وہ بن گئے، یہ سب سن سن کر قوم کے بچے بڑے اور بڑے سے ادھیڑ عمر ہوگئے لیکن آج تک ان لوگوں میں سے کسی ایک کا نام پتہ نہ چل سکا کہ جن لوگوں نے قدم قدم پر خان صاحب کی حوصلہ شکنی کی تھی…. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ہر ہر کامیابی کے پیچھے ان لوگوں کا واضح ہاتھ رہا کہ جو اس ملک کے لوگوں کی مایوسی کی اصل وجہ ہیں…..
مولانا طارق جمیل صاحب اس ملک کے کروڑوں لوگوں کے آئیڈیل ہیں کبھی انکی انکے ماضی کے حوالے سے گفتگو اگر آپ سنیں تو یہ واضح ہے کہ وہ ایک دنیا دار انسان تھے لیکن اندر کی آواز نے کایا کلپ کر دی اور ایسی کایا کلپ ہوئی کہ وزیراعظم ہاؤس میں جو بھی بیٹھا ہو وہ آپکا محتاجِ دعا رہتا ہے وزیراعظم ہاؤس تو پھر پاکستان میں ہے عامر خان جیسا سپر سٹار کہ جس کا نام ہی کسی فلم کے سپر ہٹ ہونے کی گارنٹی ہے آپ سے اپنی فلم کے ہٹ ہونے کے لیے دعا کی التجائیں کرتا ہے، وینا ملک اور اس کے شوہر جیسے لوگ بھی آپ کے لائیو شو میں کئے گئے حکم پر اپنی طلاق واپس لے لیتے ہیں، آپکی شہرت کا عالم یہ ہے کہ آپ ہی باجوہ صاحب کی شجاعت، عمران خان دیانت اور میاں نواز شریف کی شرافت کے ایک ہی وقت میں امین بھی ہیں اور ضامن بھی، مجھے ایک کامیاب بزنس مین نے کہا کہ یہ ناچ گانے کے پروگرام چھوڑو مولانا طارق جمیل کا بیان رکھواؤ میں تم پر پیسوں کی بارش کر دوں گا، اسی طرح ایک بار ہم ایک فیسٹیول کے لیے سپانسرز تلاش کر رہے تھے تو ایک انتہائی روشن خیال دوست جو کہنے کو مارکسسٹ ہیں مجھے مشورہ دینے لگے کہ مولانا طارق جمیل کو بلا لو پھر دیکھو کیسے پیسے آتے ہیں….. اسی طرح اگر آپ دیکھیں تو حیران ہوں گے کہ مولانا فضل الرحمن کس سطح کی موٹیویشن ہیں کہ اسمبلی میں ان کی چار نشستیں نہیں ہیں لیکن پچاس پچاس سے زیادہ نشستوں والی جماعتوں نے انہیں اپنے حکومت مخالف اتحاد کا سربراہ مقرر کیا ہے اور انکے ایک اشارے پر اسمبلی سے استعفیٰ دینے پر بھی راضی ہیں، مولانا خادم حسین رضوی سے بڑا موٹیویشنل سپیکر کوئی کیا ہوگا کہ آپ اٹھے اور ایک جماعت کی بنیاد بیچ چوک میں رکھی کُل جہان کو گالی دی اور اپنے پہلے ہی الیکشن میں پاکستان کی پانچویں بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اپنا لوہا لوہے کی کرسی پر بیٹھے بیٹھے منوا لیا وہ اور بات ہے کہ چھیالیس لاکھ ووٹ لے کر بھی قومی اسمبلی میں آپ کی ایک بھی نشست نہیں ہے لیکن جس طرح سے آپ نے اپنے مداحین کو موٹیویٹ کیا وہ موٹیویشنل سپیکنگ کی دنیا کا ایک روشن باب ہے…..
ایک بار مجھے ایک این جی او کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا مجھے وہاں سات منٹ کی بات بھی کرنا تھی مجھ سے پہلے جتنے سپیکرز تھے وہ بچوں کو اپنی “سکسیس سٹوریز” سنا رہے تھے کہ کیسے وہ اس مقام تک پہنچے اور اس کے لیے انہوں نے کیا کیا جتن کیے کس کس نے کس کس طرح انکی راہ میں روڑے اٹکائے، میں سنُ سنُ کر پریشان ہوتا رہا کہ میں کیا کہوں گا کیونکہ میرے پاس کو سنانے کو کوئی سکسیس سٹوری نہیں ہے؟؟ میری باری آئی تو میں نے جاتے ساتھ یہ اعتراف کیا کہ میری زندگی کی پہلی سکسیس یہ ہوگی کہ میں اپنی بات سات منٹ میں ختم کر لوں اور اس اختصار کی وجہ یہی ہو گی کہ میرے پاس آپ کو سنانے کو کوئی سکسیس سٹوری نہیں ہے میرے پاس آپ کو بتانے کو دو باتیں ہیں ایک کہ کسی کی سکسیس سٹوری آپ کے کسی کام کی نہیں ہے کیونکہ آپ وہ شخص نہیں ہیں، اور دوسری بات ہر شخص کی کامیابی کی تشریح نہ صرف یہ کہ دوسرے سے مختلف ہوتی بلکہ کئی بار متصادم بھی ہوتی ہے…. مثال کے طور پر کسی کے لیے کامیابی روپے پیسے کا حصول ہے تو کسی کے لیے کامیابی اچھی تربیت یافتہ اولاد ہے، کسی کے لیے کامیابی بڑا عہدہ ہے تو کسی کے لیے حصول علم ہے لیکن چونکہ ہمارے معاشروں نے ہمارے دماغ میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ کامیاب ہونے کی شرح آپکا بینک بیلنس طے کرے گا تو اسی لیے تمام موٹیویشنل سپیکرز ہمیں پیسے کمانے کے شاٹ کٹ تجویز کرتے ہیں، ایک بار کسی یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے مجھ سے رابطہ کیا کہ فلاں موٹیویشنل سپیکر بلوا دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کتنے پیسے لیں گے؟؟ مجھے پہلے تو ہنسی آئی کہ کیا زمانہ ہے حوصلہ افزائی کرانے کے لیے اب لوگ پیسے بھرنے کو تیار ہیں معلوم کیا تو پتہ چلا کہ چونکہ اب وہ ایک فرد نہیں بلکہ لاہور کی ایک فاونڈیشن ہیں اس لیے شہر سے باہر جانے کا ریٹ چھ لاکھ روپے ہوگا وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ نواح میں ایک اور لیکچر کا بندوبست کیا جائے ورنہ دس لاکھ….. میں نے اس بچوں کے گروپ کو جب یہ بتایا تو وہ بہت مایوس ہوئے میں نے ان میں سے ایک بچی سے پوچھا کہ آپ کے ابا کیا کرتے ہیں؟ بولی کہ بینک میں کیشئیر ہیں، میں نے پوچھا کہ گھر سے کس وقت نکلتے ہیں کہنے لگی آٹھ بجے اور واپسی کا کوئی ٹائم نہیں بہرحال اندھیرے سے پہلے گھر مشکل ہی آ پاتے ہیں، میں نے اس بچی سے پوچھا کہ آپکو کبھی آپ کے ابا سے موٹیویشن نہیں ملی؟؟ کہنے لگی انکے پاس بات کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا، میں نے پھر پوچھا کہ کیا آپ اس بات سے موٹیویٹ نہیں ہوتیں کہ وہ دن کے بارہ گھنٹے صرف کام پر ہوتے ہیں اور اسکے بعد وہ تمام ذمہ داریاں بھی پوری کرتے ہیں جو ان پر عائد ہوتی ہیں؟ کیا کبھی انکے ورم آلود پاؤں آپ کو موٹیوٹ نہیں کرتے؟؟ بچی تھوڑی سی تذبذب کا شکار ہوئی اور کہنے لگی نہیں اس پر میں نے اسکو کہا کہ اگر آپ کا بارہ گھنٹے کام کرتا باپ، اس کے ورم زرہ پاؤں، ہر روز کی میلی شرٹ، تھکن سے چوُر بدن موٹیوٹ نہیں کر پاتا تو ایک ایسا آدمی کہ جس کی کسی بات میں شاید ہی کوئی صداقت ہو آپکو کیسے موٹیوٹ کر سکتا ہے؟؟ وہ کامیابی کا کون سا گُر ہے کہ جو آپ کو چھ لاکھ روپے لے کر بتایا جانے والا ہے، اگر وہ ان باتوں پر عمل کر کے خود کامیاب ہوا تو وہ باتیں آپ کو بتانے کے لیے اس کو چھ لاکھ کیوں درکار ہیں؟؟ ظاہر ہے ان باتوں کا اس بچی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن ہوا یہ کہ وہ موٹیویشنل سپیکر اس یونیورسٹی میں آئے جہاں کامیابی کے گُروں کی گٹھڑی سے اور بھی بہت کچھ برآمد ہوا وہیں فرمانے لگے کہ جب دل پریشان ہو جائے تو دل پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو پکارا کیجیے اور آیت الکرسی کی تلاوت شروع کر دیا کیجیے ایک بچے نے ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ میں عیسائی ہوں میں کیا کروں اس پر وہ ناراض ہوگئے اور پھر نہ آنے کا عہد کر کے وہاں سے نکل لیے… میں نے ان بچوں سے پوچھا کہ ہاں بھئی سناؤ مزہ آیا چھ لاکھ کی موٹیویشن کا لیکن میں نے دیکھا کہ اس سال وہی موٹیویشنل سپیکر رمضان ٹرانسمیشن پاکستان کی ٹاپ فلم اداکارہ کے ساتھ لوگوں کو رمضان کی برکات سے آگاہ فرما رہے تھے….
یہ سب کیوں ہوتا ہے ہمارے لوگ کیوں اس طرح کی شعبدہ بازیوں سے متاثر ہوتے ہیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت مجموعی یہ لگتا ہے کہ کوئی مسیحا آئے گا ہم سے کچھ باتیں کرے گا اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ہم بالی وڈ کی فلم سے باہر نہیں آ پاتے کہ جس کے آخر میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے جس کا ہیرو وہ ہوتا ہے کہ جو سب جانتا ہے جیسے ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ قبائلیوں اور مغرب دونوں کو جتنا وہ جانتے ہیں کوئی نہیں جانتا، شیریں مزاری سے پوچھا گیا کہ اب تو خان صاحب کی حکومت ہے آپ PSL کو اب کیسے دیکھتی ہیں؟؟ تو انہوں نے فرمایا کہ خان صاحب اتنے انسپائرنگ ہیں کہ ہماری کرکٹ اب سوائے ترقی کے کچھ نہیں کرے گی….
آخر میں صرف اتنا کہ قوموں کو اگر آپ Motivate کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ان کے لیے Motive پیدا کریں ہم وہ بد قسمت قوم ہیں کہ جن پاس جینے کا مقصد ہی نہیں ہے ہم خلا میں قلعے تعمیر کرنے کے شوقین وہ تماش بین ہیں کہ جو ہر طرح کی “خلائی مخلوق” کی بیعت کرنے میں ذرا سی بھی تاخیر نہیں کرتے لیکن وہ لوگ کہ جو زندگی جدوجہد سے تعبیر کرتے ہوں، جو نام و نمود، عہدہ و اقتدار سے مبرا ہوں، ہم ان کی بات تک سننا گوارا نہیں کرتے، ایک مثال اور اجازت اس ملک میں آپ کسی سے بھی ایدھی صاحب کے متعلق رائے مانگیے وہ انکو دیوتا ثابت کر دے گا لیکن ان کی زندگی کو دیکھ کر کتنے لوگ موٹیویٹ ہوئے آپکو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے انکی زندگی میں کتنی یونیورسٹیوں نے انہیں اپنے طالب علموں سے بات کرنے انکو انسپائر کرنے کے لیے دعوت دی مجھے نہیں معلوم لیکن لگتا یہی ہے کہ ایسا نہیں ہوا کیونکہ اگر ہماری یونیورسٹیوں نے بچوں کو ایدھی سے متعارف کرایا ہوتا تو اس معاشرے میں کہیں نہ کہیں انسانیت ضرور نظر آتی لیکن ہم کیا کریں کہ ہمارے تعلیمی ، سیکورٹی یہاں تک کہ سول سروس اکیڈمیز کے لوگوں کو لیکچر دینے کے لیے طالبان کے ایجنٹ بلائے جاتے ہیں اسی لیے یہ معاشرہ انسانیت کا نہیں اوریانیت کا شکار ہوتا جا رہا ہے ….

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker