اہم خبریں

اکتوبر میں مہنگائی کی شرح رواں سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اسلام آباد: صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اکتوبر میں بھی جاری رہا اور روپے کی قدر میں تنزلی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے زیر اثر مہنگائی ستمبر کی 9 فیصد سے بڑھ کر 9.2 فیصد تک پہنچ گئی۔پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) سے پیمائش کردہ مہنگائی 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی، یہ وہ عرصہ ہے کہ جب تیل کی عالمی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے پہلے سے فوائد کمزور ہوگئے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ ہی بڑے شہری مراکز میں تازہ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔رواں برس جولائی سے اکتوبر کے دوران مہنگائی سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر اوسطاً 8.74 فیصد ہوگئی۔
اپریل میں 11.1 فیصد تک بڑھنے کے بعد مہنگائی میں کمی آنا شروع ہوئی تھی، جس کی بنیادی وجہ زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تھی، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ رجحان تبدیل ہونا شروع ہوا۔سال 21-2020 میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی افراطِ زر گزشتہ سال کی 10.74 فیصد کے مقابلے میں 8.90 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اشیائے خورونوش کی مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے ، اکتوبر کے دوران شہری علاقوں میں اس مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 1.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر 7.2 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 2.6 فیصد رہا۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر کے دوران شہری علاقوں میں اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ کی نسبت اضافہ ہوا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker