مملکت پاکستان کے نئے ’ہیرو‘ مفتی منیب الرحمان نے حکومتی وزرا اور میڈیا سمیت ان تمام عناصر کو جھوٹا، نادان دوست اور کم ہمت قرار دیا ہے جو ملک میں رواداری، باہم احترام اور سب کے لئے مذہبی آزادی کے داعی ہیں۔ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان ایک ’خفیہ معاہدہ‘ کروانے کے بعد کراچی پہنچنے پر مفتی صاحب کی تند و تیز مگر بالواسطہ تنقید کا ہدف وزیر اطلاعات فواد چوہدری تھے جو کسی حد تک مذہبی انتہاپسندی کے خلاف بات کرتے ہیں۔ مفتی صاحب کا براہ راست ہدف ’لبرل عناصر‘ تھے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے دشمن ہیں کیوں کہ وہ ریاستی رٹ کی بات کرتے ہیں۔
اس میڈیا شو میں البتہ مفتی منیب الرحمان کا سب سے دھماکہ خیز بیان یہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان پر یہ بہتان باندھا جاتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکال دیا جائے، فرانس کا سفارت خانہ بند کیا جائے یا یورپین یونین سے تعلقات ختم کرلئے جائیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سرکاری نمائیندے ٹی وی پر آکر ٹی ایل پی کے بارے میں جھوٹ بولتے رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ بار بار دھوکا ہؤا تھا، اس لئے وہ کسی پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اسی لئے انہیں کراچی سے اسلام آباد جاکر اور پھر وزیر آباد پہنچ کی اعتماد کی فضا پیدا کرنا پڑی۔ بالآخر ایک ایسا معاہدہ ہوگیا جس پر سو فیصد عمل درآمد ہوگا کیوں کہ اس کی نگرانی کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے اور اس نے کام شروع کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جی ٹی روڈ کھول دی گئی ہے۔ احتجاجی ایک علیحدہ پارک میں منتقل ہوگئے ہیں اور جلد ہی ، وہ وہاں سے بھی اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔
حیرت انگیز طور پر مفتی منیب الرحمان نے جو طویل عرصہ تک مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیر مین بھی رہے ہیں، اس طویل اور قرانی حوالوں سے لبریز گفتگو میں یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اگر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے بارے میں ٹی ایل پی پر بہتان باندھا جاتا رہا ہے اور وزیر اور سرکاری نمائیندے ٹیلی ویژن پر اس بارے میں جھوٹ بولتے رہے ہیں اور ’غیر پیشہ ور میڈیا‘ نے بھی مناسب تحقیق کرکے ’اصل خبر‘ عوام تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی تو حقیقت کیا ہے؟ وہ کون سا مطالبہ تھا جس کے لئے تحریک لبیک کے کارکنوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران لاہور سے لے کر اسلام آباد تک زندگی معطل کئے رکھی اور ان کے احتجاج اور غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے 8 پولیس افسر بھی جاں بحق ہوئے۔ اگر یہ مظاہرین فرانسیسی سفیر کی واپسی کا مطالبہ نہیں کررہے تھے تو گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے معاہدہ پر عمل درآمد کی باتیں کیوں کی جاتی رہی ہیں اور اس معاملہ میں شدت اور کج روی کا مظاہرہ کیوں دیکھنے میں آتا رہاہے۔
مفتی منیب الرحمان زیرک اور معاملہ فہم آدمی ہیں تاہم انہیں وفاقی وزرا، میڈیا اور ملک کے تمام ہوشمند لوگوں کو ایک ہی سانس میں تختہ مشق بنانے سے پہلے خود اپنی الجھن کو دور کرلینا چاہئے تھا۔ ان کی تازہ گفتگو سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے کبھی فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ وفاقی وزرا اس حوالے سے ٹیلی ویژن پر جھوٹ بولتے رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے جب دوسروں کے ’جھوٹ ‘ کا پردہ فاش کرنے کا تہیہ کرلیا ہے تو انہیں جاننا چاہئے کہ یہ کام صرف الزام تراشی اور گول مول باتیں کرکے نہیں ہوسکتا بلکہ یہ بتانا پڑے گا کہ پھر تحریک لبیک کا اصل مطالبہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہ آمادہ فساد رہے ہیں؟ یہ عین ممکن ہے کہ حکومت اور بالواسطہ طور سے پاک فوج کے ساتھ ہونے والی ’انڈر اسٹینڈنگ ‘ میں مفتی منیب نے یہ ضمانت فراہم کی ہو کہ اگر ٹی ایل پی پر سے پابندی اٹھا لی جائے، اس کے لیڈر سعد رضوی سمیت دیگر تمام رہنماؤں و کارکنوں کو رہا کردیا جائے اور انہیں دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں تو تحریک لبیک نومبر 2020 کے معاہدے سے دست بردار ہوجائے گی۔ اگر یہ وعدہ کیا گیا ہے اور اگر ٹی ایل پی کے لیڈر براہ راست اس بارے میں بات کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں تو مفتی صاحب ہی کو صورت حال کی وضاحت کردینی چاہئے تھی۔ سیاسی لین دین میں کسی مؤقف سے دست بردار ہونا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاست کرتے ہوئے دین کا نام استعمال کیا جاتا ہے اور لوگوں کے مذہبی جذبات ابھارے جاتے ہیں۔
16نومبر 2020 کو ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان ہونے والا معاہدہ چار نکات پر مشتمل تھا۔ 1)حکومت فرانس کے سفیر کو پارلیمنٹ میں فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدرکرے گی۔ 2)حکومت اپنا سفیر فرانس میں تعینات نہیں کرے گی۔ 3)فرانس کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ 4)تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گااور احتجاج کے حوالے سے کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا۔ اس معاہدہ پر تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے اس وقت کے وزیر داخلہ برگیڈئیر اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور کمشنر اسلام آباد کے دستخط ہیں جبکہ تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر محمد شفیق امینی، سید عنایت الحق شاہ اور علامہ غلام عباس فیضی کے دستخط ہیں۔ جیسا کہ اس معاہدہ کے متن میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں فرانس کے بائیکاٹ اور اس کے سفیر کی ملک بدری اہم ترین بلکہ واحد مطالبہ کے طور پر موجود ہے۔ ٹی ایل پی نے اس کے بعد جتنے بھی احتجاج کئے ہیں وہ اسی ایک معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے تھے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے نئے معاہدوں کی صورت میں پرانے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے کسی بھی طرح احتجاج، لانگ مارچ یا دھرنا ختم کروانے کی کوشش کی۔ جب ٹی ایل پی کسی بھی طرح مناسب رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی تو اس سال کے شروع میں پہلے سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا اور پھر شرپسندی روکنے کے لئے ٹی ایل پی پر پابندی لگادی گئی۔
مفتی منیب الرحمان نے اگر اپنی علمی وسعت اور تعلقات کی بنیاد پر ٹی ایل پی کے قائدین کو متوازن رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا ہے اور حکومت اس کے بدلے میں گرفتار لوگوں کی رہائی اور تنظیم پر سے پابندی اٹھانے جیسے معاملات پر متفق ہوگئی ہے تو یہ ایک خوش آئیند بات ہے۔ نہ اس معاہدہ کو خفیہ رکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مفتی صاحب اور تحریک لبیک میں ان کے ممدوحین کو شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود جب معاہدہ کو خفیہ رکھنے پر اصرار کیا جاتا ہے اور اب باالواسطہ طور سے بعض ایسے لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جن سے مفتی منیب الرحمان کی ذاتی پرخاش ہے، تو یہ بھی کوئی دیانتدارانہ یا قرآن کا بتایا ہؤا طریقہ نہیں ہے۔ مفتی صاحب کو بالواسطہ گفتگو کی بجائے دوٹوک اور شفاف الفاظ میں بات کرتے ہوئے اپنی اور ٹی ایل پی کی پوزیشن واضح کرنی چاہئے تھی تاکہ قوم ایک فساد ختم کر وانے کے لئے مفتی صاحب کی محنت کو تسلیم کرتی اور ان کا احسان مانتی۔ مذہبی شدت پسندی ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے لئے نقصان دہ ہے اور کوئی بھی گروہ تشدد ، ہٹ دھرمی اور ماردھاڑ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے قانون پسند اور حب الوطن ہونے کا دعوے دار نہیں ہوسکتا۔
مفتی منیب الرحمان نے بریلوی مسلک کے علما کے ہمراہ اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی لیکن بات چیت سے پہلے اس موقع پر موجود وزیر اعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی کو اس اجلاس سے جانے کے لئے کہا گیا ۔ راست گوئی کے دعویدار مفتی منیب الرحمان کو یہ بتانا چاہئے کہ اس شرط کی کیا وجہ تھی؟ کیا علامہ اشرفی کو صرف ان کے مسلک کی وجہ سے گفتگو میں شامل کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ اگر یہی عذر تھا تو مفتی صاحب خود ہی بتائیں کہ ایسے فرقہ پسندانہ رویہ کا اظہار کس حد تک قومی یک جہتی پیدا کرسکتا ہے اور ریاست کیسے ایک اکائی کے طور پر کام کرے گی؟ اسی طرح وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو اجلاس میں شریک ہونے سے منع کیا گیا۔ آج مفتی منیب کی نکتہ چینی کا ہدف بالواسطہ طور سے فواد چوہدری ہی تھے کیوں کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف کھل کر بات کرتے ہیں۔ مفتی صاحب جب رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین تھے تو فواد چوہدری کے سائینسی مؤقف ہی کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان الزام تراشی کا تبادلہ ہؤا تھا۔ اسی کے نتیجہ میں مفتی منیب کو اس چئیرمین شپ سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔ کیا مفتی منیب الرحمان یہ ناکامی بھول چکے ہیں یا انہوں نے اب موقع ملنے پر فواد چوہدری کے ساتھ حساب برابر کیاہے؟مفتی منیب الرحمان نے حکومت اور ٹی ایل پی کے معاہدے میں اپنے کردار، مشقت اور جہد مسلسل کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ یہ بھی بتادیتے کہ اس معاہدہ کے لئے شروع کی جانے والی کاوش سے پہلے وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کیوں اور کس حیثیت میں ملنے گئے تھے۔ مفتی صاحب باخبر انسان ہیں اور خوب جانتے ہوں گے کہ اس ملاقات کی تصویر اس وقت سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کررہی ہے اور ریاست پاکستان میں حکمرانی کے معاملہ میں فوج کا کردار موضوع بحث بنا ہؤا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مفتی منیب الرحمان جیسے ذہین اور ’غیر جانبدار‘ اللہ لوک کو ایک نیک کام سے پہلے فوج کے سربراہ سے ملنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
مفتی منیب الرحمان کو طویل خطبہ دینے کی بجائے چند سوالوں کے دو ٹوک اور کھرے جواب دینے چاہئیں تاکہ لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ سبھی اپنی ضرورت کے مطابق جھوٹ بول لیتے ہیں۔ بلکہ کوئی کوئی مفتی منیب الرحمان جیسا ’مخلص اور دیانت دار ‘ بھی ہوتا ہے۔ تاہم یہ ماننے کے لئے مفتی صاحب کے جوابات کا انتظار رہے گا۔
( کاروان ۔۔ ناروے )

