کیا قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کوسیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے ؟ یہ سوال عمومی طورپر پاکستان کے آزاد خیال طبقہ فکر کی جانب سے حالیہ برسوں میں اٹھایا جاتارہاہے۔ اس ضمن میں قائد اعظم محمد علی جناح کی 11اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کابارہا حوالہ دیا جاتارہاہے۔ متعدد دانشوروں کے خیال میں محمد علی جناح ایک آزاد خیال جمہوریت کے خواہاں تھے۔ اگرچہ نے انہوں نے کبھی سیکولر ریاست کی اصطلاح کا استعمال نہیں کیا۔
ان لوگوں کاخیال ہے کہ جناح کے بعد پاکستان کے حکمران، علماءاور بنیاد پرستوں کے دباؤمیں آکر پاکستان کواسلامی جمہوریہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ معروف دانشور، محقق اور پولیٹیکل سائنٹسٹ ڈاکٹر اشتیاق احمد اس کہانی کوبلاتامل رد کرتے ہیں۔اپنی تصنیف JINNAH: HIS SUCCESSES, FAILURES AND ROLE IN HISTORY(جناح : کامیابیاں، ناکامیاں اور تاریخ میں کردار) میں اشتیاق احمد نے جناح کے حوالے سے منسوب من گھڑت قیاس آرائیوں کویکسر لغو قراردیا ہے۔ اپنی تحقیق میں ڈاکٹر صاحب نے جناح کی زندگی کومتعدد ادوار میں تقسیم کرکے ان کی (جناح کی)ذات اور شخصیت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔جناح نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک انڈین قوم پرست کے طور پر کیا اور میثاق لکھنؤ اس حوالے سے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ وقت تھا جب جناح کوہندومسلم اتحاد کاسفیر کہا جانے لگا۔
اشیتاق احمد کا خیال ہے کہ کیونکہ جناح کا تعلق امیر طبقہ سے تھا اس لیے وہ گلی محلہ کی سیاست کے مخالفین میں سے تھے۔ اپنی تصنیف میں ڈاکٹر اشتیاق اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ جب گاندھی نے عوامی سطح پر احتجاجی تحریک کی حکمت عملی اپنانے کامشورہ دیا تو یہاں سے جناح کے کانگریس سے اختلافات شرو ع ہوئے۔1920 میں ناگ پور میں کانگریس کے ایک اجلاس کے دوران شرکاءنے اس وقت محمد علی جناح پر آوازیں کسنا شروع کردیں جب انہوں نے گاندھی کے نام کے ساتھ مہاتما کالفظ استعمال کرنے سے انکار کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب جناح کانگریس سے علیحدہ ہوئے اور مسلم برادری کے لیے کسی بہتر ڈیل کی کوششوں پرغور کرنا شروع کیا یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نہرو رپورٹ بناتے وقت جناح کو نظرانداز کردیاگیاتھا اور 1930ءمیں جناح بددل ہو کر لندن روانہ ہوگئے۔
مسلم لیگ کے رہنماؤں کے اصرار پر ان کی واپسی 1934ءمیں ہوئی اور پھران کوہندوستان کے مسلمانوں کاواحد ترجمان (Sole Spokeman)کہا جانے لگا۔
1937ءکے انتخابات کے بعد جب کانگریس نے مسلم لیگ کواتر پردیش کی حکومت میں شامل کرنے سے انکار کیا تو یہی وہ لمحہ تھا جب جناح نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کے طورپر پیش کرنے کا فیصلہ کیا اس سے پہلے وہ مسلم اقلیت کے حقوق کی بات کرتے رہے۔ 1940ءتک دوقومی نظریئے کے خدوخال اور مسلم اکثریت کے علاقوں کی منصوبہ بندی جناح کے ذہن میں وا ضح ہوچکی تھی۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد کی مندرجہ بالا کتاب کی اشاعت کے بعد جہاں تقسیم ہندوستان کے متعلق قائم بہت سے مفروضوں کے لیے تاریخ میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔وہیں ڈاکٹر عائشہ جلال کا کہنا کہ جناح ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے ،تاریخی حوالوں سے بالکل ثابت نہیں ہوتا۔اپنی کتاب میں اشتیاق نے مستند تاریخی حوالوں سے واضح کیا کہ کس طرح سے 30کی دہائی کے اواخر میں جناح نے ذہنی یکسوئی کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر ہندوستان کی تقسیم کی کوششیں کیں۔ اگرچہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جناح نے کیبنٹ مشن پلان کوبھی قبول کرلیاتھا۔اصل میں یہ وہ وقت تھا جب جناح کواحساس ہوگیاتھا کہ انگریز جلد بازی میں کسی بھی وقت ہندوستان سے روانہ ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد نے اپنی کتاب میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرجناح کوپاکستان کے قیام کے بعد مزید وقت بھی مل جاتا، توبھی پاکستان میں سیکولر جمہوریت کے قیام کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اشتیاق احمد کی کتاب (جناح کامیابیاں، ناکامیاں اور تاریخ میں کردار)تحریک پاکستان میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہ صرف مفید ہوگی بلکہ تاریخ کے طلبہ کے لیے قیام پاکستان اور پاکستان کے آئینی سفر سے جڑی بہت سی غلط فہمیوں کو حل کرنے میں بھی بہت کارآمد ہوگی۔ یہی نہیں جناح کی شخصیت اور پاکستان کی جدوجہد کوسمجھنے اور نئے زاویہ سے مستقبل کی راہوں کا تعین کرنے کے لیے بھی یہ کتاب نوجوانوں کے لیے بہت مددگارہے۔ تحریک پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں نئی تحقیق اور اس سے منسلک نایاب دستاویزات سے آراستہ یہ کتاب اب پاکستان میں بھی دستیاب ہے اور بک مارک بک کلب (BOOKMARK BOOK CLUB)سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
فیس بک کمینٹ

