عامر  ذکاء الدینکالملکھاری

کیا امریکی الیکشن کے بعدایران کو بھی ٹرمپ نے ہیک کر لیا ہے؟۔۔عامر ذکاالدین

چار روز سے ایران ہنگاموں کی زد میں ہے۔متوسط طبقہ کے افراد نے ملک کےمتعددشہروں کو غیر یقینی صورت حال سے دو چارکردیا ہے۔اگر چہ عام تاثر یہ ہے کہ احتجاج اور ریلیوں کا مطالبہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائ کے خلاف ہے۔تاہم ہنگاموں کی وجہ پر مبصرین کی آراء منقسم ہیں۔ایک خیال یہ ہےکہ بدعنوانی اور بری گورنرنس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا شکار ہوئے۔اور سڑکوں پر نکل آئے ۔ مشہد میں ایک ماہر تعلیم نے میڈیا کو بتایاکہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کا طرز حکومت آمرانہ ہےاور غریب عوام غربت سے عاجز آچکے ہیں۔ اس حد تک تو بات قابل غور ہے مگر یہ کیسی تحریک ہے جس میں لیڈر کوئی انسان نہیں بلکہ ایک مواصلاتی کمپنی کی موبائل ایپ ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹیلی گرام نامی موبائل ایپلیکیشن کے متعدد چینل ایران کے عوام میں بہت مقبول ہیں اور مختصر وقفوں کے بعد اس پر صارفین احتجاج کے نت نئی تجاویز شیئر کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایران کی حکومت نے ٹیلیگرام کی سروس معطل کر دی ہے، مگر یہ سوال بہر حال موجود ہے کہ عوام میں بے چینی اتنی تیزی سے مظاہروں میں شدت کا باعث بنے گی اس کے عوامل اھی تک سمجھ سے باہر ہیں۔
آئی ایم ایف کے ماہرینِ معاشیات کا کہناہےکہ ایران میں بنکنگ کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔اور ملک کے معروف بنک کسی بھی وقت دیوالیہ ہوسکتے ہیں ۔
ایک تجزیہ کار کا خیال ہے۔کہ ایران اور امریکہ میں جوہری معاہدہ کے بعد لوگوں نے معاشی خوشحالی کی بہت ذیادہ امیدیں لگائی تھیں۔مگرامریکہ کی جانب سے مسلسل بدعہدی مایوسی کا سبب بن رہی ہے۔ مشہد میں “نظر” نیوزایجنسی کے مدیر قائم پرویز کا خیال ہےکہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ کی رپورٹنگ تعصب کا شکارہے۔
وجہ کچھ بھی ہوگزشتہ چار روز سے ایران مظاہروں کی لپٹ میں ہے اور وہ بھی بغیر کسی سرکردہ راہنما کے۔ تجزیہ نگار بدامنی اور مظاہروں میں غیر معمولی شدت کی وجہ سمجھنے سے قاصر ہیں – کیا یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہو سکتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کے زور پر لوگوں کو حکومت کے خلاف منظم کیا جارہا ہو؟
امریکہ میں فوکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ایران میں بدامنی کے دوران حکومت مخالف مظاہرین کی مالی معاونت بھی کی جائے اور یہ موقع یاتھ سے نہ جانے دے۔
یا د رہے اس سے پیشتر امریکی صدر ٹرمپ امریکی انتخابات کو ہیک کرنے کے الزامات کی زد میں ہیں اور یہ گمان غلط نہ ہو گا کہ ایران میں بڑھتی بے چینی کے پیچھے بھی ٹیکنالوجی کارفرما ہے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے حریفوں کو چت کرنے میں کوئی بھی حربہ استعمال کر سکتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker